وقت 145

وقت ایک تلوار

لائبہ عامر:
ایک دفعہ یہ واقعہ پڑھا تو حقیقت بالکل واضح ہوگئی کہ دنیا ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک دفعہ ایک چیونٹی کو شہد کی ایک بوند ملی، اس نےاسے چاٹا اور آگے بڑھنے لگی لیکن اسے شہد بہت پسند آیا تو دوبارہ پلٹی کہ کیوں نہ میں مزید شہد کھاؤں۔ جب وہ شہد کے پاس پہنچی اور اسے کھانے لگی تو وہ شہد کی بوند کے اندر گھس گئی اور زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

یہی معاملہ ہمارے ساتھ بھی ہے کہ ہم دنیا کو حاصل کرتے کرتے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور قبر کی آغوش تک پہنچ جاتے ہیں۔
کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے:
’’وقت ایک ایسی تلوار ہے جس کو اگر تم نیک اعمال سے نہیں کاٹوگے تو وقت تمہیں کاٹ دے گا !“

جیسے ہی ایک بچہ اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو گھر والے خوشی کے مارے سارے خاندان کو اکھٹا کر کے خوشیاں مناتے ہیں ۔اس پرگھر والے جان چھڑکتے ہیں جب وہ ذرا بڑا ہوتا ہے تواس سےاور زیادہ محبت اور انسیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جب وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوتا ہے تو اس کی حرکات و سکنات سے گھر والے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔

پھر وہ طالب علمی کے دور میں ایک لمبا عرصہ گزارتا ہےاس دوران وہ بہت کچھ سیکھتا ہے۔ معاشرے میں اپنا مقام بناتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی مرضی کا مالک ہوجاتا ہے اور اپنی رائے کو دوسروں کی رائے پر مقدم رکھتا ہےپھر وہ اپنی عملی زندگی میں داخل ہوتا ہےاور ایک شریک حیات اس کی زندگی میں داخل ہوتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی مثال گاڑی کے دو پہیوں جیسی ہو جاتی ہے۔

زندگی کی گاڑی رواں دواں ہوتی ہے ان کے بال بچےان کی زندگی کواور زیادہ با رونق بنا دیتے ہیں، ان کی زندگی پر سکون گزر رہی ہوتی ہے اور وہ اپنے گھر والوں کی ہر خواہش اور ہر آسائش کا خیال رکھتا ہے۔

اچانک ایک دن ایسا دردناک آتا ہے کہ اس کی سانسیں سے رک جاتی ہیں اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملتا ہے۔ گھر والوں پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑتا ہے آہوں اور سسکیوں سےگونجتا ہوا گھر اسے رخصت کرتا ہے اور اپنے ہی گھر والے اپنے ہی ہاتھوں سے اسے قبر کے حوالے کرآتے ہیں۔

شریک حیات اور بچوں کا تو برا حشر ہوتا ہے اور وہ اس اٹل حقیقت کو کئی روز تک قبول نہیں کر پاتے۔ گھر والوں کو ہر پل ہر گھڑی اس شخص کی یاد ستاتی ہے۔ اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب اپنی زندگیوں میں اتنا مصروف ہوجاتے ہیں کہ اس شخص کو اپنی یادوں سے بھی محو کردیتے ہیں۔

یہ ہے کہ انسان کی چند روزہ زندگی جس کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں اور انسان اس فانی دنیا کو حاصل کرنے کے لئے اپنا مال ،اولاد، صلاحیت اور وقت سب کچھ لگا کر اس دنیا سے خالی ہاتھ چلاجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں