تیل کی دھار 82

تیل کی دھار

ابن فاضل۔۔۔۔۔۔۔
“پڑھو فارسی بیچو تیل”، بہت سنا، پہلے پہل ہم سمجھے فارسی سیکھنے کے دوران جو انسان کا تیل نکلتا ہے اسے بیچنے کی بابت بات ہورہی ہے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ طنزیہ محاورہ ہے کہ کہاں فارسی پڑھنے والے عالی دماغ اور کہاں تیل بیچنے جیسا کارِ پست۔ قدرت کی حکمت دیکھیے، پھر فارسی بولنے والوں کے ہاں بھی تیل نکل آیا۔ تب سے وہ ہنسی خوشی فارسی بھی پڑھ رہے ہیں اور تیل بھی بیچ رہے ہیں،اور اب تک بیچ رہے ہیں ۔ پھر بولو عربی بیچو تیل بہت دیکھا۔

اور تیل کی اہمیت ایسی بڑھی کہ اب ساری گاڑیاں، بہت سی مشینیں اور کئی ملکوں کی معیشتیں تیل سے چلتی ہیں ۔ عربی اور فارسی تیلوں میں اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے تو کچھ فرق نہیں البتہ اتنا تفاوت ضرور ہے کہ فارسی بولنے والے تیل خود نکالتے ہیں جبکہ عربوں کا تیل نکالنے کے لیے پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے غریب اپنا تیل نکالتے ہیں ۔

اسی طرح اگر اہلِ فارس اور اہلِ عرب کے حالات زندگانی کا قبل از تیل اور بعد از تیل بنظرِ غائرجائزہ لیا جائے تو قریب وہی فرق محسوس ہوگا جو ایک خاندانی رئیس اور ایک نودولتیے کے اطوار میں ہوتا ہے ۔ جن ملکوں میں تیل ہے وہ تو اسے نکال کر بیچتے ہیں اور دادِ عیش دیتے ہیں مگر کچھ طاقتور شیطان صفت ممالک محض ان کو آنکھیں نکال کر ہی ان کا تیل نکال لیتے ہیں ۔

دنیا بھر میں شاید سب سے زیادہ جلائی جانے والی چیز تیل ہی ہے۔ غریب کے دل اور عاشقوں کے جگر کا نمبر اس کے بعد ہے۔ پاکستان میں البتہ بدعنوانی سے مزین سرکاری ریکارڈ اور بھتہ نہ دینے والی غیر سرکاری فیکٹریاں بھی اس فہرست میں شامل ہیں گو انہیں جلانے کے لئے بھی پہلے تھوڑا سا تیل ہی ڈالنا پڑتا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی تیل کے فوائد کی ایک لمبی فہرست ہے۔ جلتی پر ڈالنے کے کام آتا ہے،

پہلے پہل یہ کارِ خیر غیر ذمہ خواتین کے ذمہ تھا اب ٹی وی میزبانوں اور سیاسی جماعتوں کے ترجمانوں نے اس کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے ۔ جہاں تقریباً سب لوگوں کا چولہا اس کے بہم ہونے سے چلتا ہے وہیں پر کچھ وزیروں، سرکاری افسران اور تیل کے ڈیلر حضرات کا چولہا اس کی ترسیل بند ہونے سے چلتا ہے اسی لئے وطن عزیز میں مہینہ دو مہینہ بعد اس قلت کی خبریں ملتی رہتی ہیں ۔

چالاک پیشہ ور سادہ لوح لوگوں کو تیل لگا کر اپنا چولہا جلاتے ہیں ۔ تیل کبھی بھی اکیلا نہیں ہوتا اس کے ساتھ ہمیشہ تیل کی دھار ہوتی ہے جو زیادہ تر دیکھنے کے کام آتی ہے، خود تو بہت تیز دھاربہر حال نہیں ہوتی مگر اس کودیکھنے سے بہت سوں کی قسمت تیز ضرور ہو جاتی ہے ۔ تیل کی کئی قسمیں بھی ہوتی ہیں جیسے زیتون ،مکئی، بنولہ سرسوں اور مٹی وغیرہ کا تیل ۔

ماضی کے اس عہدِ فرسودہ کی بات ہے جب دودھ دینے کی ذمہ داری ابھی بھینسوں ہی کے سپرد تھی، ہم چھوٹے سے تھے اور بحکمِ والد بزرگوار،بھولو گوالے کے ہاں بھینس کا دودھ لینے جایا کرتے تھے۔ ایک روز کیا دیکھا ، گوالے نے کچھ بھورے سیاہ بڑے بڑے ٹکڑے، سیمنٹ سے بنے ایک حوض میں بھگو رکھے ہیں۔ ہم سمجھے بھینسوں کی ڈبل روٹی ہے، حیرت اور تجسس سے بھولو گوالہ سے ان کی بابت دریافت کیا، بولا، بنولہ اور سرسوں میں سے تیل نکالنے کے بعد ان کی یہ شکل ہوجاتی ہے ان کو کھال بنولہ یا کھال سرسوں کہتے ہیں۔ انہیں جانور بالخصوص بھینسیں رغبت سے کھاتی ہے ۔

اس دن سکول کی آدھی چھٹی میں ہم مٹھی بھر مٹی ہاتھ میں پکڑے دیر تلک غور کرتے رہے کہ مٹی کی یہ حالت تیل نکلنے سے پہلے کی ہے یا بعد کی۔مگر کسی نتیجہ پر نہ پہنچ پائے، سائنس کے استاد صاحب سے پوچھا، کہنے لگے: ابے گھامڑ! مٹی کا تیل مٹی سے نہیں نکلتا ۔ ہم نے اور بھی احتجاج کیا کہ زیتون سے لے کر تارا میرا تک ہر شے کا تیل خود اس میں سے نکلتا ہے تو مٹی کا مٹی میں سے کیوں نہیں ۔ سمجھانے لگے کہ صرف مٹی پر ہی موقوف نہیں ،عربوں کا تیل بھی عربوں میں سے نہیں نکلتا اور نہ ہی سانڈے کا تیل سانڈے میں سے۔

ایک روز ہم قابل خرگوشوی کے ہاں ناشتہ پر مدعو تھے۔ حضرت کو جب سے معلوم ہوا ہے کہ ہم ناشتہ میں صرف ساڑھے تین انچ مربع کے دو ڈبل روٹی کے ٹکڑے، ایک ابلا انڈا اور ایک چائے کا کپ لیتے ہیں، بیسیوں بار ناشتہ کی دعوت دے چکے ہیں ۔ تنگ آ کر ایک روز ہم پہنچ ہی گئے ۔

وہاں مایوس دقیانوسی بھی تھے اور دو اجنبی بھی۔ ایک اجنبی کا تعارف حکیم درمیانے علی خان صاحب کے طور پر کرایا گیا کہ حکمت میں یدِ طولیٰ کے داعی تھے اور دوسرے صاحب کا نام یاد نہیں۔ مگر اتنا یاد ہے کہ ان کے سر پر بال بس اتنے ہی تھے جتنی ہمارے سیاستدانوں میں حکمت ۔ گویا الف گنجے۔

مایوس دقیانوسی، ان صاحب کو بال اگانے کا نسخہ بتارہے تھے کہ غیر ملکی رنگین رسائل جو گوالمنڈی لاہور کی پرانی کتابوں کی دکانوں سے ملتے ہیں اور عام طور پر شرماتے شرماتے خریدے جاتے ہیں اور چھپا چھپا کر لے جائے اور پڑھے جاتے ہیں، ان کے ساڑھے گیارہ صفحات کسی شیشہ کے ٹکڑے پر رکھ کر ان کو احتیاط سے آگ لگائیں، ان کے جلنے سے شیشہ پرتھوڑا سا بھورے رنگ کا ایک تیل نکلے گا (جس کو آپ بہ سہولت ‘روغنِ رسائل’ کہہ سکتے ہیں)اس تیل کو علی الصبح نہارسر، سر پر لگائیں۔

انشاءاللہ چھ ہفتوں میں رنگین بال نکل آئیں گے جن کو چاہیں تو رنگین ہی رہنے دیں اور چاہیں تو سیاہ کرلیں۔ ہم نے عرض کیا حضور! فرنگی رنگین رسائل کے جلنے سے بھورا سا تیل تو واقعی نکلتا ہے لیکن اس کی مقدارتوبہت ہی کم ہوتی ہے اور پھر بہت سا تو شیشہ سے ہی چپک جائے گا ،دشوار ہے کہ پورے سرکو ترکرپائے۔

اگر آپ اجازت دیں تو ساڑھے گیارہ صفحات براہ راست سر پر رکھ کر ہی انھیں آگ دکھا دی جائے اول تو یہ کہ سارے کا سارا تیل براہِ راست مالش کیلیے دستیاب ہوگا اور آخر یہ کہ حدت بہرحال جملہ کیمیائی تعاملات کی رفتار تیز کرتی ہے ۔کیا معلوم بال دو چار روز میں ہی نکل آئیں ۔ ۔۔بس ناراض ہو گئے ۔

وہ تو شکر ہے کہ حکیم صاحب نے بر وقت روغن بیضہ مرغ یعنی مرغی کے انڈے کی زردی کے تیل کے فوائد اور اس کو نکالنے کی تراکیب بتانا شروع کردیں اور ہماری گلوخلاصی ہوئی۔ اتنی دیر میں قابل خرگوشوی ناشتہ لے آئے۔ ایک پلیٹ میں دو ڈبل روٹی کے ٹکڑے جن میں سے ایک پر فلسطین اور ایک پر کشمیر کا نقشہ تھا اور ساتھ ایک کرمچی رنگ کا پنگ پونگ کا گیند ۔ نقوشِ مذکور کی ہیئت پر غور کیا تواسرار کھلےکہ ڈبل روٹی توا پر رکھ کربھول جانے سے جو دبیز جلن کی تہہ وجود میں آئی تھی اسے نوکِ چاقو سے چھیلنے کی سعی میں معرضِ وجود میں آئے ہیں ۔ اور کرمچی رنگ کی پنگ پونگ کی گیند درحقیقت ابلا ہوا انڈا ہے جو ابلتے پانی میں تادیر جوش کھاتے رہنے پر احتجاجاً سکڑ کر کرمچی ہو گیا ہے ۔ ابھی ہم اس جغرافیائی ناشتہ سے نبرد آزما ہو ہی رہے تھے گلی میں سے کسی نے ہانک لگائی ۔ سرسوں دا تیل، گری دا تیل، دھنیے دا تیل، چنبیلی دا تیل، سیکا کائی دا تیل، تلاں دا تیل ۔۔۔۔۔۔

ہم نے حکیم صاحب سے پوچھا، حضور! جب اس قدر زبردست اور متنوع نباتاتی روغنیات ایسے باآسانی مہیا ہیں تو پھر وطن عزیز میں بے موسروں کی ایسی بہتات کیوں ہے۔ اس سے پہلے کہ حکیم صاحب کچھ ارشاد فرماتے قابل خرگوشوی گویا ہوئے۔ موبل آئیل کی ایک بہت ہی مصفا قسم ہوتی ہے جسے وائٹ آئل کہتے ہیں. وائٹ بالکل پانی کی طرح بے رنگ اور بےبو ہوتا ہے۔

بکثرت ارزاں نرخوں پر دستیاب ہے۔ یہ سب تیلوں کے سوتے اسی وائٹ آئل سے پھوٹتے ہیں۔ بس مطلوبہ تیل کا رنگ اور خوشبو ملائی جاتی ہے اور تیل تیار۔ بس یہ اس تیل کی برکت ہے کہ فارغ البالی کی بہار ہے۔ اور ہم سر نیہوڑائے تادیر موبل آئل کی سر پر مالش کے دیگر بدنی اور روحانی فوائد پر غور کرتے رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں