ڈاکٹرعاصم اللہ بخش، کالم نگار 180

ترکی، امریکا، سٹرٹیجک حقائق اور پاکستان کے پتے

ڈاکٹرعاصم اللہ بخش۔۔۔۔۔۔۔
اکتوبر کے پہلے ہفتے میں یہ خبر سامنے آئی کہ امریکہ شام کے سرحدی علاقے سے اپنی افواج کا انخلاء کر رہا ہے اور ایسا تاثر ملا کہ یہ گویا ترکی کے لیے ایک اشارہ ہے کہ وہ یہاں فوجی کاروائی کرسکتا ہے۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں کرد جنگجوؤں پر مشتمل “وائے پی جی” گروپ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے بینر تلے امریکہ کے ساتھ مل کر کم و بیش پانچ برس سے داعش کا مقابلہ کر رہا تھا۔ دوسری جانب ترکی اس گروپ سے متعلق شاکی تھا اور وہ اسے ترکی سے تعلق رکھنے والی جماعت کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کا پشت پناہ سمجھتا ہے۔

ترکی کرد مسئلہ سے متعلق بہت حساس ہے اور کسی صورت یہ نہیں چاہتا کہ مختلف ممالک میں منقسم کرد آبادی کسی ایک مرکز پر جمع ہو کر کسی نئی جغرافیائی تقسیم کا باعث بن جائے۔ چنانچہ امریکی افواج کا اس طرح اچانک انخلاء ترکی کے لیے نادر موقع تھا کہ وہ اپنے اسٹریٹجک خدشات کو اپنی ترجیحات کے حساب سے درست کر سکے۔ اسی تناظر میں 9 اکتوبر کو ترکی نے اعلان کیا کہ وہ اپنے اہداف کے حصول، یعنی وائے پی جی کو شامی سرحد کے اندر تیس سے پینتیس کلومیٹر پیچھے تک دھکیلنے کے لیے شام کی سرحد کے اندر فوجی کاروائی کا آغاز کر رہا ہے۔

امریکی افواج کے اس طرح انخلاء اور ترکی کے لیے میدان کھلا چھوڑ دینے پر سب کو حیرت ہوئی کیونکہ وائے پی جی پچھلے پانچ سال سے امریکہ کی حلیف تھی اور امریکی ایماء پر اس نے داعش کا خوب جم کر مقابلہ کیا۔

اس اعتراض پر سب سے دلچسپ اور قابل غور رد عمل امریکی صدر ٹرمپ کا تھا۔ پہلے انہوں کہا، یہ بات اپنی جگہ کہ کرد مسلح دستوں نے ہمارا ساتھ دیا لیکن انہوں کوئی نارمنڈی کا معرکہ تو نہیں لڑا ہمارے لیے۔ ان کا اشارہ دوسری عالمگیر جنگ کے ایک بڑے عسکری معرکے کی جانب تھا جس نے اتحادیوں کی مکمل فتح کی راہ ہموار کی۔

پھر چند روز بعد انہوں نے کہا کہ کرد ہمارے لیے نہیں لڑ رہے تھے، وہ تو اپنا الگ وطن چاہتے ہیں اور یہ سب اس کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ تھا ۔۔۔۔ گویا یہ ہمارے سر پر کوئی احسان تھوڑا ہی تھا جو ہم کسی اخلاقی ذمہ داری کا بوجھ اٹھائیں۔

اس کے بعد تو صدر ٹرمپ نے کمال ہی کر دیا ۔۔۔۔ فرمایا کہ آپ ان سے ہمدردی نہ کریں یہ وائے پی جی والے داعش سے کم بڑے دہشت گرد نہیں۔

یہ کہانی مجھے اپنے ان سادہ دل ، سلیم الفطرت دوستوں کی یاد دلاتی ہے جو صبح و شام اس غم میں دبلےہوئے جاتے ہیں کہ پاکستان مبینہ طور امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کیوں کرتا ہے ؟ اس سے ہماری ساکھ کس قدر متاثر ہوتی ہے۔ تو دوستو! بات یہ ہے کہ جب آپ بالرضا یا بالجبر کسی بھی کاروائی میں ایک بڑی طاقت کا ساتھ دیتے ہیں تو آپ کی قدر آپ کے اخلاص سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ اس کام کی تکمیل کے وقت آپ اس طاقت کے لیے کتنے relevant ہیں۔

اگر آپ اپنی افادیت کھو چکے ہیں تو پھر آپ انعام کے بجائے blow back کے لیے تیار ہو جائیں کیونکہ اس وقت ہوسکتا ہے کہ اس بڑی طاقت کے لیے کوئی اور ترجیح زیادہ relevant بن چکی ہو۔ جیسا کہ اس وقت امریکا کے لیے یہ بات اہم ہے کہ ترکی مکمل طور سے روس کے کیمپ میں نہ چلا جائے۔

پاکستان کا امریکا کے ساتھ کام کرنے کا طویل تجربہ ہے۔ پہلی افغان جنگ کے خاتمہ کے ساتھ ہی پاکستان پر اقتصادی و دیگر پابندیوں کا آغاز ہو گیا تھا۔ اس مرتبہ پاکستان نے کچھ پتے بچا کر رکھے تھے جنہیں اب کھیل رہا ہے۔ یہ نہ ہوتے تو امریکہ شاید پہلے سے بھی برا حشر کرتا پاکستان کا۔

اس لیے اپنی تمام تر نیک نیتی کے باوجود ہمیں غیروں کی زبان بولنے کے بجائے جیو اسٹریٹیجک حقائق سے متعلق مزید آگاہی حاصل کرنا چاہیے۔ معاصر تاریخ اس کا سب سے سکہ بند ذریعہ ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ ڈبل گیم میں ہمارے ساتھ جو کچھ ہؤا یا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ پر اخلاص گیم میں کم از کم بھی اس سے ڈبل برا ہونے کا امکان ہوتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں