983

ایک سے زائد بیویوں کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی، کیسے؟

رعنائی خیال : ڈاکٹررابعہ خرم درانی

فی زمانہ جیسے پہلا نکاح مشکل ہے اسی طرح دوسرا نکاح بھی ناممکنات میں شامل ہوچکا ہے۔عقدثانی چاہے مرد کرے یاعورت، دونوں کے لیے ہی معاشرے میں حقارت کی نظر پائی جاتی ہے۔ دوسری شادی کرنے والا شخص شوقین اور تیسری، چوتھی والا ’عیاش‘ کہلاتا ہے۔ اسی طرح ایک خاتون کسی کی دوسری بیوی بننا چاہے تو وہ ’غاصب‘ کہلائے گی اور بیشتر کیسز میں خود کو غاصب ثابت بھی کرے گی۔ بے شک اس خاتون کی یہ پہلی شادی ہو یا دوسری یا پھر تیسری، شوہر کے لیے وہ ’نئی عورت‘ ہی ہوتی ہے، وہ ایک بچے کی مانند نیا کھلونا پا کر پرانے کو فراموش کر بیٹھتا ہے، انصاف کرنا بہت دور کی بات ہے۔
۔پہلی بیوی کی کیفیت شوکت واسطی کے اس شعر جیسی ہوتی ہے
شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا

ایک معزول ملکہ اگر علیحدگی اختیار بھی کرے تو جلاوطنی اس کا نصیب ٹھہرتی ہے، ساتھ رہے تو بھی اس کے روز و شب زنداں ہی میں گزرتے ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پہلی اکلوتی بیوی شوہر پر سو فیصد تصرف رکھتی تھی، دوسری خاتون کے آنے کے بعد اسے پچاس فیصد کی کمی اپنی حق تلفی محسوس ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ پہلی خاتون کو معاشی طور پر تنگی کا ذرا سا احساس بھی نہ ہونے دیا جائے، مہینے کے چار ہفتوں میں سے دو دو کی تقسیم کی جائے، تین بیویوں کی صورت میں دس دس دن اور چار کی صورت میں ہر ایک کے لیے ایک ہفتہ۔ ذہن میں رکھیں کہ پہلی بیوی ہر نئی شادی کے بعد اپنی شروع کے معمول سے کم وقت اور کم توجہ پا رہی ہوگی، ایسی صورت میں اس کی دل جوئی کا خاص اہتمام کیا جائے۔
دراصل حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ ایک سے زائد شادیاں کرنا ان کا حق ہے لیکن ایسی کسی صورت میں وہ پہلے سے موجود فیملی (بیوی بچوں) کی جذباتی کیفیت اور خوف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ گلے شکوے شکایات اسے ہی ہوں گے، اس لئے انہیں کشادہ دلی سے سنیے اور تالیف قلب کا خاص خیال رکھیے۔ ایک بیوی کی بات دوسری کے سامنے مت کیجیے، نہ تعریف نہ بدتعریفی۔ مقابلہ کسی کو پسند نہیں ہوتا اس سے بچیں۔ جس لمحے جس کے ساتھ ہوں اسی کے ہو کر رہیں، اپنا رویہ ایسا رکھیں کہ ہر بیوی اوراس کے بچے آپ کے آنے کا انتظار کریں نہ کہ جانے کے دن گنیں۔ تمام بچوں پر شفقت بڑھا دی جائے، ان کی تعلیم و تربیت میں والد کا حصہ کم نہ ہونے دیا جائے، گھر کو آدھا آدھا کرنے کی بجائے پہلے جیسے دو گھر بنا دیے جائیں، پھر تو کچھ مداوا ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ دو شادیوں کا خواہش مند شخص اپنی بیٹیوں کی تربیت میں بھی اس چیز کا خیال رکھے کہ اس کا داماد بھی بعینہ چار شادیوں کا حق رکھتا ہوگا سو بیٹی کو اس کے لیے ذہنی طور پر تیار رکھے۔
میرے مشاہدے میں دوسری تیسری شادی کے جتنے بھی کیسز آئے سب میں دوسری، تیسری، چوتھی جگہ پر کم عمر کنواری خواتین کو ہی ترجیح دی گئی۔عموماً جتنے لوگ گھر میں اس نیت سے روشن دان بنواتے ہیں کہ اذان کی آواز واضح آئے گی اس سے بھی کم لوگ دوسری شادی بیوہ اور یتیم کو سہارا دینے کے لیے کرتے ہیں۔ جس خاتون کی دوسری شادی تھی اس کے پہلے بچے قبول نہیں کیے گئے۔ عموماً ایسی بٹی ہوئی عورت کی دوسری شادی بھی ناکام ٹھہری کیونکہ اولاد اور شوہر میں توازن قائم نہ ہوا۔ ایسے کیس میں شوہر اپنے بچوں سے محروم نہیں ہوتا لیکن خاتون کو اپنے بچوں سے دور کر دیا جاتا ہے۔ عموماً وہ اپنے پہلے بچوں سے اس طرح چھپ کے ملتی ہے جیسے گناہ کر رہی ہو۔
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ بیوہ یا مطلقہ کے لئے کون سا راستہ بہتر ہے نکاح کا حفاظتی حصار یا پھر ظالم سماج کے رحم و کرم پر زندگی بسرکرنا؟ ظاہر ہے کہ اچھا برملے تو شادی کرنا ہی بہتر ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ’بر‘ اچھا ہے یا برا؟ کیسے پتہ چلے گا؟ کیونکہ ’بر‘کی اچھائی کا صحیح علم تو واسطہ پڑنے پر ہی ہوتا ہے، پہلے تو سب اچھے ہی ہوتے ہیں، بعد میں اصلیت کھل کر سامنے آتی ہے، ایسے میں کیا کیاجائے؟ ایسی صورت میں درج ذیل نکات ذہن میں رکھے جائیں:
شادی سے پہلے اچھے بر کا ہم کفو ہونا، معاشی طور پر ،خاندانی نصب میں، تعلیم میں ،حسن صورت ،حسن سیرت و کردار جتنا تحقیق سے پتا چل سکے۔ اگر خاتون کی پہلی اولاد ہے تو اس کے بارے میں تفصیلات طے کر لی جائیں۔
اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ مرد مطلقہ یا بیوہ سے شادی کا خواہش مند کیوں ہے؟ کیا صرف سہارا دینے کے لیے یا سنت پر عمل کا ارادہ ہے یا اولاد کے حصول کی خواہش یا دولت مند بیوی کی معاشی حیثیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے۔ اگر خواہش مند مرد کے پہلے بیوی بچے موجود ہیں تو ان کے ساتھ اس مرد کا رویہ دیکھ اور سمجھ لیا جائے۔سب کچھ انسانی تحقیق کی حد تک قابل قبول لگے تو استخارہ کرکے قدم بڑھایا جائے۔

.یاد رکھیے! شادی شرعاً اور قانوناً جائز ہے پہلی ہو یا دوسری،تیسری یاچوتھی اس لیے اس کا باقاعدہ اعلان کیا جائے۔ جو مرد آج آپ کو عقد میں لے رہا ہے اور اس کا اعلان نہیں کرتا کل وہ آپ کو خاموشی سے چھوڑ بھی سکتا ہے۔ نقصان میں سراسر خاتون رہے گی۔ والدین سے چھپ کر کیا جانے والا نکاح جائز بھی ہو تب بھی اس میں برکت کم ہی دیکھی ہے۔
والدہ ایک کہانی سنایا کرتی تھیں کہ ایک جاٹ اپنی محبوبہ کو رات کے اندھیرے میں بھگا کر لے جا رہا تھا۔ جلد از جلد دور نکل جانے کی خاطر جٹی کے گھر میں تھان پر بندھی گھوڑی پر سوار ہو کر گھر سے نکلے۔ کچھ راستہ طے کر کے گھوڑی اَڑی کرنے لگی یعنی آگے جانے سے انکاری ہوگئی۔ جٹ نے محبوبہ سے پوچھا کہ یہ گھوڑی ایسا کیوں کر رہی ہے، ظاہر ہے کہ جٹی کے گھر پیدا ہوئی گھوڑی کی عادات وہ بہتر جان سکتی تھی۔ محبوبہ نے فوراً جواب دیا:
” اس کی ماں بھی ایسی تھی“
اب محبوب نے گھوڑی کو پچکار کر رام کیا اور محبوبہ کو واپس اس کے گھر اتار گیا۔ محبوبہ مجسم سوال تھی کہ ایسا کیوں؟ محبوب نے جواب دیا:
” میں نہیں چاہتا کہ کل جب تم سے تولد میری بیٹی جوان ہوکر گھر سے بھاگے تو کوئی یہ کہے:” اس کی ماں بھی ایسی تھی“
شادی عزت کے لیے کی جاتی ہے، یہ نسلوں کا معاملہ ہے، اسے خفیہ رکھ کر بے وقار مت کیجیے۔ شادی افزائش نسل کے لیے کی جاتی ہے،.بچہ نہ ہونے کی شرط پر دوسری بیوی بننا گوارا مت کیجیے۔ آپ انسان ہیں ’چیز‘ نہیں۔ عورت معاشی طور پر مستحکم ہو تو بہت سے فیصلے کرنا آسان ہو جاتے ہیں اور نبھانا بھی۔ اس لیے بیٹیوں کو پڑھائیں بھی اور انھیں جائیداد میں ان کا حصہ بھی ضرور دیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں