عمران خان وزیراعظم پاکستان کچھ لکھتے ہوئے 193

عمران خان حکومت کا پہلا سال مکمل، لوگ کیا کہتے ہیں؟

عبیداللہ عابد ۔۔۔۔۔۔۔
وزیراعظم عمران خان کی حکومت قائم ہوئے ایک برس مکمل ہوچکا ہے۔ میراخیال تھا کہ آج تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کی طرف سے ٹوئٹر پر کوئی ٹرینڈ بنے گا اور کئی گھنٹوں تک ٹاپ پر رہے گا۔

یہی سوچ کر میں نے وہ ٹرینڈ دیکھنے کی کوشش کی تو وہاں تحریک انصاف کے مخالفین کی طرف سے ایک ٹرینڈ ٹاپ پر تھا : #پپوسےنہیںہوگا ۔

ممکن ہے کہ یہ ٹرینڈ پاکستان مسلم لیگ ن کی سوشل میڈیا ٹیم نے قائم کیا ہو یا پھر پاکستان پیپلزپارٹی کی ٹیم نے ، یا پھر دونوں جماعتوں نے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ کوشش ہو۔

کہنے کی بات نہیں ہے کہ وہاں ہرٹویٹ میں حکمران جماعت کی ایک سالہ کارکردگی کو “بدترین” قرار دیاگیا۔ مثلاً علی عدنان نامی ایک صارف نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ

پاکستان یعنی ایشیائی ٹائیگر اب کشکول لے کر بھیک مانگتا پھر رہاہے۔
ایک ڈالر 160 روپے سے زائد کا ہوگیا، پٹرول 118 روپے فی لٹر، کھانے پینے کی اشیا 260 فیصد مہنگی ہوچکیں، سرمایہ کار کا اعتماد ختم ہوگیا، میڈیا پابندیوں میں جکڑدیاگیا، سی پیک رول بیک ہوچکا، پاکستان کشمیرہارچکا، چالیس لاکھ لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے۔ بھوک اور غربت کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے۔

اس ٹرینڈ میں عمران خان کی سابقہ بیگمات میں سے ایک ریحام خان کی ویڈیو بھی وائرل دکھائی دی جس میں وہ تحریک انصاف حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتی ہیں:

“آج سلیکٹرز بھی پریشان ہیں کہ ہم کیا کریں، سٹاک مارکیٹ گزشتہ5 سال کی کم ترین سال سطح پر اور ڈالر 155 سے بھی زیادہ کا ہو چکا. سٹاک مارکیٹ ایک سال میں 42500 پوائنٹس سے گر کر 28900 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر آ گئی۔ ایک سال میں روپے کی قدر میں 33 فیصد کمی ہوئی، ڈالر 200 تک جا سکتا ہے”۔

یہ ایک الگ موضوع ہے کہ اس ویڈیو کلپ اور ٹویٹ کے بعد تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم نے ریحام خان کو کیسے کیسے جوابات دیے۔ بھئی! ہم تو انھیں یہاں پیش کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، آپ بھی ان پر ریسرچ نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔

عمران خان حکومت کی کارکردگی پر ایک اور ٹوئٹر صارف ڈاکٹر شعیب خان نے لکھا:
۔اسٹاک ایکسچینج 42500 سے 28900 پوائنٹس (58 ارب ڈالر نقصان)
۔ڈالر 105 سے 162 (32% بے قدری سے 41% بیرونی قرضے اضافہ 2800 ارب روپے کا نقصان)
۔مجموعی قرضوں میں 7600 ارب 28 اضافہ%(47 ارب ڈالر نقصان)
۔ 10لاکھ بیروزگار
۔80لاکھ غربت نیچے
۔مہنگائی200% اضافہ
۔ترقی شرح5.8%کم ہو2.7%

تحریک انصاف کے مخالفین کے یہ حقائق کس قدر درست یا غلط ہیں، ایک عام پاکستانی بخوبی جانتا ہے کیونکہ اس پر عمران خان حکومت کی پالیسیوں کے اچھے یا برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

آپ کسی چائے خانہ میں چائے پیتے ہوئے، بس یا ٹرین میں سفر کرتے ہوئے ذرا اس موضوع پر ایک سوال اچھالئے، آپ کو ہر طرف سے بہت سے جوابات موصول ہوں گے۔ گنتی کرنا مت بھولئے گا کہ کتنے جوابات حکومت کی حمایت میں اور کتنے مخالفت میں ہیں۔

آخر میں ایک اہم ترین بات:
اس وقت اسلام آباد میں مارگلہ کے پہاڑوں پر شام اتر رہی ہے لیکن ابھی تک تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم اپنے لیڈر کے دفاع میں ٹوئٹر کے میدان میں کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ ہاں! وہ اپوزیشن کی طرف سے قائم کردہ ٹرینڈ مہیں کہیں کہیں اپنی ٹویٹ ضرور ٹانگ رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں