بلدیہ فیکٹری، کراچی جلائے جانے کے بعد 106

بلدیہ فیکٹری جے آئی ٹی رپورٹ: آگ لگنے کی پوری کہانی سامنے آگئی

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت کی جانب سے صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں 2012 کے دوران لگنے والی آگ کی جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر لائی گئی ہے۔

ابتدا میں سندھ کی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر اس جے آئی ٹی رپورٹ تک رسائی مشکل رہی۔ لیکن اب یہ مکمل طور پر بحال ہوچکی ہے۔

بی بی سی کے پاس جے آئی ٹی رپورٹ کی دستخط شدہ کاپی موجود ہے جس میں واقعے کی تفصیل کے علاوہ بلدیہ فیکٹری مالکان سمیت دیگر ملزمان کے بیانات درج ہیں۔

فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے پر بنائی گئی جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ نہیں ’دہشتگردی‘ تھی اور مبینہ طور پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ’ایما پر ایم کیو ایم کے کارکنوں نے یہ اقدام اٹھایا تھا۔‘

جے آئی ٹی نے پولیس کی تحقیقات پر بھی کئی سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ تحقیقات غیر پیشہ وارانہ طریقے سے کی گئی۔

بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزدگی کا واقعہ
کراچی کے علاقے بلدیہ میں حب ریور روڈ کے قریب واقع ڈینم فیکٹری میں 11 ستمبر 2012 کو آگ بھڑک اٹھی تھی، جس میں جھلس کر 259 مزدور ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔

واقعے کے ڈھائی برس بعد یعنی جون 2015 میں بنائی جانے والی اس جے آئی ٹی کی رپورٹ پانچ برس بعد منظر عام پر آئی ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایف آئی آر ’بے ایمانی‘ سے دائر کی گئی اور اس میں اندرونی و بیرونی دباؤ کا عمل دخل رہا جس نے ’دہشتگردی‘ کے واقعے کو ایک عام قتل کی شکل دی۔

’لہٰذا پہلے سے دائر ایف آئی آر واپس کی جائے اور نئے سرے سے ایف آئی درج کی جائے۔‘

نئی ایف آئی آر میں رحمان بھولا، حماد صدیقی، زبیر چریا، چار نامعلوم ساتھیوں، عمر حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار، علی حسن قادری، اقبال ادیب خانم کو شامل کیے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔

25 کروڑ روپے ’بھتے‘ کا مطالبہ
رپورٹ کے آغاز میں فیکٹری کا نقشہ بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 47 ہزار کے قریب سکوائر یارڈز پر قائم اس فیکٹری میں بیسمنٹ، گراؤنڈ، میزنائن اور ان کے علاوہ ایک اور منزل تھی۔

گراؤنڈ فلور میں ویئر ہاؤس اور واشنگ ایریا تھا، میزنائن پر لکڑی کا فلور تھا جس پر لوہے کے گاڈر تھے، فرسٹ فلور پر ’سٹچنگ یونٹ‘ اور دوسری منزل پر بھی ایسا ہی یونٹ تھا۔

جے آئی ٹی کے سامنے علی انٹرپرائز کے مالکان ارشد بھائیلہ اور شاہد بھائیلہ نے دبئی میں بیان ریکارڈ کروایا کیونکہ دونوں بھائی واقعے کے چند ماہ بعد دبئی منتقل ہو گئے تھے۔

مالکان کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملات کئی ماہ سے زیر بحث تھے۔ بیان کے مطابق واقعے سے دو تین ماہ قبل مئی، جون سنہ 2012 کو شاہد بھائیلہ نے ایم کیو ایم بلدیہ سیکٹر کے انچارج اصغر بیگ کے بھائی ماجد بیگ سے پروڈکشن مینیجر منصور کے دفتر میں ملاقات کی۔

ماجد نے کہا کہ سیکٹر انچارج اب ہم سے کروڑوں روپے لینے کی بات کر رہے ہیں۔ بھائیلہ کے مطابق انھوں نے اس کو ’بھتے میں اضافے کی کوشش‘ سمجھ کر نظر انداز کیا۔

اسی عرصے میں اصغر بیگ کو ہٹا کر رحمان بھولا کو بلدیہ سیکٹر کا انچارج مقرر کیا گیا۔

جولائی میں رات کو وہ فیکٹری کے پروڈکشن مینیجر محمد منصور کے دفتر میں گئے۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ رحمان بھولا اور ماجد بیگ موجود ہیں تو کچھ کہے بغیر واپس آ گئے۔

’جب ہم فیکٹری سے نکل رہے تھے تو رحمان بھولا نے کار کے سامنے آ کر دھمکی دی کہ بھتے کا معاملہ حل کریں اور ایم کیو ایم کی کراچی میں تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی سے رابطہ کریں۔ اس نے 20 کروڑ روپے یا فیکٹری میں حصہ دینے کی بات بھی کی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے پروڈکشن مینیجر محمد منصور کو طلب کیا اور کہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے تو اس نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس سے نمٹ لیں گے لیکن ہم نے محسوس کیا کہ منصور خاموش اور مضطرب ہے تو ہم نے اسے ایک کروڑ روپے دیے اور کہا کہ جاؤ معاملہ حل کر لو۔

’اس کے بعد کئی بار منصور سے اس بارے میں پوچھا گیا لیکن وہ کوئی جواب نہیں دے سکا۔‘

پروڈکشن مینیجر محمد منصور نے جے آئی ٹی کو دیے گئے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج کا فیکٹری معاملات میں اثر و رسوخ تھا۔

انھوں نے بتایا کہ زکوٰۃ اور فطرانے کے نام پر فیکٹری مالکان سے بھاری رقم لی جاتی تھی، کٹ پرائس فیس کے علاوہ پارٹی کے چندے کے نام پر رقم حاصل کی جاتی تھی اور ملازم رکھنے اور فارغ کرنے میں بھی ان کا کردار تھا۔

منصور کے مطابق 20 جولائی کو سیکٹر انچارج رحمان بھولا ان سے ملنے آئے تھے اور اس وقت ارشد بھائیلہ اور شاہد بھائیلہ جا چکے تھے۔

دوسرے روز انھیں مالکان نے بتایا کہ رحمان بھولا نے تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کے لیے 25 کروڑ روپے بھتہ طلب کیا ہے۔

’مالکان پریشان تھے۔ انھوں نے ایک کروڑ روپے میرے حوالے کیے تاکہ میں معاملات نمٹا دوں۔ میں نے کوشش کی لیکن رحمان بھولا 20 کروڑ روپے سے کم لینے کے لیے تیار نہ تھا، اس نے متنبہ کیا کہ اگر سیکٹر کو بھتہ نہ ملا تو فیکٹری اور مالکان کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ ے گا۔‘

محمد منصور نے مجسٹریٹ کو دیے گئے بیان میں بھی اسی مؤقف کو دہرایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فیکٹری کا کاٹن ویسٹ عبداللہ میمن اور عرفان بیگ، ماجد بیگ کی معرفت اٹھاتے تھے بعد میں انھوں نے یہ کانٹریکٹ اپنی بھتیجی فریال کو دیا جس پر عبداللہ میمن سے تلخ کلامی ہوئی۔

‘وسیم دہلوی جس کا ایم کیو ایم کے ساتھ تعلق تھا وہ اکثر فیکٹری آتا تھا اور بطور عیدی فیکٹری سے پینٹس اور رقم وصول کرتا تھا اس کے علاوہ وہ ایم کیو ایم کے لیے زکوۃ اور فطرانہ بھی لے کر جاتا جو میں مالکان سے لے کر اس کو دیتا تھا۔

زبیر فنیشنگ ڈپارٹمنٹ میں کام کرتا تھا، وہ ایم کیو ایم کا کارکن بھی تھا اور وہ فیکٹری کے ملازمین کے معاملات بھی دیکھتا تھا۔

’یہ پارٹی پالیسی ہے‘
ملزم رضوان قریشی نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ پارٹی کے مرکزی رہنما حماد صدیقی نے فرنٹ مین رحمان بھولا کے ذریعے 20 کروڑ روپے بھتہ مانگا تھا۔

فیکٹری مالکان نے اس سے بلدیہ کے سیکٹر انچارج اصغر بیگ کو آگاہ کیا جو اپنے بھائی ماجد بیگ سمیت انھیں عزیز آباد میں نائن زیرو لے گئے جہاں وہ کراچی تنظیمی کمیٹی یعنی کے ٹی سی کے سربراہ حماد صدیقی اور فاروق سلیم سے ملے اور بتایا کہ مالکان پارٹی کے ہمدرد ہیں اور انھیں بھتے کے بارے میں آگاہ کیا۔

اسی دوران ان میں تلخ کلامی ہوئی، حماد صدیقی اور فاروق نے اس کو ’پارٹی پالیسی‘ قرار دیا اور مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔

کچھ دنوں بعد حماد صدیقی نے سیکٹر انچارج اصغر بیگ کو معطل کر دیا اور جوائنٹ سیکٹر انچارج رحمان بھولا کو سیکٹر انچارج بنا دیا اور رحمان بھولا کو 20 کروڑ روپے بھتہ وصول کرنے کا حکم دے دیا۔

آگ کیسے لگی؟
جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیم نے فیکٹری کے سات دورے کیے۔

اکاؤنٹنٹ عبدالمجید نے اپنے بیان میں ٹیم کو بتایا کہ ساڑہ آٹھ بجے کے قریب شاہد بھائیلہ نے دفتر سے فائل لانے کے لیے کہا جو گودام کے ویئر ہاؤس کے قریب واقع تھا۔

اسی دوران اس نے ایک عجیب سے بو محسوس کی جو اس سے قبل کبھی محسوس نہیں کی تھی وہ دفتر سے باہر آیا تو اس نے آگ کی چنگاریاں دیکھیں اور پلک جھپکنے میں شعلے بلند ہوگئے۔ وہ خوف زدہ ہوگیا اور ایڈمنسٹریشن بلاک کی طرف بھاگا۔

ڈائریکٹر سٹاف کے ساتھ پہنچا اور حکم دیا کہ مین سوئچ آف کر دیں تاکہ شارٹ سرکٹ سے بچا جا سکے۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں گرمائش اس قدر تھی کہ کھڑا ہونا دشوار تھا۔

پروڈکشن مینیجر محمد منصور نے بھی اس بیان کی توثیق کی اور جے آئی ٹی کو بتایا کہ 11 ستمبر کو وہ ارشد اور شاہد بھائلہ کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ عبدالمجید چلایا کہ فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے جب دفتر سے باہر آئے تو آگ پھیل چکی تھی عبدالمجید کو فائر بریگیڈ لانے کے لیے بھجوایا گیا جو ڈیڑھ گھنٹہ گزرنے کے نہیں پہنچی۔

فیکٹری کے گیٹ کیپر ارشد محمود نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ وہ تقریباً رات کو آٹھ بجے فیکٹری کے فینیشنگ ڈپارٹمنٹ میں ملازم زبیر عرف چریا سے ملے۔

اس وقت زبیر پانچ دیگر لوگوں کے ساتھ تھا جن میں وسیم دہلوی بھی شامل تھے جبکہ دیگر کو وہ نہیں جانتا۔

‘زبیر نے کہا کہ انھیں واش رومز کی طرف لے جاؤ کچھ دیر کے بعد زبیر بھی آ گیا اور اس نے سگریٹ میں بھری ہوئی چرس دی۔ چونکہ فیکٹری میں سگریٹ پینا منع ہے تو میں ڈر گیا کہ کوئی رنگے ہاتھوں پکڑ کر انتظامیہ کے حوالے نہ کر دے۔

‘زبیر نے سیاہ رنگ کے لفافے اپنے دوستوں کو دیے (جس میں کوئی مواد موجود تھا)، جو زبیر نے ویئر ہاؤس میں پھینکے۔۔۔ دس سیکنڈ میں آگ بھڑک اٹھی۔ تمام افراد ویئر ہاؤس سے نکل گئے۔‘

جے آئی ٹی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ارشد محمود نے 15 سے 20 ملازمین کے ساتھ آگ بجھانے کی کوشش کی لیکن آگ قابو سے باہر ہوگئی۔ اس نے دوبارہ دو تین منٹ کے بعد زبیر کو دیکھا جب آگ دوسری منزل پر پہنچ گئی تو اس نے مالکان کو یہ کہتے سنا کہ سامان نہ بچاؤ لوگوں کی زندگیاں بچاؤ۔

جے آئی ٹی کو دیے گئے بیان میں ارشد محمود نے مزید کہا کہ وہ فیکٹری کے دوسرے بلاک کی طرف دوڑے لیکن سیکنڈ فلور پر سیڑھیوں کا راستہ بند تھا جبکہ کینٹین کی طرف جانے والے دروازے بھی بند تھا، کسی نے اس کو کنیٹین کی چابی دی اور جب اس نے دروازے کھولا تو حیران ہوا کہ زبیر اور کچھ اجنبی موجود تھے۔

پروڈکشن مینیجر محمد منصور نے بھی اپنے بیان میں اس صورتحال کی تصدیق کی اور کہا کہ فیکٹری ورکرز کاشف اور شانی نے زبیر اور وسیم دہلوی کو چند اجنبیوں کے ساتھ گودام میں دیکھا جہاں آگ بھڑکی تھی اور کچھ ملازمین نے انھیں چھت پر بھی دیکھا۔

جے آئی ٹی نے اپنے رپورٹ میں بیان کیا ہے کہ فیکٹری کے دروازہ بند نہیں رہتے تھے سوائے گودام کے جہاں سے ڈینم کی منتقلی ہوتی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فیکٹری سے محفوظ نکلنے والے مزدوروں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

مالکان پر مقدمہ
سی ٹی ڈی پولیس نے چھاپہ مارکر کر اصغر کے بھائی ماجد بیگ کو گرفتار کرلیا ایم کیو ایم الطاف کے دباؤ کے بعد مالکان نے بیان دیا کہ ماجد اس میں شامل نہیں ہے جس کی بنیاد پر اس کو رہا کردیا گیا۔

رضوان قریشی نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے حکم پر ایم کیو ایم کے سابق صوبائی وزیر تھانے گئے اور فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ درج کروایا اور مالکان نے ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کر لی لیکن مبینہ طور پر سابق صوبائی وزیر نے اپنا رابطہ استعمال کرکے ان کی ضمانت منسوخ کرا دی۔

بقول ان کے سابق وزیر اعظم نے پنجاب سے ضمانت کرانے میں مدد کی لیکن ایم کیو ایم کی مداخلت کے بعد سابق وزیر اعظم پیچھے ہٹ گئے۔ رضوان کا کہنا ہے کہ انھیں یہ تمام باتیں سابق سیکٹرانچارج نے بتائیں۔

یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیکٹری آتش زدگی کیس میں ایم کیو ایم کے سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی کو بطور مرکزی ملزم کے شامل کیا تھا۔

فیکٹری مالکان کی ایم کیو ایم سے مفاہمت
جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ارشد بھائیلہ اور شاہد بھائیلہ مسلسل سخت دباؤ میں تھے اس لیے ایم کیو ایم سے مفاہمت کا فیصلہ کیا، دونوں بھائیوں نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ انھوں نے ایک جاننے والے شوکت خیام سے رابطہ کیا جو انھیں حیدرآباد میں تاجر محمد علی حسن قادری کے پاس لے گیا جس کا دعویٰ تھا کہ وہ اس وقت کے ایم کیو ایم اور موجودہ وقت پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی رہنما انیس قائم خانی کے قریب ہے۔

قادری نے کئی رابطوں کے بعد کہا کہ تمام معاملات نمٹا لیے جائیں گے۔ وہ فی ہلاکت ڈھائی لاکھ روپے اور فی زخمی ایک لاکھ روپے معاوضہ ادا کریں یہ رقم اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے جب تک ایم کیو ایم اپنے پاس سے یہ معاوضہ ادا کریگی، جس پر وہ راضی ہوگئے اور انھوں نے پانچ کروڑ 90 لاکھ روپے جمع کرا دیے۔

بھائیلہ برادران کا کہنا ہے کہ رابطے پر بتایا گیا کہ رقم انیس قائم خانی کو پہنچا دی گئی ہے اور بار بار رقم کے بارے میں دریافت کرنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں اس رقم کی انیس قائم خانی کے لے پالک بیٹے سمیت مختلف اکاؤنٹس میں منتقلی اور جائیداد کی خریداری کے بھی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جن میں حیدرآباد میں ایک بنگلے کی خریداری بھی شامل ہے۔

جے آئی ٹی کو درپیش مشکلات
جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کو ڈھائی سال کا عرصہ گزر چکا تھا، جائے وقوعہ سے شواہد مٹ چکے تھے اور مزید شواہد اکٹھے کرنے دشوار تھے اس کے علاوہ مقدمہ زیر سماعت تھا۔

جے آئی ٹی کے مطابق جائے وقوعہ سے جو شواہد حاصل کیے گئے تھے وہ ماہرانہ رائے کے لیے متعلقہ محکموں کو بھیجے ہی نہیں گئے تھے، کیا اموات کیمیکل کی وجہ سے ہوئیں اس کا کوئی پتہ نہیں لگایا گیا تھا، ویڈیو کیمرہ کے ڈی وی آر ریکارڈ کو محفوظ نہیں کیا گیا، اہم ڈیٹا ضائع ہونے کا خدشہ ہے، موبائیل فونز کی جیو فینسگنگ اور کال ڈیٹا ریکارڈر چھ ماہ سے قبل کی مدت تک دستیاب نہیں ہوتا۔

متاثرہ فریق کو ملزم بنا دیا گیا
جے آئی ٹی نے پولیس کی تحقیقات پر بھی کئی سوالات اٹھائے ہیں اور قرار دیا ہے کہ تحقیقات غیر پیشہ وارانہ طریقے سے کی گئی۔ یہ واقعہ روایتی پولیس کے کمپرومائیزڈ پولیسنگ کی مثال ہے جس میں ملزمان کو فائدہ پہنچایا گیا اور متاثرہ فریق کو ملزم بنا کر پیش کیا گیا۔

جے آئی ٹی نے بتایا ہے کہ بیرون ملک مفرور زبیر کے والد سے رابطہ کر کے ان کے بیٹے کا مؤقف معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے تعاون نہیں کیا۔

ٹیم نے ڈی جی پاسپورٹ کو زبیر کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کے لیے تین خط لکھے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

جے آئی ٹی نے مفرور ملزمان کو وطن واپس لانے کی انتظامات کرنے، ان کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی اور مزید کہا ہے کہ مفاہمتی رقم سے جو حیدرآباد میں بنگلہ خریدا گیا ہے اس کی رقم قانونی طریقے سے واپس کی جائے گا۔

جے آئی ٹی نے پولیس تحقیقات میں اصلاحات، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، سول ڈیفنس، لیبر ڈپارٹمنٹ میں بہتری لانے اور فیکٹری مزدوروں کو ایسی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت فراہم کی بھی سفارش کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں