تونسہ 152

وزیراعلیٰ بزدار کا شہر تونسہ پبلک لاٸبریری سے محروم

کاشف بزدار:

آپ لوگوں کے علم میں ہے کہ ہمارے شہر تونسہ کو یونان صغیر بھی کہا جاتا ہے۔ ماضی میں یہاں ایسے ایسے صاحبان علم نے آنکھ کھولی جن کے علم سے ایک زمانہ فیض یاب ہوا لیکن پچھلے چند سالوں سے جب سے یہاں آبادی بڑھ گئی ہے بدقسمتی سے حکومت نے علم دوست اقدامات کی طرف بہت کم توجہ دی ہے۔ جب تونسہ سے منتخب ہونے والے عثمان بزدار وزیراعلیٰ پنجاب بنے توامید کی ایک کرن جاگی ہے کہ اب تونسہ کی ترقی کا وقت ان پہنچا ہے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ضلع ڈیرہ غازی خان کے اس شہر کی گلیوں کے، سڑکوں کے اور کئی دیگرمنصوبے شروع کیے لیکن یہاں پبلک لاٸبریری قائم کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا حالانکہ اس کی ایک عرصے سے اس خطے کو ضرورت ہے، افسوس کہ اس کیلیے آج تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوا۔

جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے، تعلیم یافتہ افراد وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا پر تونسہ میں‌پبلک لائبریری کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اب ہم لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذرائع یعنی فیس بک اور ٹوٸٹر پر ایک باقاعدہ ٹرینڈ چلایا جائے تاکہ ایک بار یہ آواز زور و شور سے صاحبان اقتدار تک پہنچے اور پھر وزیر اعلیٰ جوکہ خود ایک علم دوست شخصیت ہیں سے ایک علم دوست اقدام کی امید کی جاسکتی ہے۔

تحصیل تونسہ کی آبادی سات لاکھ کے قریب ہے جبکہ شہر کی آبادی ایک لاکھ سے زائد۔ تونسہ شہر کے دفاتر اور سکولوں میں چھوٹی چھوٹی لاٸبریریاں تو ضرور موجود ہوں گی لیکن تونسہ کے علم پسند عوام کے پاس ایک بھی پبلک لاٸبریری نہیں ہے جہاں‌ سے وہ اپنے علم کی پیاس بجھا سکیں‌۔ کیا یہاں بسنے والے لاکھوں لوگوں کو ایک پبلک لائبریری نہیں‌مل سکتی؟

ہم سمجھتے ہیں کہ تونسہ شہر کے تمام لوگوں کو پبلک لائبریری کے حصول کے لئے ایک بھرپور باقاعدہ مہم چلانی چاہیے، اس کے لئے شہر کے صحافیوں کو بھی بھرپور حصہ لینا ہوگا خصوصاً اے سی تونسہ صاحب کی توجہ درکار ہے۔ میری تمام اہل تونسہ سے گزارش ہے کہ سب مل کر سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلاٸیں،

اس کے نتیجے میں بھی مقاصد حاصل نہ ہوئے تو ایک پرامن احتجاج کی طرف جانا چاہئے تب کہیں جاکر اس لاٸبریری کا قیام عمل میں آسکتاہے۔ تاہم اس سے پہلے ہمیں‌ منظم ہونا چاہئے تاکہ ہم اہداف کے حصول تک منظم انداز میں جدوجہد کریں۔ مجھے امید ہے کہ ہم اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب ہوں گے انشااللہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں