ستاروں کی چال 248

ستاروں کی چال، محبوب اور ہم

مدیحہ مدثر
کالج کے زمانے میں ایک کلاس فیلو نے بتایا کہ وہ ہاتھ دیکھتی ہے اور اس کے ابا بھی نجومی رہے ہیں۔ لڑکیوں کا گھیرا اس پہ تنگ ہونے لگا کہ ہمارا ہاتھ دیکھو اور بتائو، ہماری قسمت میں کیا لکھا ہے۔ ہم دور دور سے ساری کاروائی دیکھ اور سن رہے تھے۔ قریب جانے اور اس میلے میں شریک ہو کر ہاتھ دکھانے کو تو ہمارا دل بھی اتاولا ہو رہا تھا لیکن اندر سے اللہ تعالی کا ڈر بھی گھیرے ہوئے تھا کہ ہاتھ دکھایا تو چالیس دن نماز قبول نہ ہو گی،

شراور خیر کی جنگ بھی تو بالکل دل اور دماغ کی جنگ کی مانند ہوتی ہے ،ایک پلڑا اپنی طرف کھینچتا ہے تو دوسرا اپنی طرف۔ شاذ شاذ ہی ہوتا ہے کہ دونوں کسی ایک بات پہ راضی ہو جائیں۔

خیر وقت کا پہیہ مزید گھوما اور ہمیں بھی ہچکولے دیتا رہا۔ ستاروں،زائچوں کے بارے تو سن ہی رکھا تھا اور کبھی کبھی چپکے سے دیکھ اور پڑھ بھی لیتے تھے۔ ہماری ایک دوست ستاروں پہ خاصا یقین رکھتی ہیں اور ہم ان کی علمی قابلیت سے بھی متاثر رہتے تھے، سوچا کہ کوئی ہرج نہیں دیکھنے اور پڑھ لینے میں۔

وہ کہتے ہیں نا کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا تو یہی حال ہمارا ہوا ،اب جو ستاروں کا حال پڑھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ محبوب کے ساتھ تعلقات خوب سر چڑھ کر بولیں گے۔۔۔۔ایں۔۔۔ ہمارے سے تو سیدھے منہ بات تک نہیں کر رہے محبوب! ہم نے ناک سکوڑی اور بھاگے محبوب کے ستارے کا حال جاننے۔

یہ پورا ہفتہ ان کے سر پہ عشق کا جادو رہے گا،دل دھک سے رہ گیا کہ ہم سے تو بگڑے ہیں مزاج یہ کم بخت عشق کس نامراد کا چڑھ گیا۔ ہمت بھی نہ تھی کہ جا کرتیوری چڑھا کر پوچھ لیتے، الٹا مزید گھمسان کا رن پڑ جاتا سو چپکے رہے۔

مزید آگے بڑھے تو پڑھا کوئی دیرینہ خواہش پوری ہونے کی امید ہے،ہونہہ پچھلے ہفتے بھی یہی لکھا تھا جھوٹے کہیں کے۔

صحت کے مسائل لاحق ہو سکتے ہیں،خوب کہی اللہ اللہ کر کے ڈاکٹروں سے جان چھوٹی ہے یہ ناس پیٹے پھر بیمار کروانے پہ تُل رہے ہیں۔

ارے چھوڑو بھاڑ میں جھونکو سب من گھڑت قصے ہیں۔ ہم نے دل کو یکسو کیا اور یوٹیوب کھول کر بیٹھ گئے،بے دلی سے فہرست کو دیکھتے ہوئے ایک جگہ نظر رک گئی۔ کیپشن ہی ایسا تھا “خفیہ مہارانی” جو کارڈز سے بتائے گی آپ کو کہ نیا سال آپ کے لیے کیا لا رہا ہے۔ یہ پہلی بار دیکھ رہی تھی، سو بے ساختہ ہی ویڈیو پہ کلک کر بیٹھی۔

خفیہ مہارانی نے جو ایک انڈین ادھیڑ عمر آنٹی تھیں، ہمارے محبوب سے لے کر ہمارے مرحوم ہونے تک کے وہ احوال بیان کیے کہ ہم جو سستی کا شکار تھے یکدم ہی دل کی دھڑکن تیز کروا بیٹھے،یااللہ! اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم سب پہ خاک ڈال کر یوٹیوب بند کر ڈالتے لیکن ابھی ہمارے دماغ کا مزید دہی بننا تھا۔ سو ہم نے ان آنٹی کی باتوں کی تردید کرنے کی خاطر چند مزید اسی قسم کی ویڈیوز دیکھیں جن کا ملغوبہ کچھ یوں بنا:

محبوب کا کوئی پتہ نہیں کب کوئی اسے ورغلا دے،صحت پہ خاص توجہ دیں،زندگی کیکر جیسی ہے گلزار سمجھنے کی حماقت مت کریں۔ حاسدین کی خاص نظریں ہیں آپ پر۔ یوں لگنے لگا کہ ساری دنیا بس ہمیں پچھاڑنے میں لگی ہوئی ہے ، اسےاور کوئی کام نہیں۔

ہم نے خود کو بہت سی گونجتی آوازوں میں پایا جن میں کچھ نجومیوں کی تھیں اور کچھ”خفیہ مہارانیوں” کی۔ سر گھومنے لگا،آنکھیں نم ہونے لگیں کہ اچانک سامنے دیوار پہ لگی “اللہ” کی سینری پہ نظر پڑی اور جیسے ٹک گئی۔

اللہ، اللہ، اللہ میرا رب، ستر ماؤں سے زیادہ مجھے پیار کرنے والا۔ ہر چیز کو پیدا کرنے والا۔ شہہ رگ سے قریب ہستی۔ دعاؤں سے تقدیریں بدل دینے والا۔ صدقات سے بلائیں ٹال دینے والا۔ بے حد نافرمانیوں پہ بھی بے حساب دینے والا۔ پردہ پوشی کرنے والا۔
اب آنسو دل پہ گرنے لگے۔

بے ساختہ آنکھیں موند کر ہم بولے “معاذ اللہ” یعنی اللہ کی پناہ اور دل ہلکا پھلکا ہوتے ہوئے بولا
’’ایسی کی تیسی محبوب کی ذرا ہل کر تو دکھائے،زندگی گلزار ہے اور ہر درد کا درماں ہے:
معاذ اللہ، اللہ کی پناہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں