عمران خان، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب 148

عمران خان کی تقریر، پاکستانی قوم کتنے دن خوش رہ سکے گی؟

عبیداللہ عابد۔۔۔۔۔
پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے قبل کہاتھا کہ وہ وہاں‌ایسا خطاب کریں‌ گے کہ پہلے کسی نے نہ کیا ہوگا۔ ان کے بقول:” میں‌اپنی قوم سے وعدہ کرکے جارہاہوں کہ میں اس طرح‌کشمیر کا کیس اقوام متحدہ میں پیش کروں گا جو آج تک کسی نے نہ کیا ہوگا۔”

انھوں نے گزشتہ روز جو تقریر کی، واقعتاً اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ نوازشریف، آصف علی زرداری، جنرل مشرف ، بے نظیر بھٹو سمیت متعدد حکمرانوں کو اقوام متحدہ میں خطاب کرنے کا موقع ملا لیکن کسی نے اس اندازمیں کشمیر اور امت مسلمہ کے مسائل کا ذکر نہیں کیا۔

ہمارے سابقہ حکمرانوں کا وتیرہ رہاہے کہ وہ “سفارتی زبان” کے چکروں میں پڑے رہے، مصلحتوں کے اسیر رہے یا پھر انھیں کوئی خوف لاحق تھا جو انھیں کچھ کہنے سے روکتاتھا، یاپھر وہ کشمیریوں سمیت امت مسلمہ کے درد کو یوں محسوس نہیں کرتے تھے جیسا عمران خان نے کیا۔ ان باتوں میں سے کوئی ایک بات تو ضرور ہے۔

بات جو بھی ہو، عمران خان یہ تقریر نے ان کے حامیوں کو ایک نئی زندگی عطا کردی ہے۔ ورنہ ان کے حامی عمران خان کی پاکستان کے اندرون سے متعلق پالیسیوں سے بہت پریشان تھے۔ وہ ان کا دفاع کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ تاہم اب وہ ایک بار پھر پرجوش ہوچکے ہیں۔

دوسری طرف اس تقریر کا عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی خصوصی طور پر تذکرہ کیاہے جبکہ بھارت میں‌ کافی بے چینی محسوس کی گئی ہے۔

پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ ’اس بارے میں تو کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اس بار پاکستان کے وزیرِ اعظم اپنا مؤقف سامنے رکھنے میں انڈیا کے وزیرِ اعظم سے کئی گُنا زیادہ کامیاب ہوئے ہیں”۔

جماعتِ اسلامی کے جنرل سیکرٹری امیر العظیم نے کہا کہ “عمران خان کی کشمیر کے حوالے سے تقریر کافی خوش آئند ہے اور خاص کر یہ بات کہ انھوں نے کلمہ پڑھ کر اقوامِ متحدہ کو بتا دیا کہ کسی بھی صورت کشمیر پر سودے بازی نہیں کی جائے گی۔”

معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار محمد عامر خاکوانی کا کہناہے :”اپنے چوبیس سالہ دور صحافت اور طالب علمانہ دور ملا کر پینتیس چالیس سالہ ہوش کی زندگی میں کسی پاکستانی لیڈر کو عالمی فورم پر ایسی موثر، مدلل ، بھرپور تقریر کرتے نہیں دیکھا”۔

ان کے مطابق “اسلامو فوبیا کا کیس کم ہی لوگوں نے ایسے دلائل سے پیش کیا، کشمیر پر اتنی عمدہ، دلائل سے پر، نہایت خوبصورتی سے اہم حقیقی نکات کی توجہ دلاتی تقریر تھی۔
اقوام متحدہ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی نہایت موثر کوشش”۔

عامرخاکوانی کا دعویٰ ہے کہ “کشمیریوں کا کیس اس سے بہتر انداز میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ عمران خان نے واقعی کشمیریوں کا سفیر ہونے کا حق ادا کر دیا”۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر حکومت کے مخالفین نے بھی عمران خان کی تقریر پر ان کی تعریف کررہے ہیں،مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا کارکنان خاموش ہیں البتہ جماعت اسلامی کے لوگوں کی بڑی اکثریت نے تقریر پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم کی تقریر سے خصوصاً پاکستان میں ماحول ان کے حق میں‌ہوگیا، انھیں‌ہرطرف سے تعریف و تحسین ملی تاہم بعض حلقوں اس خدشہ کا اظہار کررہے ہیں کہ عمران خان حسب سابق یوٹرن لیں گے۔ ان کی تقریر کے مقابل ان کا عمل اور پالیسیاں بالکل مختلف ہوں گی۔

دیگر کچھ حلقے یہ خیال بھی ظاہر کرتے ہیں کہ عمران حکومت اس تقریر کی آڑ میں اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کرے گی کیونکہ پاکستانی قوم شدید معاشی بحران کا شکار ہوچکی ہے، بے روزگاری، مہنگائی کا طوفان سخت ہے۔ ایسے میں عمران حکومت شدید تنقید کا نشانہ بنی ہوئی تھی اور اپنے خلاف عوامی غیظ و غضب کو محسوس کررہی تھی۔ شاید اس تقریر کے سبب اسے دو یا تین دن سکون کا سانس لینے کو مل جائیں تاہم جب پاکستانیوں کا دھیان اپنی مشکلات بھری زندگی کی طرف ہوا تو ان کے اندر حکومت مخالف جذبات کا طوفان پھر سے اٹھ کھڑا ہوگا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عمران خان حکومت عام لوگوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرے۔ بجلی کے بلوں اور گیس قیمتوں سمیت ہر شعبہ زندگی میں مہنگائی نے پاکستانیوں کو موت کے قریب کردیاہے۔۔۔۔۔ اس لئے جناب وزیراعظم! صرف ایک تقریر پر ہونےو الی واہ واہ پر خوش نہ ہوں، پاکستانیوں کی آہ آہ کو بھی سنیں۔ اس پربھی دھیان دیں۔

جیسے بھی ہو، اشیائے ضروریہ کو نوازشریف دور کے اختتام والی سطح پر لے کر جائیں۔ اگر اس سے بھی کم کرسکیں تو پھر مولانا فضل الرحمن سمیت کوئی بھی آپ کی حکومت کو لاک ڈائون کا شکار نہیں کرسکے گا۔۔۔۔۔ بصورت دیگر لاک ڈائون اور پھر ڈائون ہونے کی تیاری کرلیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں