آلان کردی، شامی مہاجر بچہ 163

خاموش رہنے والے لوگ

فاطمہ عمیر:
کیا تھا سبت کا قانون؟
یہی نا کہ اللہ تعالی نے ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع فرمایا تھا لیکن ان میں تین گروہ بن گئے تھے۔ ایک گروہ ایسا تھا جو خود مچھلیاں پکڑتا تھا اور دوسرا گروہ ایسا تھا کہ جو خود مچھلیاں نہیں پکڑ رہا تھا لیکن پکڑنے والوں کو منع بھی نہیں کرتا تھا

اور تیسرا گروہ ایسا تھا جو خود مچھلیاں نہیں پکڑتا تھا اور پکڑنے والوں کو منع بھی کرتا تھا۔ جب اللہ تعالی نے عذاب کا فیصلہ صادر فرما دیا تو ان لوگوں پر عذاب آیا جو مچھلیاں پکڑتے تھے اور جو مچھلیاں پکڑنے والوں کو منع نہیں کرتے تھے بلکہ خاموش تماشائی بن کر صرف دیکھتے تھے۔

شاید ہم نے بھی کسی ایسے ہی قانون کو توڑا ہے، شام میں معصوم لوگوں کے اوپر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، وہ لوگ ہمیں تڑپ کر جان دیتے نظر آئے، غزہ میں اسرائیل کی بمباری سے کتنے ہی لوگ شہید ہوئے اور امت مسلمہ کی بحیثیت مجموعی خاموشی جاری رہی، روہنگیامیں مسلمانوں کو ذبح کیا گیا، برما میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔

تخیل میں ایک تصویر بن رہی ہے
یہ دنیا رفتہ رفتہ کشمیر بن رہی ہے

کشمیر میں سات ماہ سے کرفیو لگا ہوا ہے، ایغور میں مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کیا گیا،
یہ سب ظلم و ستم کرنے میں ہم شامل نہیں تھے لیکن ہم خاموش تماشائی بنے رہے۔

ہمارے اپنے ملک میں جس کے قانون میں یہ بات موجود ہے کہ حاکمیت اعلیٰ کا تصور صرف اور صرف اللہ کی ذات ہی ہے.
اسلامی شعار کا مذاق اڑایا جاتا رہا، کبھی ڈراموں میں، کبھی اشتہارات میں اور کبھی عورت مارچ کی صورت میں، کبھی اسمبلی میں شراب کے خلاف بل نامنظور کرنے کی صورت میں اور ہم بحیثیت مجموعی خاموش تماشائی بن کر بیٹھے رہے۔

اورآج جب کہ ایک چھوٹے سے وائرس نے دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے
تو ہمیں ہر طرف ایک خوف کی فضا نظر آتی ہے۔ کچھ لوگ اس وائرس کے ڈر کی وجہ سے پریشان ہیں تو کچھ اس وجہ سے پریشان نظر آتے ہیں کہ خدانخواستہ اس وائرس کی وجہ سے اگر ہم مر گئے تو نماز جنازہ نصیب ہوگی نہ ہی اپنے پیاروں کے درمیان موت۔

اب تو مسجدوں کے دروازے بھی حفاظتی اقدامات کے نام پر بند ہوگئے ہیں۔ پانچ لوگوں سے زیادہ لوگ باجماعت نماز ادا نہیں کرسکتے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر اس پروردگار کو پکاریں جو ہمیں مسجد میں جانے سے نہیں ملتا بلکہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔

اور سورہ نوح میں نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو یہی تلقین کی تھی:
’”اور میں نے کہا اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا اور تمہیں پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا“

اللہ تعالی اس خوف کی فضا کو امن کی فضا میں بدل دیں۔ ہم سب کی پکار کو سن لیں اور ہم سب کی اجتماعی توبہ کو قبول فرما لیں اور ہمارا انجام نیکوکار لوگوں کے ساتھ کریں۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں