نوجوان ترک لڑکیاں 122

ترک قوم آپس میں لڑتی کیوں نہیں؟

تزئین حسن۔۔۔۔۔
ترکوں کو بہت کم پبلک مقامات پر لڑتے دیکھا۔ لڑتے مگر بہت کم۔ وسعت اللہ خان اس کی وجہ یہ بتاتے کہ ترک کبھی غلام نہیں رہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے اس کا سبب گوڈ گورننس اور سیکیولر ازم بھی ہے۔

اس معاشرے میں شدت پسندی بھی نظر نہیں آتی یا ہمارے مقابلے میں بہت کم ہے۔ فرسٹریشن اور مسائل نہ ہونے کے برابر۔ بنیادی ضرورتیں کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ اتنی اچھی کہ آدمی اور عورت دونوں عزت سے سفر کرتے ہیں۔ پبلک انفراسٹرکچر شاندار ، جگہ جگہ پارکس، پبلک اسپیسس جو ہمارے ہاں نہ ہونے کے برابر ہے، چھوٹے چھوٹے شہروں کے بسوں کے اڈے ایسے جیسے ہمارے ہاں ائیر پورٹ ہوتے ہیں۔ لگتاہے حکومت کو عوام کا احساس ہے۔

صنفی معاملات میں بھی شدت پسندی نہیں ہے، لباس پر بھی پابندیاں ںہیں، مذہبی شدت پسندی نہیں، غلامی سے زیادہ اس کا تعلق شاید گڈ گورننس اور سیکیولر ازم سے ہے۔ میں نے عین جمعے سے پہلے مسجد کے باہر دائود اوغلو کی الیکشن کیمپین میں اس کے حامیوں کو تیز میوزک پر ناچتے ہوئے دیکھا۔ کسی کی مذھبی غیرت نہیں جاگی۔

پبلک ٹرانسپورٹ میں مرد عورت کی کوئ تخصیص نہیں مگر کسی قسم کی جنسی ہراسانی دیکھنے میں نہیں آئی۔ خواتین اسکارف بھی لیتی ہیں، نقاب بھی اور شارٹ اسکرٹ بھی مگر میں نے کسی مرد کو انہیں گھورتے ہوئے نہیں پایا۔ رش کے مقامات پر بھی کسی مرد کو عورت کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرتے نہیں دیکھا۔

چھوٹے چھو ٹے شہروں میں اکیلے سفر کیا، پولیس تھانے بھی جانا ہوا۔ کوئی ہراسانی محسوس نہ ہوئی۔ ترک عورت چاہے وہ عبایا اور اسکارف میں ہو یا جینز میں، ڈر اور خوف سے ایسے بےنیاز اور آزاد محسوس ہوئی کہ کوئی اسے پبلک اسپیس میں نقصان پہنچائے گا۔

ہمارے ہاں کل ایک خاتون صحافی کو آزادی مارچ کی کوریج کی کوشش کے دوران روایتی طعنے سننے پڑے کہ وہ ماحول خراب کر رہی ہیں آزادی مارچ کا۔ ایک اعتراض یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق مذہب سے نہیں،
قطعاً نہیں ہے لیکن عورت کو ایسی جگہوں کا ماحول خراب کرنے کا طعنہ مذہب کے نام پر دیا جاتا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ ہماری مذہبی انتہا پسندی کا کوئی تعلق مذہب سے نہیں لیکن ہم مذہب کو استعمال کرتے ہیں۔ بس! یاد رکھیں کہ ترک ہم سے کم مسلمان نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں