امریکا میں مقیم پاکستانی صحافی نیرزیدی 160

واشنگٹن کے پاکستانی بزرگ صحافی نیرزیدی پر کیا بیت رہی ہے؟

جنگ،جیو، اخبارجہاں، بی بی سی اردو سے وابستہ، امریکی ریاست ورجینیا میں‌مقیم پاکستانی بزرگ صحافی نیرزیدی کو ایف بی آئی نے کیوں گرفتارکیا؟انکے ساتھ کیا بیت رہی ہے؟

تزئین حسن۔۔۔۔۔
بچپن سے ‘جنگ ‘اور ‘اخبار جہاں’ کے صفحات پر ایک نام دیکھتے رہے: نیّر زیدی جس کے ساتھ واشنگٹن کچھ ایسے جڑا ہوتا کہ نام کا ہی حصہ محسوس ہوتا-2008 میں انہیں امریکا میں گرفتار کیا گیا۔

مجھے کوئی تین سال پیشتر ایک پٹیشن نیٹ پر ملی تھی جسے کوئی چالیس کے قریب لوگوں نے سائن کیا تھا پٹیشن کے ساتھ ایک تفصیلی مضمون بھی تھا جس پر کوئی تاریخ موجود نہیں اور کوئی حوالہ بھی موجود نہیں کہ دی گئی معلومات کہاں سے لی گئی ہے۔https://secure.avaaz.org/en/community_petitions/NAYYAR_ZAIDI_IS_A_JOURNALIST_NOT_A_CRIMINAL_FREE_HIM/?fbclid=IwAR34s_xCAvFcJJJ6tvKRll0WYwtYsRClBNewxLzIVPqApAiMyPYB1F4CYH4

نیّر زیدی ورجینیا میں کوئی بیس سال سے زائد عرصے سے مقیم تھے اور جنگ، اخبار جہاں، جیو، بی بی سی اردو، اور بہت سے دوسرے میڈیا کے لئے سیاسی تجزیہ کاری کرتے تھے-

مضمون کے مطابق انہیں ایف بی آئی نے با قاعدہ ایک جرم میں ملوث کر کے اغوا کیا اور یہ ایک طرح سے وار آن ٹیرر کی سفاکیوں کا شکار ہوئے-

مضمون کے مطابق انہیں ایف بی آئی نے نائن الیون کے بعد اپنا انفارمنٹ یعنی جاسوس بننے کی پیشکش کی جسے انہوں نے مسترد کر دیا- اس کے کچھ عرصے بعد انہیں دہشت گردی کے الزام میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی اور ان کی جاسوسی کی گئی-

ان کی فون اور انٹرنیٹ وغیرہ کوٹیپ کیا گیا۔ ایڈورڈ سنو ڈن اور کچھ دیگر گھر کے بھیدیوں نے اس بات کو بےنقاب کیا ہے کہ امریکی حکومت کے محکمے ایسی حرکتوں میں ملوث رہے ہیں۔ اب یہ بات خود امریکا میں بھی تسلیم شدہ ہے۔

پٹیشن کے ساتھ دیئے گئے مضمون کے مطابق 2003 میں سی این این کے جوناتھن مین نامی اینکر نے نیّر زیدی کے ساتھ انسائٹ ود جوناتھن مین میں انٹرویو بھی کیا۔ اس انٹرویو کی ٹرانسکرپٹ ریکارڈ اور وڈیو ہٹا دی گئی ہے۔

اگر آپ نیّر زیدی اور جوناتھن مین کو گوگل کریں تو اس انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ لنک سامنے آتا ہے لیکن “پیج کام نہیں کررہا” کا انگریزی میسج سامنے آتا ہے-http://edition.cnn.com/TRANSCRIPTS/0512/23/i_ins.02.html

مضمون کے مطابق 2008میں نیر زیدی کو ایک فون کال موصول ہوئی جس کے مطابق ایک ماں نے اپنی تیرہ سالہ بیٹی کے بارے میں بتایا کہ وہ کسی بوڑھے آدمی کے ساتھ جنسی صحبت کرنا چاہتی ہے۔

نیّر زیدی نے ماں اور بیٹی سے پرائیویٹ پلیس پر ملنے سے انکار کر دیا لیکن تجسس سے مجبور ہو کر ایک پبلک پلیس یعنی ایک پارکنگ لاٹ میں ملنے کی آمادگی ظاہر کی۔ وقت مقررہ پر جیسے ہی وہ پارکنگ لاٹ میں گاڑی سمیت داخل ہوئے وہاں موجود بڑی تعداد میں ایف بی آئی کے اہلکاروں نے بغیر کسی وارنٹ کے انہیں گرفتار کر لیا-

مضمون کے مطابق ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے انٹرنیٹ پر ایک تیرہ سالہ بچی کو جنسی صحبت کے لئے بھلا پھسلا کر راضی کیا اوراب اس سے ملنے یہ وہاں پہنچے تھے۔ ان کی گرفتاری اور اس الزام کی تصدیق انٹرنیٹ پر موجود دوسرے مضامین سے بھی ہوتی ہے۔ https://alaiwah.wordpress.com/2008/09/18/geo-reporter-approaches-a-13-year-old-for-sex/

انٹرنیٹ پر موجود دوسرے مضامین کے مطابق الزام میں یہ بات بھی صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ فون پر لڑکی کی ماں کی جگہ ایف بی آئی کا کوئی انڈر کور ایجنٹ موجود تھا۔

نیّر زیدی کو وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا گیا اور23 مارچ کوجب جج کے سامنے پیش کیا گیا تو اس وقت بھی ان کے خلاف کوئی پولیس وارنٹ موجود نہیں تھا جو کہ امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں کسی گرینڈ جیوری کے سامنے بھی پیش نہیں کیا گیا۔

مضمون کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیز نے ان کے وکلاء کو ہراساں کیا اور بالآخر نیّر زیدی نے اپنا کیس خود لڑنے کا فیصلہ یہ جانتے ہوئے کیا کہ امریکا میں یہ بات ہمیشہ مدعا علیہ کے خلاف جاتی ہے۔

یاد رہے کہ ان پر اٹھارہ سال سے کم عمر یعنی ایک تیرہ سالہ بچی کو غیر قانونی (امریکی قانون کے مطابق ) جنسی سرگرمی کے لئے اکسانے، ترغیب دینے، ورغلانے، جبر کرنے کا الزام ہے-

انٹرنیٹ پر ہی ارشاد سلیم، دیس پردیس نامی ویب سائٹ کے ایڈیٹر کا بہت صاف اور شستہ انگریزی میں لکھا ہوا ایک اور مضمون بھی موجود ہے۔ مضمون پر نام موجود نہیں لیکن مصنف کا کہنا ہے کہ جولائی کے مہینے میں نیّر زیدی کی شریک حیات شاہین نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ وہ کوئی تین مہینے سے جیل میں ہیں۔

شاہین نے ان صاحب کو نیّر زیدی کی جیل میں ہونے والے رابطوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ پھر ان صاحب کو نیّر زیدی کی فون کال اوہائیو جیل سے موصول ہوئی جس میں ان کی درخواست تھی کہ اس معاملے کو پبلک کیا جائے۔

ارشاد سلیم کے مطابق نیّر زیدی کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل اوہائیو جیل میں ان قیدیوں کے لئے آواز اٹھانے کے سلسلے میں ریسرچ کرنے آئے تھے جنھیں انصاف ملنے میں رکاوٹ کا سامنا تھا لیکن آج وہ خود اوہائیو جیل میں ایک قیدی کی حیثیت سے موجود ہیں۔

ارشاد سلیم کے مطابق انہوں نے کیس پر تبصرہ کے بغیر نیّر زیدی کو اخلاقی مدد دینے اور ان دستاویزات کو تفصیلی طور پر دیکھنے کا وعدہ کیا- اس کے بعد انہوں نے پاکستانی ایمبیسی واشنگٹن کے پریس اتاشی کیانی سے رابطہ کیا جس پر کیانی نے انہیں انفارم کیا کہ انہیں حال ہی میں پاکستانی سفیر حسین حقانی سے نیّر زیدی کی گرفتاری کی اطلاع ملی ہے اور حسین حقانی بھی اس پر “تشویش زدہ” ہیں۔

نیٹ ہی پر موجود ایک اور مضمون میں ڈیلی ٹائمز کے حوالے سے کہاگیا ہے کہ نیّر زیدی سے2003 میں ایف بی آئی نے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ ان کے گھر کے فون نمبر سے نائن الیون کے بعد دس مختلف بیرونی کالز کی گئیں جن میں انڈیا، پاکستان، چین، ہالینڈ اور تھائی لینڈ شامل ہیں،یہ نمبر نائن الیون کی واردات میں شامل تفتیش ہیں-

ان سے کہا گیا کہ وہ اپنی ٹیلی فون بک ایف بی آئی سے شئیر کریں۔ نیّر زیدی نے اس درخواست یا حکم کی تعمیل سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل نیّر زیدی سے امریکی انٹیلی جنس حکام نے 1995 میں بھی رابطہ کیا تھا جب یہ پی ٹی وی کے لئے کام کرتے تھے اور انہیں انفرمنٹ بننے کی آفر کی تھی جسے انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔

اس پٹیشن کے مطابق ( جو سب مضامین سے زیادہ تازہ ترین ہے) نیّر زیدی تاحال جیل میں ہیں۔

نائن الیون کے بعد امریکا میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں اور انھیں اپنی معلومات کی سورسز شئیر کرنے کے احکامات بھی موصول ہوئے ہیں جیسے نیو یارک ٹائمز کی صحافی جنہوں نے عراق میں بڑے پیمانے پر تباہ پھیلانے والے ہتھیاروں کی تصدیق پر مبنی مضامین بغیر سورس کا نام لئے شائع کیے- لیکن نیّر زیدی کا معاملہ مختلف تھا۔

ان کے کسی مضمون سے امریکی پالیسی سازوں نے استفادہ نہیں کیا تھا۔ جہاں تک بات تیرہ سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کے لئے ورغلانے کی ہے تو اگر واقعی نیّر زیدی اس قسم کا کردار رکھتے تھے تو انہیں لڑکی سے کسی پرائیویٹ جگہ ملنا چاہیے تھا، کسی بھی فیملی رکھنے والے بظاہر با عزت پاکستانی کی ترجیح ایسے معاملات میں یہی ہو گی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ‘جنگ گروپ’ نے جو اس وقت ‘جیو’ کو بھی چلا رہا تھا نیّر زیدی کی گرفتاری پر کوئی آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ بی بی سی اردو اور دیگر میڈیا بھی اس پر خاموش رہے۔

نیّر زیدی کی فیملی جو یقیناً امریکی شہری ہے وہ کیوں خاموش ہے؟ نیّر زیدی کوئی تیس سال سے میڈیا میں سرگرم تھے ان کے لا تعداد دوست احباب امریکا، پاکستان اور دنیا بھر میں موجود ہوں گے، وہ کیوں خاموش ہیں؟ خود حسین حقانی جو امریکی سفیر تھے انھوں نے اس معاملے میں کیا کیا؟

پاکستان میں کسی صحافی تنظیم نے اس گرفتاری اور پھر جیل میں سزا پر احتجاج نہیں کیا جبکہ یہ وہ دور تھا جب “سب سے پہلے” کی دوڑ نے پاکستانی ٹی وی چینلوں کو چکرا کہ رکھا ہوا تھا۔ پاکستانی میڈیا انتہائی سرگرم میڈیا تھا، پابندیاں بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔

میری ذاتی رائے میں نیّر زیدی کی فیملی کو امریکی حکام نے ہراساں کرکے خاموش رہنے پر مجبور کیا کہ ایسی کسی بھی احتجاجی تحریک میں ان کا کردار مرکزی ہونا تھا اور ان کے عملی تعاون کے بغیر کوئی احتجاجی تحریک شروع نہیں کی جا سکتی تھی۔ https://www.rcfp.org/journals/the-news-media-and-the-law-summer-2003/some-journalists-face-arres/

کسی کو نیرزیدی کے بارے میں کچھ معلوم ہو؟ جنگ گروپ یا جیو یا کوئی بھی صحافی تنظیم ان کے لئے کچھ کر رہی ہو؟ کوئی ان کی فیملی کو جانتا ہو؟ “بادبان” یہ سب کچھ شائع کرے گا۔ اگرامریکی سفارت خانہ بھی اپنی حکومت کا موقف دینا چاہے تو “بادبان” اسے بھی من و عن شائع کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں