کائنات 87

خدا کے انکار کا نظریہ اپنے آپ سے متصادم، کیسے؟

سہراب نصیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ باتیں اس قدر احمقانہ ہوتی ہیں کہ ان کی تردید خود ان کے اندر ہی موجود ہوتی ہے۔ آپ کو کسی خارجی دلیل کی ضرورت نہیں پڑتی۔

سائنس کی بنیاد پر خدا انکار کرنے والوں کا ایک نظریہ کچھ ایسا ہی احمقانہ ہے۔
سائنس کی بنیاد پر خدا کا انکار کرنے والے یہ مانتے ہیں کہ
The universe came is a result of random mindless accident and then evolved through process Which involves a mindless, purposeless and random succession of chances and accidents.
سائنس ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ مادہ بے شعور ہے۔ یعنی
Matter has no mind. Matter is dead and all forms of matter are mindless.
ہمارا دماغ ایک ایڈوانس کمپیوٹرز سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ لیکن ایک ایسا کمپیوٹر جس کا کوئی بنانے والا نہیں۔ اگر کمپیوٹر کو بنانے والا کوئی نہیں تو یقیناً یہ کمپیوٹر ہمارے کسی مقصد کا نہیں۔

یہ ماننے اور یقین کرنے کے بعد وہ جب کہتے ہیں کہ ہماری زندگی کا مقصد ہم خود طے کریں گے اور ہماری اخلاقیات بھی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی شخص پورے ہوش و حواس میں چیخ چیخ کر ہمیں یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہو کہ وہ اس وقت سو رہا ہے۔

کائنات بے مقصد ہے، جس عمل سے گزر کر یہ کائنات اس مقام پر پہنچی ہے وہ بے مقصد اور حادثاتی ہے۔ خود انسان کی پیدائش حادثاتی اور بے مقصد ہے تو پھر میرے سارے بے مقصد اور حادثاتی عمل سے پیدا ہوئی ایک mindless مشین کا کوئی بھی مقصد کیسے ہو سکتا ہے۔ اور ایسے حادثاتی عمل سے بنی مشین کے اس نظریہ کو میں کیونکر مان لوں۔

ہم روزمرہ زندگی میں ایسی کسی مشین پر یقین نہیں کرتے جو ایک ذہین انسان نے بنائی ہو لیکن اُس میں کوئی چھوٹی موٹی خرابی پیدا ہو گئی ہو۔ پھر ہم ایسے انسان کی بات پر کیسے یقین کر لیں جو ایک mindless process کا نتیجہ ہے۔

یہ دعویٰ کرنا کہ کائنات mindless اور purposeless ہے۔ اور میرا یہ نتیجہ “عقلی” بھی ہے تو یہ ایک self refuting argument ہے۔
جب کائنات کے بننے اور اس کے ارتقاء میں کوئی mind یا شعور نہیں تو پھر انسان کیسے باشعور ہو سکتا ہے۔

اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ کروڑوں، اربوں سالوں کے ارتقاء سے ایک کمپیوٹر بن گیا ہے تو پھر بھی یہ سوال تو باقی ہے کہ اس کمپیوٹر میں پروگرام کہاں سے آیا۔ کائنات میں تو کہیں بھی Windows نہیں ہے۔ پھر یہ Windows جس زبان میں لکھی گئی ہے، یہ کمپیوٹر جس زبان میں آگے ہمیں پیغامات دے رہا ہے یہ کہاں سے آئی ہے؟ اس بات کا جواب ہمیں کائنات کسی صورت نہیں دے سکتی جب تک ہم یہ نہ مان لیں کہ Windows بنانے میں کسی ” ذہانت” کا عمل دخل تھا اور وہ ذہانت اس مادے سے ماوراء ہے۔

سائنس کی بنیاد پر خدا کا انکار انتہائی احمقانہ دعویٰ ہے۔ اس کے برعکس کائنات میں پائے جا رہے قوانین کی موجودگی اور اُن قوانین تک عقل کے بل بوتے پر رسائی اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ کسی” ذہانت” کی پیداوار ہے۔

The presence of law in nature suggests that there is a law giver.
Scientists expect laws in nature and they believe that the universe is intelligible because of their innate belief in a law giver and intelligence.

یہ سوال بہت بنیادی نوعیت کا ہے کہ کائنات میں قوانین کیوں ہیں اور یہ کائنات قوانین کے تابع کیوں ہے۔
سائنس ان سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔

انسانی جبلّت کا تقاضا ہے کہ وہ کوئی بھی کام بنا مقصد کے نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ جو چیز ہماری کسی مقصد یا اہمیت کی نہ رہے ہم اسے کوڑا کرکٹ سمجھ کر پھینک دیتے ہیں۔ کائنات کے وجود کا حادثاتی پہلو اور بے منزل و مقصد چلتا ہوا نظریہ ارتقاء ہماری وجود کے متعلق ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم خود کوڑے کرکٹ بنائے جانے کے قابل ہیں۔ نہ ہم بلکہ یہ دنیا اور تمام انسان جن کے لیے ہم اس دنیا کو خوبصورت اور پُرامن بنانا چاہتے ہیں یہ بھی کوڑے کرکٹ سے بدتر بدتر ہیں۔ ہم امن، انصاف، خوبصورتی ، ربط و معنویت کے لیے اپنے عقل کے جو گھوڑے دوڑاتے جا رہے ہیں، جس زندگی کو بہتر بنانے کیلئے ہم آپنا خون جگر جلاتے ہیں یہ سب فضول اور غیر ضروری ہے۔ ہم کسی طور بھی جانوروں سے بہتر نہیں۔ اور جانوروں کو ایک دوسرے کی بھلائی مقصود نہیں ہوتی۔ اُن کی اخلاقیات نہیں ہوتیں۔ انھیں قوانین کی ضرورت نہیں۔

اگر زندگی کی ہر شکل ایک پیچیدہ مشین سے بڑھ کر نہیں تو پھر ہمیں احساسات سے پاک ہونا چاہیے۔ کوئی شور نہ ہو کسی ظلم پر اور کوئی خوشی نہ ہو خوبصورتی کو دیکھنے پر۔

اگر میرا وجود کوڑے کرکٹ سے بڑھ کر اہمیت کا حامل نہیں، اگر میں جانوروں کی طرح اپنی جبلت کے ہاتھوں مجبور ہوں تو پھر اپنی جبلت کی تسکین کے لیے مجھے کسی قانون، کسی ضابطہ کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ اگر میری جبلت کی تسکین قتل سے ہوتی ہے تو مجھے قتل کرنا چاہیے ، اگر جھوٹ سے ہوتی ہے تو جھوٹ بولنا چاہیے۔ اگر ریپ میری فطرت کو مواقف آتا ہے تو مجھے اس پر بھی عمل کرنا چاہیے ۔

اس نتیجہ کے بعد اخلاقیات اور مقصد کی عمارت کی ایک اینٹ بھی باقی نہیں رہتی جس کی بنیاد پر میں کسی بھی طرح کی اخلاقیات یا مقصد کی عمارت تیار کر سکوں۔ مقصد اور اخلاقیات کا واحد منبع سائنس کے مادی تصور سے ماوراء کسی خوبصورت نظریہ پر یقین رکھنا ہے۔ اور خدا کے وجود پر یقین بہت خوبصورت اور حیرت انگیز نظریہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں