پاکستانی وزیراعظم عمران خان 429

آرمی چیف سے ملاقات، پھروزیراعظم عمران خان چھٹی پر کیوں گئے؟

عبیداللہ عابد۔۔۔۔۔۔
ہمارے بعض دانشور، کالم نگار جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے پلان “اے” کے بعد پلان “بی” کی طرف جانے کو ان کی شکست پر محمول کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مولانا فضل الرحمن شکست کھاچکے ہیں یا مذکورہ بالا کالم نگار، دانشور حکمران جماعت کے ڈائون مورال کو بلند کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟

مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کی صورت میں 31 اکتوبر2019 کو اسلام آباد میں پہنچنے کا اعلان اور پھر ڈیڑھ دو لاکھ لوگوں کو اسلام آباد میں جمع کرکے بہت سوں کو حیران کردیا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے تمام بڑے چھوٹے دعوے کرتے رہ گئے کہ مولانا فضل الرحمن اسلام آباد نہیں پہنچ سکیں گے، یا انھیں پہنچنے نہیں دیاجائے گا۔ جب مولانا پہنچ گئے تو کہاگیا کہ ان کے ساتھ تعداد بہت کم ہے، صرف بیس، تیس ہزار لوگ ہیں۔ اس مرحلے پرانٹیلی جنس ایجنسیاں 70 سے 80 ہزار کی حاضری رپورٹ کررہی تھیں، یادرہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں ہمیشہ اصل تعداد کو تین ،چار گنا کم کرکے بتاتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ نے سب سے زیادہ حیران یوں‌ کیا کہ کراچی سے اسلام آباد تک مکمل طور پر پرامن رہا، اس کے شرکا نے کسی جگہ پر ایک کنکر بھی کسی پر نہیں اچھالا۔ لاہور میں مولانا کے جلسہ کے عین درمیان میں میٹروبسیں چلتی رہیں۔ اسلام آباد میں بھی وہ جتنے دن بھی رہے، انھوں نے عام زندگی کو متاثر نہیں کیا۔ یہ حکومت ہی تھی جس نے پورے اسلام آباد کو کنٹینروں سے بند کررکھاتھا۔ مولانا کا یہ منفرد احتجاج ہماری تمام جماعتوں کے لئے ایک سبق ہے کہ ایک بڑا اور موثر احتجاج ایسے بھی ہوسکتاہے۔

مولانا اسلام آباد پہنچے تو انھوں نے کچھ ایسی باتیں کہیں جن پر پاک فوج کے ترجمان نے اپنا ردعمل ظاہر کردیا، حالانکہ مولانا نے اپنا روئے سخن براہ راست فوج کی طرف نہیں کیا تھا۔ ترجمان کے جواب میں مولانا نے بھی ہلکاپھلکا سا ردعمل دیا تاہم بعدازاں دونوں اطراف سے رابطے ہوئے اور اصلاح احوال کا راستہ اختیار کیاگیا۔ چنانچہ پاک فوج کے ترجمان نے بیان جاری کیا کہ مولانافضل الرحمن سینئر سیاست دان ہیں، وہ اسی قدرمحب وطن ہیں جتنا کہ ہم(یعنی فوج) اور یہ کہ دھرنا حکومت اور اپوزیشن کا آپس کا معاملہ ہے، فوج کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

کہاجاتاہے کہ وزیراعظم عمران خان کو لانے والوں نے اس مرحلے پر سوچا کہ صفرکارکردگی والی حکومت کا کس حد تک دفاع کیا جائے گا، اس کے بعد انھوں نے حکومت سے فاصلہ پیدا کرلیا تاکہ آنے والے وقت میں اگرعمران خان کو استعفیٰ دیناپڑے تو کم ازکم اس کے بعد کے سیٹ اپ کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ برقرار رہے۔

اب اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے تجزیہ نگاروں نے بھی واضح طور پر کہنا شروع کردیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے حکومت سے فاصلہ پیدا کرلیاہے اور عمران خان حکومت کمزور سے کمزورتر ہورہی ہے۔ اے آر وائی والے تجزیہ نگار صابرشاکر نے خبر دی کہ آرمی چیف اور وزیراعظم کی ملاقات ہوئے ایک طویل عرصہ بیت چکا ہے۔انھوں‌نے لکھا “اب یہ ملاقات جب بھی ہوگی، کافی اہم ہوگی کیونکہ اب کوئی کسی دوسرے کا وزن اٹھانے کو تیارنہیں۔ نہ وزن اٹھانے کی ماحول اجازت دیتاہے”۔

کامران خان نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا:
“ریاست متحرک ہوتو جو ہو رہا ہوتا ہے نظر نہیں آتا، جو نظر آرہا ہو وہ ہو نہیں رہا ہوتا۔ یہ جادو نہیں کہ نواز، شہباز، مریم کو اب حکومت سے شکایت نہیں۔ بلاول آسانی سے دادو ضمنی الیکشن جیتے۔ مراد شاہ گرفتاری اور سندھ میں پی پی حکومت گرنے کے خوف سے آزاد ہیں۔ رہ گئے مولانا وہاں بھی پیش رفت ہے”۔ اگر کوئی کامران خان کی ٹویٹ کی معنویت کو نہیں پہنچ سکا تو وہ لفظ “ریاست” کی جگہ “اسٹیبلشمنٹ” لگالے۔

پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد بالخصوص جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان اس صورت حال کو اپنی کامیابی گردان رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اس وقت سب سے بڑے اپوزیشن لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں، پچھلے نصف ماہ سے زائد عرصہ سے پاکستان میں جس شخصیت کے بارے میں سب سے زیادہ سوچا گیا، بولاگیا، لکھاگیا، وہ مولانا فضل الرحمن ہی ہیں۔ ان کے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ کی بنیاد پر تجزیے ہوئے کہ عمران خان حکومت جارہی ہے یا نہیں۔

مولانا نے نہایت خوبصورتی سے اپنے تمام کارڈز کھیلے، وہ انھیں بھی دبائو میں لے آئے جنھیں کوئی دبائو میں‌نہیں لاسکتا۔ انھوں نے دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کو بھی مزید مشکل میں ڈال دیا جو پہلے ہی اپنے کیسز کی وجہ سے مشکل میں تھیں۔ رہی بات عمران خان حکومت کی، وہ گزشتہ دوہفتوں سے کنٹینروں کے پیچھے خوف و ہراس کا شکار ہے ۔

عمران خان کے حامی تجزیہ نگاروں کو تجزیہ کرتے ہوئے سوچنا چاہئے کہ اگر مولانا اپنے کارکنان کو لے کر ڈی چوک پہنچ جاتے تو کیا اس کے نتیجے میں ایک شدید بحران پیدا نہ ہوتا؟ کیا اس کے بعد حالات جوں کے توں رہ سکتے تھے؟ کیا اس کے بعد عمران خان کے استعفیٰ کے بغیر کوئی راہ نکل سکتی تھی؟ یہ تو خیال ہی بچگانہ ہے کہ مولانا کو ڈی چوک پہنچنے ہی نہ دیاجاتا۔ اگر تحریک انصاف اور طاہرالقادری کے 35 ہزار لوگ ڈی چوک پہنچ سکتے تھے تو کیا جمعیت علمائے اسلام کے ڈیڑھ ، دولاکھ افراد کو وہاں تک پہنچنے میں کوئی مشکل پیش آسکتی تھی؟

مولانافضل الرحمن اس وقت پاکستان کے سب سے سینئر سیاست دان ہیں، تجربہ کار، انھوں نے تمام گرم سرد حالات دیکھ رکھے ہیں، وہ بخوبی ایک واضح ذہن رکھتے ہیں کہ انھیں کیا اور کیسے حاصل کرنا ہے۔ اپنی حکمت عملی میں وہ کم ہی ناکام ہوئے۔ اگرچہ انھیں پلان “اے” کے تحت وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ نہیں ملا لیکن کچھ ایسا ملا ہے جو استعفیٰ جیسا ہے۔ ان کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ استعفیٰ لینا ہے یا استعفیٰ جیسا کچھ۔

مولانا کی کامیابی ہے کہ انھیں “استعفیٰ جیسا” کچھ ثمر مل چکا ہے۔ یہ “استعفیٰ جیسا” کیا ہے؟ یہ ایک ایسا کیک ہے جس میں مولانا کو بھی حصہ ملے گا، ن لیگ کو بھی، قاف لیگ کو بھی، پیپلزپارٹی کو بھی اور دیگر کو بھی۔ پی ٹی آئی کو ایسا حصہ ملے گا کہ وہ شدید ناراضی کا اظہار کرے گی۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان دو دن کی چھٹی پر بنی گالہ چلے گئے ہیں۔ ان دو دنوں میں وہ کسی سے ملیں گے نہ کسی کا فون سنیں گے۔ انھوں نے گھرجانے کا فیصلہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات کے بعد کیا۔ کہاجارہا ہے کہ عمران خان کسی صدمہ کا شکار ہوئے، وہ کافی مایوس اور ناراض لگ رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کو دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ وہ سب سے بڑے اپوزیشن لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں، اور ان کے کارکن کا مورال اس وقت آسمان کی بلندیوں کو چھورہاہے، وہ نئے انتخابات کی تیاری میں مصروف ہوچکا ہے۔اس کے باوجود اگرکوئی کہتا ہے کہ مولانا ناکام رہے ہیں تو اس کی معلومات ناقص ہیں یا پھر وہ کسی تعصب کا شکار ہے۔ یادرہے کہ تعصب انسان سے درست تجزیہ کی صلاحیت چھین لیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں