امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انڈیا کے وزیراعظم نریندرمودی کا استقبال کرتے ہوئے 179

نریندرمودی ۔۔۔۔۔۔۔ ہندوقوم سے مخلص، ہندومت کے نظریہ کا پکا لیڈر

فضل ہادی حسن، اوسلو۔۔۔۔۔۔
جب وہ اپنے صوبے کا وزیر اعلیٰ تھا تو اس نے اپنے صوبے اور قوم کی خوب خدمت کی تھی۔ اس نے اپنی قوم اور اپنے نظریہ پر کمپرومائز نہ کرتے ہوئے اپنی سوچ اور فکر کے لیے لوگوں کے سروں کو کاٹنے سے بھی گریز نہیں کیا، اس نے اپنے عقیدہ پر پختگی کے ساتھ اپنے مخالف عقیدے والوں سے سختی نمٹننے کا تہیہ کرنے کے بعد نہ عالمی برادی کی پرواہ کی اور نہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو خاطرمیں لایا،

یہاں تک کہ امریکہ نے اس شخص کا داخلہ اپنی حدود میں بند کردیا۔ ہم خوش فہم مسلمانوں نے اسے “گجرات کا قصاب” کا نام دیا، ہم نے اسے ہندو قوم پرستوں کی بڑی اور خفیہ تنظیم آری ایس ایس کا کارندہ قرار دیا، لیکن انڈین قوم بالخصوص ہندوازم نے اسے دنیا کی ایک بڑی ریاست کا حکمران چن لیا۔ اس شخص کا نام نریندر مودی ہے جو اس وقت انڈیا کا وزیر اعظم ہے۔

مودی کی پہلی مدت اور پھر حالیہ مدت جس طرح جارہی ہے وہ الگ موضوع ہے لیکن امریکہ کی سفری پابندیوں سے لیکر آج امریکی صدر کے “تہینتی الفاظ” تک کے سفر سے ایک حقیقت آشکارا ہوئی کہ جب قوم متحد اور بہتر لیڈر کو سربراہ مملکت چن لیتی ہے تو دنیا ضرور جھک جانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔

آج جب مودی امریکہ کے شہر ہوسٹن میں انڈین کیمونٹی کے سامنے کھڑا تھا تو انہیں عزت دینے والے اور خوش آمدید کہنے والوں میں صرف ہندوستانی نہیں بلکہ امریکہ کے اعلیٰ عہدہ داربھی شامل تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ الفاظ ” one of American’s greatest most devoted and most loyal friends of prime minister Modi of India” سننے سے مجھے حیرت نہیں بلکہ عالمی سیاست پرجہاں ہنسی آئی وہاں اپنی سوچ اور نظریہ کی اہمیت پر مزید یقین پختہ ہوگیا۔ امریکی قوم سے لیکر امریکی صدر تک اپنے نظریہ پر کاربند نظر آئیں گے جبکہ ایک ہندوستانی سے لیکر مودی تک اپنے نظریہ سے مخلص، وفادار اور پُرعزم نظر آئے گا۔

مودی اس منصب تک کسی کے کندھوں پر سوار ہوکر نہیں پہنچا ہے۔ مودی کو کسی کی مدد یا بیساکھی کی ضرورت نہیں پڑی ورنہ آج ہوسٹن میں وہ بھارت اور بھارتی جنتا کی بجائے “انڈین اپوزیشن” کو نشانہ بناتے ہوئے نظر آتے۔ بلکہ اس منصب تک پہنچے کے لیے مختلف مراحل کے علاوہ اپنی تنظیم سے گہری وابستگی کی خاطر اپنی بیوی سے الگ {آر ایس ایس لیڈر شپ کے لیے غیر شادی شدہ ہونا اہم سمجھاجاتا ہے} ہونا پڑا، تاکہ اپنے نظریے اورہندو قوم پرست تنظیم کا ایجنڈا آگے بڑھا سکے۔

پرچی تو مودی صاحب کے پاس بھی نہیں تھی لیکن “ڈیجیٹل انڈیا” سے لیکر کافی قوانین {برٹش لاء سمیت آرٹیکل370 تک} کی تبدیلی اور دیگر اعداد و شمار کو جس کمال سے پیش کئے تو یقینا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لیڈر بننے سے پہلے ان کی تنظیم نے ان کی تربیت کیسی کی ہوگی؟ مودی کی تقریر پر تنقید بھی کی جاسکتی ہے اور توصیف بھی لیکن جہاں تک میں نے اس کی تقریر سنی تو مجھے تین باتوں کو اچھی طرح نوٹ کرنا پڑے۔

1۔ اس نے انڈیا کو عالمی منڈی کے لیے ایک سازگار اور پائیدار منڈی کے طور پر اس طرح پیش کیا کہ اس نے 5 ٹریلین ڈالر اکانومی کے لیے کمر کس لی ہے ، اس نے امپورٹ اور ایکسپورٹ بڑھانے اور انفراسٹرکچر کے لیے تقریبا 1٫3 ٹریلین ڈالر { 100 لاکھ کروڑ رویپے} خرچ کرنے والے ہیں۔

2۔ مودی نے نہ اپوزیشن کو “بھرپور” تنقید کا نشانہ بنایا اور نہ “کالادھن” کا رونا روکر اپنی قوم کی “عالمی” بے عزتی ہونے دی۔

3۔ جب سے اس نے کہا کہ “مودی اکیلے کچھ نہیں ہے۔ بلکہ 130 کروڑ بھارتیوں کی ریاست کا کام کرنے والا ایک عام سا آدمی ہوں۔” {اور یہ جھلک یعنی تواضع اس کی تقریر میں جابجا نظر بھی آئی} تب مجھے اپنے ملک کے لیڈروں سے سننے والا ان کا محبوب لفظ “میں۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔۔۔ اورمیں” یاد آگیا۔

مودی اور ٹرمپ کو اکھٹے دیکھ کر میرا یہی تبصرہ ہے کہ پاکستانی لیڈرز کم از کم اپنی نظریہ اور پاکستانی قومیت کے ساتھ مخلص ہوجائیں وہ پاکستان سے سچی محبت کرنے لگ جائیں تو پھر سفارتی آداب اور پروٹوکول کچھ معنی نہیں رکھتا پھر امریکی صدر اپنے ایحنڈا سے ہٹ کر ہاتھ میں ہاتھ ڈال پورے ہال کے اردگرد چکر لگانے کو بھی عزت اور اعزاز سمجھے گا۔

ایک اوورسیز پاکستانی کی حیثیت سے چند بے ربط احساسات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں