باپ، بیٹا گھر کا فرش صاف کرتے ہوئے 156

بیٹوں کی تربیت، چند گزارشات

ڈاکٹر جویریہ سعید:
چونکہ پہلی تحریر لکھی جاچکی ہے اس لیے اب مردوں کے گھریلو کام کاج میں ہاتھ بٹانے اور بیٹوں کی تربیت پر بات کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اور اعتراضات کرنے والوں سے گزارش ہے کہ گزشتہ پوسٹ پہلے پڑھ لیں۔

یہ بھی پڑھئیے: شریک حیات سے خوشگوار تعلقات، چندباتیں جاننا بہت ضروری ہیں

گھر کے مردوں کا گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانا برصغیر پاک و ہند میں عموماً معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں خواتین کی طرف سے باغیانہ قسم کی آوازوں پر تو کیا جائز قسم کے نرم اور ہلکے پھلکے مطالبات پر بھی حضرات ہی نہیں خود بہت سی خواتین کی طرف سے بھی ناگواری کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر کچھ حضرات گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہوں تو عموماً ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

مثلاً کھانے کے بعد دسترخوان سمیٹنا تو بڑی بات اپنی پلیٹ اٹھا کر رکھ دینا، اپنے کپڑے خود سنبھالنا، چائے بنا لینا، کھانا گرم کر کے خود نکال لینا، بچے چھوٹے ہوں تو ان کی دودھ کی بوتل یا کھانا تیار کردینا، بچوں کو باتھ روم تک لے جانا، اپنا بستر صاف کرنا، خاتون خانہ کی طبیعت ناساز ہو تو چھوٹا موٹا کھانا پکا لینا یا اگر وہ کھانا تیار کررہی ہوں تو ان کا ہاتھ بٹا لینا جیسے چھوٹے چھوٹے کاموں پر بھی بعض گھرانوں یا بعض افراد کی طرف سے تکلیف دہ باتوں یا رویوں کا اظہار بہت عام بات ہے۔

بدلتے ہوئے زمانے میں خواتین کے سماجی کردار میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ بہت سی خواتین جاب کرتی ہیں یا سماجی ذمہ داریاں بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ اور گھریلو ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

جو خواتین جاب کرتی ہیں ان کے لیے یہ دوہری ذمہ داریاں کبھی کبھی مشکل ہوجاتی ہیں اور جو خواتین گھر میں رہتی ہیں وہ گھر کی مصروفیت اور سوشل لائف نہ ہونے کی وجہ سے یکسانیت اور چڑچڑے پن کا شکار ہوتی ہیں۔

ایسے میں حضرات کا اپنی خواتین کی خدمتوں اور کاموں کی قدر کرنا ، اس کا اظہار کرنا اور جہاں ممکن اور ضروری ہو چھوٹے موٹے کاموں میں ہاتھ بٹانا کوئی معیوب بات نہیں بلکہ گھر کے معاملات کو احسن طریقے سے چلانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اس ضمن میں اپنے بیٹوں کی تربیت کرتے ہوئے چند رہنما اصول مد نظر رکھنے چاہییں:
گھر گھرانے کے سب افراد کا ہے، سب کی ذمہ داری ہے۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام خود کیا کرتے تھے اور گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔

جو بھی گھر کا کام کرتا ہے وہ ہمارے ساتھ نیکی کرتا ہے اور اس نیکی پر شکر گزاری کا احساس اور اظہار ضروری ہے۔

گھر کے کاموں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے سے کام سب کے لیے آسان ہوجائیں گے، گھر زیادہ صاف ستھرا اور منظم رہ سکے گا۔ اور
خود ہمیں مستقبل کے لیے لائف اسکلز سیکھنے کا موقع ملے گا۔ اور زندگی میی ہمارے کام آئے گا۔

ان اصولی باتوں کی یاددہانی کرواتے ہوئے چھوٹی عمر سے اپنی بیٹیوں کے ساتھ بیٹوں کو بھی گھر کے چھوٹے موٹے کام کاج کرنے میں شامل کرتے رہنا چاہیے اور انہیں چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں دینی چاہییں۔
مثلاً
دسترخوان لگاتے اور سمیٹتے ہوئے، بیٹے اور بیٹیاں دونوں متحرک ہوں اور امی جان کی مدد کریں۔ برتن اور کھانا چننا، میز صاف کرنا، دسترخوان بچھانا۔

کچن میں کام کرتے ہوئے دھیان رکھیں۔ اگر بچے کمپیوٹر یا کھیل میں بہت دیر سے مشغول ہیں تو انہیں ساتھ کچن میں اپنے ساتھ لگا لیا جائے۔ یہ مدد بہت چھوٹے کاموں میں ہوتی ہے۔ مثلاً
فریج میں سے یہ اور وہ سبزی نکال کر دیں۔
”اس شے کو اردو / انگلش میں کیا کہتے ہیں۔ “
مما کون سی چیز فریج یا پینٹری میں کہاں رکھتی ہیں۔
”فلاں برتن یا مسالے کا ڈبا نکال کردیجیے اور جانیے کہ اس کا نام کیا ہے، “
”کچن میں وہ کہاں رکھا ہوتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر آپ انجان لوگوں کی طرح پریشان نہ ہوتے پھریں۔ “

بچوں نے کسی مشکل چیز کی فرمائش کی تو ہم نے شرط لگائی کہ ساتھ لگ کر کام کرنا ہوگا۔ اب اگر ہم لزانیا بنا رہے ہیں تو بچوں کو علم ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی نے پنیر کدو کش کرنا ہے، کسی نے سبزی کاٹنے میں مدد کرنی ہے، یا برتن اور مسالہ جات نکالنے میں مدد کرنی ہے۔ اس طرح کچھ دیر کو سب کچن میں حاضری لگاتے ہیں۔

صبح سو کر اٹھنے کے بعد اپنا بستر صاف کرکے اسکول کو روانہ ہونا۔ ہمارے اپنے بڑے صاحبزادے تین سال کی عمر سے اپنا بستر صاف کرکے اور ننھا سا کمبل خود تہہ کر کے اسکول کو جایا کرتے ہیں۔ ناغے اور کوتاہیاں اب بھی ہوتی ہیں مگر یاددہانی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ جس بچے کا بستر صاف ہوتا ہے اس کو شاباشیاں ملتی ہیں اور جس کا کمرہ پھیلا ہو اس کا مذاق بنایا جاتا ہے۔ کبھی کبھی کمرے صفائی کے لیے بچوں میں تقسیم کردیے جاتے ہیں۔

گندے کپڑوں کے بارے میں اصول بہت سخت ہے اور اس اصول کے ٹوٹنے پر امی جان کی طرف سے بہت خفگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے سب کو علم ہوچکا ہے کہ میلے کپڑے اتارنے کے بعد کس ٹوکری میں کہاں رکھنے ہیں۔

خاندان ماشاءاللہ بڑا ہے، کپڑوں کے ڈھیر بڑی جلدی بن جاتے ہیں اور مما خود ہی کام والی بھی ہیں اس لیے لانڈری میں بچوں کی مدد ضروری ہے۔ بچوں کو علم ہے کہ کس طرح کپڑوں کے گروپ بناکر مشین میں ڈالے جاتے ہیں ۔امی جان کی نگرانی میں سب سے چھوٹے صاحبزادے ابراہیم تک اپنے کپڑوں کے ڈھیر مشین میں ڈال کر چلانا اور سکھانا جانتے ہیں اور کبھی بہ آسانی اور کبھی ذرا ڈانٹ کے ساتھ یہ کام کرتے ہیں۔

گھر کی صفائی ایک بڑا کام یے۔ کئی افراد کا بڑا سا گھر ہو تو صفائی ایک چیلنج ہوتی ہے۔ مسلسل کوشش کے بعد بچوں میں تقسیم ہوجاتا ہے کہ کون کس کمرے اور کس جگہ کا ویکیوم کرے گا، کون کہاں کی جھاڑو لگائے گا۔ مما موپ کریں گی۔ باتھ رومز کے کام بھی تقسیم کیے گئے ہیں اگرچہ ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ مگر زیادہ برے حالات ہوجائیں تو ایمرجنسی نافذ کردی جاتی ہے اور سب شرافت سے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔

گھر میں تین طرح کے کچرے کے بنز ہیں جو تین بیٹوں میں تقسیم ہیں۔ گرین بن، بلیک بن اور ری سائیکل۔ کوئی بن بھر جائے تو متعلقہ فرد کو آواز دی جاتی ہے کہ آپ نے کام نہیں کیا۔

اپنی چیزیں استعمال کے بعد خود جگہ پر رکھنا۔ یہ اچھا خاصا سامان ہوتا ہے جو ہزاروں کام کرنے والی ایک اکیلی امی جان کے بس کی بات نہیں۔ اپنی جیکٹس، بوٹس، عمومی اور پارٹی شوز، یونیفارم، بیلٹس، موزے، کتابیں ، اسٹیشنری، جیولری، گھڑیاں، کپڑے وغیرہ وغیرہ روزانہ کی بنیاد پر استعمال ہوتے ہیں۔

بچوں کو مختلف جگہیں ، ہینگرز، جوتوں کے ہینگرز اور بنز، شیلفس ، ہکس، وغیرہ لا کر دیے ہیں اور ان کو اپنی چیزیں وہاں واپس انہی کی جگہوں پر رکھنے کی ہدایات دی جاتی رہتی ہیں۔ بچے ہیں، بھول بھی جاتے ہیں، تنگ بھی کرتے ہیں اور کبھی آدھا ادھورا کام بھی کرکے بھاگ جاتے ہیں۔ مگر گھر کا کام صرف ماں کی ذمہ داری بنے بغیر چلتا رہتا ہے اور الحمدللہ ہر وقت افراتفری اور اشیاء کی تلاش کا شور نہیں رہتا جو ایک بڑے اور مصروف کنبے میں ایک بڑا چیلنج ہے۔

بچوں کو ہلکا پھلکا کھانا گرم کرنا، اسکول کا لنچ تیار کرنا اور ایمرجنسی کی صورت میں نصف تیار شدہ سامان سے اپنا ناشتہ تیار کرنے کی وقتاً فوقتاً تربیت دی جاتی رہی ہے۔ کبھی امی جان کو علی الصبح نکلنا ہو، ابو کے لیے بھی ممکن نہ ہو یا شدید بیماری کی کیفیت ہو تو بچے چھوٹی کلاسوں میں بھی اور ٹین ایج میں بھی اپنا ناشتہ اور لنچ تیار کرکے اسکول جاتے رہے ہیں۔

کھانے کے بعد کی چائے آہستہ آہستہ بچوں کے حوالے کی جاتی رہی ہے۔ اور اب کوئی ایک بھی آواز دینے پر چائے بنا دیتا یے۔ الحمدللہ

بچوں کی امی ہی نہیں ابو نے بھی انہیں چھوٹی موٹی بیکنگ اور کوکنگ سکھائی ہے۔ بڑے صاحبزادے گریڈ تھری سے آدھی تیار روٹی سے اپنا پزا بآسانی بیک کرلیتے تھے اور بہن بھائیوں کو بھی کھلا دیتے تھے۔ برگر تیار کرنا، بسکٹ اور کیک اور مفنز بنانا یہ سب بیٹی کے ساتھ بڑے بیٹوں کو بھی آتا ہے۔

اپنی پسندیدہ جیلی بھی خود تیار کرتے ہیں اور اپنی پسند کا شربت یا ملک شیکس جو انہیں صبح و شام چاہیے ہوتے ہیں، بھی خود بناتے ہیں۔ ابتدا میں ساتھ لگا کر کام کرنا ہوتا ہے۔ پھر کچھ عرصے بعد آپ مصروف ہوں تو وہ آکر پوچھیں گے میں خود بنا لوں؟ اور آہستہ آہستہ یہ کام ہی ان کا بن جائے گا۔ اور اپ دوسرے کاموں میں اپنی توانائیاں لگا سکیں گی۔

گھر پر بڑی سی دعوت ہو جس میں کئی گھرانوں کو مدعو کیا گیا ہو اور کئی طرح کے کھانے پک رہے ہوں، گھر کی صفائیاں بڑے پیمانے پر کی جارہی ہوں تو گھر کے سب افراد کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔

گھر سے باہر کی برف صاف کرنا، گھاس کاٹنا، گاڑی اندر اور باہر سے صاف کرنا وغیرہ وغیرہ ابو ان کاموں میں بچوں کو شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

غور کریں تو یہ سب بہت بڑے بڑے کام نہیں ہیں اور بچوں کے کرنے کی وجہ سے بہت پرفیکٹ بھی نہیں ہوتے اس لیے لازماً امی جان کو نگرانی بھی کرنی پڑے گی اور کہیں کہیں دوبارہ وہی کام کرنا پڑے گا اور اکثر اوقات درستگی اور فنشنگ ٹچز دینے کی نوبت بھی آئے گی۔

مگر اس ساری مشق کی اصل روح یہ ہے کہ بچوں کو گھر کے اپنا ہونے ، گھر کے کام کی اہمیت اور کرنے والی کی قدر کا احساس ہو۔ اور کنبے پر کوئی مشکل وقت آئے تو گھر کے افراد اس وقت گھر کو سنبھالنے کے لیے تیار ہوں۔

ایک بڑے کنبے کے ساتھ بہت ساری سماجی، پیشہ ورانہ ،تعلیمی و گھریلو ذمہ داریوں اور ساتھ ساتھ پڑھنے لکھنے کے کاموں پر لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کے بچوں کو کون دیکھتا ہے تو راقم کا جواب یہی ہوتا ہے کہ الحمدللہ میرے بچے بہت میچور اور ذمہ دار ہیں۔

گھر میں مردوں کے گھریلو کاموں میں شمولیت کے بارے میں موجود مزاحمت کے باجود چھوٹے موٹے کاموں میں اپنے بچوں کو ساتھ رکھنے کا فائدہ یہ ہوا کہ کام والی مددگار کے سہارے کے بغیر ہر قسم کے مشکل حالات میں امی ابو اور بچوں نے ہر قسم کے حالات میں سروائیو کر لیا الحمدللہ۔

اضافی فائدہ یہ ہے کہ اس طریقے سے امی جان کو بچوں سے باتیں کرتے رہنے اور ساتھ قرآن ، دعائیں ، نظمیں گنگنانے اور قصے کہنے، ان کے مسائل سننے اور تربیتی ہدایات دینے کے بھی کئی مواقع ملتے رہے جو شاید ایک مصروف شیڈول ہونے کے باعث اس طرح ملنا ممکن نہ ہوتے۔

بلاشبہ یہ سب اللہ کی مدد سے ممکن ہوا۔ اس لیے آپ بھی دعائیں کرتے ، پیار اور ڈانٹ دونوں طریقوں کو آزماتے ہوئے کوشش جاری رکھیے۔ ابھی بڑی زندگی پڑی ہے اور ہمیں خبر نہیں کہ آگے کون کیا کرتا ہے۔ مگر اب تک جو ممکن تھا اور اپنے بس میں تھا، اس کے مطابق اپنی سی کوشش کرتے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں