حریم شاہ وزیراعظم ہائوس میں 725

حریم شاہ کا قصہ اور خفیہ ایجنسیوں کے ہتھکنڈے

عبیداللہ عابد۔۔۔۔۔۔۔
وزیراعظم عمران خان، “نائب وزیراعظم” جہانگیرترین، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، نعیم الحق سمیت تمام بڑی حکومتی شخصیات کے ساتھ ایک لڑکی حریم شاہ کی تصاویر اور ویڈیوز جگہ جگہ دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ معاملہ صرف وزیراعظم یا کسی دوسرے حکومتی عہدے دار کی کرسی پر بیٹھنے تک محدود ہوتا تو شاید اسے ایک غلطی اور بھول سمجھ کر نظرانداز کیاجاسکتا تھا لیکن ایک ایسی ویڈیو بھی دیکھنے کو ملی ہے جس میں حریم شاہ عریاں حالت میں پارلیمنٹ کے لاجز میں گھوم پھر رہی ہے۔ دروازوں کو ٹھڈے مارتی جارہی ہے۔ اس کی اس بے تکلفی سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ وہ حکومتی عہدے داروں اور ارکان پارلیمان کے ساتھ کس کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہوگی۔

معاملہ ایک حریم شاہ ہی کا نہیں ہے، حکومتی عہدے داروں کے ساتھ ان کی گرل فرینڈز کی ایک پوری فوج ہمہ وقت موجود ہوتی ہے۔ ہم صحافیوں کو اسلام آباد میں اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیاں سرانجام دینے کے لئے آدھ درجن انٹیلی جنس، سیکورٹی ایجنسیوں کی اجازت چاہئیے ہوتی ہے،

گزشتہ چار برس سے میں نے پاکستان انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کا کارڈ حاصل کرنے کے لئے درخواست دے رکھی ہے، سنا ہے کہ آئی ایس آئی سے لے کر آئی بی تک مختلف ایجنسیاں مجھے کلئیر کریں گی تو وہ کارڈ بنے گا۔ اس کارڈ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ ایوان صدر، وزیراعظم ہائوس اور دیگر اعلیٰ ایوانوں میں نسبتا آسانی سے جاسکتے ہیں۔ بہت سے سیکورٹی دائروں میں آپ کا وقت ضائع نہیں ہوتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چار برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک ایجنسیوں نے مجھے کلئیر نہیں کیا۔ دوسری طرف حریم شاہ کی پارٹی کو برسراقتدار آئے ڈیڑھ سال بھی نہیں ہوا، وہ اور اس جیسی دیگر لڑکیاں ہر جگہ بلاتکلف گھوم پھر رہی ہے حتیٰ کہ انتہائی حساس جگہوں پر بھی۔

مجھے یہ بات کہنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ موجودہ حکومت ایک “رنگین” حکومت ہے۔ پارلیمنٹ لاجز میں پہلے بھی شراب اور شباب دستیاب ہوتا تھا لیکن عمران خان کی”ریاست مدینہ” میں یہ سلسلہ زیادہ عام ہوچکا ہے۔ گرل فرینڈز کوپاکستان کے اعلیٰ اعزازات سے نوازا جارہا ہے۔ ان کی سفارش پر لوگوں کے کام ہورہے ہیں۔

اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی “موساد” اور سابقہ سوویت یونین کی ایجنسی “کے جی بی” کی بہت سی داستانیں پڑھنے کو ملتی ہیں، جن میں وہ اپنے مخالف ملک کی اہم حکومتی شخصیات کو اپنی بھیجی ہوئی ایجنٹ لڑکیوں کے ذریعے پھانسا کرتے تھے، قابل اعتراض حالت میں ان کی تصاویر بنایاکرتے تھے، اس کے بعد یہ حکومتی شخصیات بلیک میل ہوکر اسرائیل یا سوویت یونین کے لئے کام کرتے تھے۔ دنیا کی دیگر خفیہ ایجنسیاں بھی یہ کام کرتی ہیں۔

اب حریم شاہ اور ان جیسی دیگر گرل فرینڈز کے بارے میں کسے خبر ہے کہ وہ کس ملک کی کس خفیہ ایجنسی کے لئے کام کررہی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری سیکورٹی ادارے اس تناظر میں خوب چوکس ہوں گے۔ بس! کہنا صرف یہ ہے کہ ان کی ہلکی سی غفلت سے کوئی گرل فرینڈ یا اس کے “ماسٹرز” فائدہ نہ اٹھالیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں