مولانا فضل الرحمن 201

دھرنا مولانا کو عمران خان بنائے گا یا طاہر القادری ؟

یاسر ریاض۔۔۔۔۔۔
بہت پہلے کہیں پڑھا تھا کہ جمہوریت میں ہمیشہ دو ہی پارٹیاں ہوتی ہیں، حزب اقتدار اور حزب اختلاف۔ اگر کسی ملک میں دو سے زیادہ پارٹیوں کا وجود ہو بھی تو وقت کے ساتھ دو بڑی پارٹیاں باقی رہ جائیں گی باقی ختم ہو جائیں گے۔ مقالہ نگار نے امریکہ، برطانیہ اور دوسری پرانی جمہوریتوں کا حوالہ دیا تھا۔ اس وقت یہ دلیل بالکل دل کو نہ بھائی کہ ہمارا دلی تعلق آٹھویں دسویں نمبر والی پارٹی سے ہے۔

بعد ازاں بہت سے مواقع پر الیکشن سے متعلق سروے منعقد کرنے یا ڈیٹا اینالائز کرنے کا موقع ملا تو یہ بات کچھ کچھ سمجھ میں آئی۔ الیکشن کے قریب بالعموم ہفتہ وار سروے بھی منعقد کئے جاتے ہیں لہذا وقت کے ساتھ لوگوں کے رائے کس طرح تبدیل ہو رہی ہے، یہ بھی دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

کسی بھی الیکشن سے پہلے، جب کسی حلقے سے کئی امیدوار کھڑے ہوتے ہیں تو ہر امیدوار کا ایک اپنا ووٹ بینک ہوتا ہے۔ جوں جوں الیکشن قریب آتا ہے تو کوئی سے دو امیدوار نمایاں ہونا شروع ہوتے ہیں۔ اس وقت چھوٹی پارٹی یا کمزور امیدوار کے حامی اپنی رائے تبدیل کرتے ہوئے دو مضبوط امیدواروں میں سے ایک کا چنائو کر لیتے ہیں۔ لہذا اگر آپ مقابلے میں نہیں ہیں، اور مضبوط متبادل کے طور پر نظر نہیں آ رہے تو سارا سال آپ کے ساتھ چلنے والے بھی آپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ لہذا اپنے آپ کو سب سے مضبوط متبادل بنا کے پیش کرنا ہی الیکشن کو پہلا گر ہے۔

نواز شریف اور زرداری نے میثاق جمہوریت کیا تو دو روایتی حریف ایک پارٹی کا تاثر دینے لگے۔ لہذا ایک مضبوط متبادل کے لئے جگہ خالی ہوئی۔ عمران خان نے اس جگہ کو پر کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ الیکشن کے بعد پہلے سال ہی دھرنا دینے نکل آیا۔ پورے پانچ سال یہ ماحول پیدا کرنے میں لگا دیے کہ نواز اینڈ کو کا متبادل عمران ہی ہو سکتا ہے۔ اور اس بالآخر اس کا فائدہ اٹھایا۔

اب وہی بساط ہے اور وہی چال۔ عمران خان اقتدار میں آکے مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں دے سکے۔ اب کون مضبوط متبادل بنے گا، کچھ کہنا قبل اس وقت ہے لیکن مولانا کی اسٹریٹیجی وہی ہے جو عمران کی تھی۔

الیکشن کے ایک سال بعد ہی اسی طرح نظام الٹنے آئے ہیں۔ اسی طرح سخت القابات، اسی طرح نو ریٹرن والی اسٹریٹیجی۔۔۔ شاید حاصل حصول ابھی تو کچھ نہ ہو لیکن متبادل بننے کی ایک کوشش تو کر گئے ہیں۔ خیر، متبادل بننے کی ایک کوشش طاہر القادری صاحب نے بھی کی تھی۔ اب دیکھیں! حالات مولانا کو عمران خان بناتے ہیں یا طاہر القادری۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں