ذوالفقار علی بھٹو 94

بھٹو صاحب ،امین احسن اصلاحی صاحب اور عسکری صاحب

محمود الحسن :

اس زمانے میں جب ذوالفقار علی بھٹو کے مخالفین یہ طے کر بیٹھے تھے کہ ان سے بہر صورت نجات حاصل کرنی ہے، خواہ اس کا نتیجہ ملک کے لیے کتنا ہی بھیانک کیوں نہ ہو، اس وقت معروف عالم دین مولانا امین احسن اصلاحی اور اردو کے ممتاز نقاد محمد حسن عسکری (جن کا اس وقت مذہب کی طرف بہت زیادہ رجحان تھا)، بالکل دوسرے رخ پر سوچ رہے تھے۔

ان کا خیال تھا کہ بھٹو مخالف مہم کے نتائج ملک کے حق میں نہیں جائیں گے، وہ صورت حال کا درست تجزیہ ایک تو اس لیے کر پائے کہ بصیرت ان کے پاس تھی، دوسرے بھٹو کے مخالفین کی طرح انھوں نے آنکھوں پر نفرت کے کھوپے نہیں چڑھا رکھے تھے ۔

امین احسن اصلاحی اور محمد حسن عسکری، دونوں عالم فاضل، دونوں کو بھٹو سے کچھ لینا دینا تھا نہ ہی ان کی سیاست سے۔ بس مستقبلِ مہیب کی ہیبت سے ڈر رہے تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے اگلے دن جاوید احمد غامدی اپنے استاد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھیں افسردہ پایا۔ شاگرد عزیز سے امین احسن اصلاحی نے کہا تو صرف اتنا کہ ’’مجھے بھٹو صاحب سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے لیکن جن احمقوں نے ایک قومی رہنما کو ختم کر دینے کا یہ طریقہ اختیار کیا ہے، وہ نہیں جانتے کہ اس طرح انھوں نے قومی سیاست میں مستقل عناد کی بنیاد رکھ دی ہے۔‘‘

محمد حسن عسکری کو بھٹو کی گرفتاری نے ہِلا کر رکھ دیا تھا۔ ان دنوں معروف نقاد اور عسکری کے دوست ڈاکٹر آفتاب احمد کی ان سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر آفتاب اپنی کتاب ” بیاد صحبت نازک خیالاں“ میں اس ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ میں نے عسکری کو اس قدر پژمردہ اور گرفتہ دِل اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ سوائے بھٹو کے انھوں نے اور کوئی بات نہیں کی ۔ مجھ سے پوچھا کہ کیا بھٹو بچ جائیں گے؟ میں نے کہا مجھے تو موجودہ حالات میں یہ مشکل نظر آتا ہے۔ مگر اس کا انحصار اس پر بھی ہے کہ لوگ کیا کرتے ہیں۔

انھوں نے فوراً مجھ سے سوال کیا کہ آپ کے خیال میں لوگ بھٹو کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور اجمل صاحب (ممتاز ماہر نفسیات اور عسکری کے دوست) کا کیا خیال ہے؟ میں نے جواب دیا کہ آخر بھٹو کے خلاف ملک میں کچھ مواد تو موجود تھا اور ساتھ ہی بتا دیا کہ اجمل کہہ رہے تھے کہ لوگوں میں کچھ (ambivalent) متضاد جذبات پائے جاتے ہیں۔

عسکری کو یہ بات کچھ اچھی نہیں لگی۔ چنانچہ انھوں نے کسی قدر جھنجھلا کر کہا کہ آپ اور اجمل صاحب جس قسم کے لوگوں سے ملتے ہیں ان میں متضاد جذبات پائے جاتے ہوں گے۔ میں تو ’گولیمار‘کے رہنے والوں سے ملتا ہوں۔ ان کے ہاں کوئی ایسے متضاد جذبات نہیں ہیں، وہ تو سب بھٹو کے ساتھ ہیں۔

عسکری نے ایک ترنگ میں آکر یہ کہہ تو دیا مگر میں ملاقات کے دوران سارا وقت یہ محسوس کرتا رہا کہ ان پر ایک گھٹا ٹوپ مایوسی کا عالم طاری ہے اور دل پرجیسے ایک بوجھ سا ہے۔ اس ملاقات کے دو مہینے بعد اچانک ان کا انتقال ہو گیا۔ ‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں