میجر جنرل آصف غفور، ڈی جی آئی ایس پی آر 27

مولانا کس ادارے کی بات کررہے ہیں؟: ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ملک کے استحکام کو کسی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ فوج ایک غیر جانب دار اور قومی ادارہ ہے اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ قانون کے دائرے میں رہ کر تعاون کررہا ہے۔

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور تمام اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ میں حکومت کو دی گئی مہلت پر میزبان کی جانب سے کیے گئے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ‘آج جلسے میں جہاں یہ بات چیت ہوئی وہاں اپوزیشن کی لیڈر شپ موجود تھی اور مولانا فضل الرحمٰن تجربہ کار سیاست دان ہیں اور جو بات وہ کرتے ہیں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں’۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے میزبان کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘پہلی بات تو ان سے یہ پوچھنے کی ہے کہ وہ کس ادارے کی بات کررہے ہیں، کیا ان کا حوالہ الیکشن کمیشن کی طرف ہے، عدالتوں کی طرف ہے یا فوج کی طرف ہے، لیکن جیسے آپ کہہ رہے کہ انہوں نے فوج کی بات کی، اگر ایسا ہے تواپوزیشن کی سمجھنے کی یہ بات ہے کہ فوج ایک غیر جانب دار ادارہ ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم آئین اور قانون کی عمل داری پر یقین رکھتے ہیں اور ہماری سپورٹ ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ ہے کسی ایک جماعت کے لیے نہیں ہے لیکن انہیں اگر الیکشن کی شفافیت سے متعلق شکایت ہے تو وہ اس سلسلے میں فوج کو گھسیٹ رہے ہیں تو پہلی بات یہ ہے کہ فوج نے الیکشن میں آئینی اورقانونی ذمہ داری پوری کی ہے’۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ‘ پھر بھی انہیں کوئی شکایت ہے تواس سلسلےمیں ایک سال کا عرصہ گزر گیاہے، اس کے باوجود ان کا آئینی حق ہے کہ وہ اپنے تحفظات متعلقہ اداروں کے پاس لے کر جائیں، سڑکوں پرآکر صرف الزام تراشی سے مسئلے حل نہیں ہوتے تو ان کے پاس یہ آپشن ہے کہ وہ اس اپنے آئینی حق کو استعمال کریں اور جو بھی الزامات ہیں وہاں لے کر جائیں بجائے اس طرح فوج پر الزام تراشی کریں’۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے پچھلے 20 سال میں خاص طور پر بہت مشکل وقت گزارا ہے، پاکستانی قوم نے پاکستانی افواج نے دہشت گردی کے اس عفریت کا مقابلہ کیا ہے جس کا کوئی اور ملک اور کوئی دوسری فوج نہیں کرسکی، ہم نے جانوں کی اور مال کی قربانی دے کر ملک میں امن وامان پیدا کیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت بھی لائن آف کنٹرول میں کشیدگی ہے، ہمارے جوان اور معصوم بے گناہ نہتے شہری شہید ہورہے ہیں نہ صرف یہ بلکہ مقبوضہ کشمیر میں کیسے ظلم و ستم جاری ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس وقت پاکستان کی ایک لاکھ فوج مشرقی سرحد پر فرائض انجام دے رہی ہے، دوسری طرف مغربی سرحد پر دیکھیں تو وہاں حالات بہتری کی جانب جارہے ہیں ہم بہت سارا کام سرحد پر کر رہے ہیں تقریباً 2 لاکھ فوج وہاں مصروف ہے’۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ‘ہمارے بہادر قبائل اور کے پی کے بہادر عوام نے پچھلی دو دہائیاں بہت مصیبت میں گزاری ہیں، اب ان کی فلاح و بہبود اور بحالی کا وقت ہے، تعلیم، صحت اور باقی تمام سہولیات بہتر کرنے میں بھی ہم حکومت کی بھرپور مدد کررہے ہیں کہ وہاں کام بہتر ہو’۔

میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ ‘ردالفساد پورے ملک میں جاری ہے، اس سلسلے میں بھی فوج پورے ملک میں مصروف ہے اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن ہورہے ہیں تاکہ ملک میں دائمی امن قائم ہوسکے’۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ‘ان حالات میں اگر ملک کسی قسم کا انتشار کا شکار ہوتا ہے تو یقیناً یہ ملکی مفاد میں نہیں ہے، ہمیں جمہوری روایات اور ان کے طریقوں کے مطابق چلنا چاہیے، جس سیاسی جماعت کو جو بھی مسئلہ ہے وہ آئین اور قانون کے اندررہتے ہوئے اس مسئلے کو متعلقہ اداروں کے ساتھ حل کریں تو نہ صرف جمہوریت کے لیے بہتر ہوگا بلکہ ملک کے استحکام کو بہتر کرنے میں بھی بہت مددگار ثابت ہوگا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ابھی تک تو حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیاں بنی ہیں وہ آپس میں بہتر رابطے سے چل رہی ہیں، جلسہ بھی ہوا اور جس طریقے سے پہنچے بھی ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ بہتر طریقے سے کام آگے چلے لیکن افواج پاکستان ایک قومی ادارہ ہے غیر جانب ادارہ ہے اور حکومت کے ساتھ آئین اور قانون کی باونڈری کے اندر رہتے ہوئے ان کی سپورٹ کرتے ہیں’۔

جلسے میں صورت حال میں خرابی کی صورت میں کیا کارروائی ہوگی تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ ‘آگے کیا صورت حال ہوگی اور آگے کیسے چلتی ہے اس میں بھی آئین اور قانون کے تناظر میں جو بھی فیصلہ حکومت کرے گی اس پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، لیکن ملک کے استحکام کو کسی بھی صورت میں نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں