ہشام سرور، پاکستان کے سب سے کامیاب فری لانسر 187

پاکستان کے سب سے کامیاب فری لانسر ہشام سرور کی کہانی(2)

عبیداعوان۔۔۔۔۔۔
ہشام سرور کہتے ہیں:” ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ لوگ جن کا تعلق کمپیوٹر ایجوکیشن سے نہیں ہے، فری لانسنگ شروع کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے فری لانسنگ حادثاتی طور پر شروع کی”۔

“لوگوں میں سے بہت ہوں گے جو اپنے کیرئیر اور جاب سے مطئین نہیں ہوں گے۔ ایسے لوگ میری کہانی کو اپنے ساتھ جوڑ سکتے ہیں کہ وہ صبح نو بجے سے پانچ بجے تک کے لئے جاتے ہیں، لیکن انھیں ایسا احساس نصیب نہیں ہوتا،جس سے انھیں لگے کہ انھوں نے کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ حالانکہ یہ ان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے۔ اسی لئے پچھلے 15 برسوں میں فری لانسنگ سب سے زیادہ فروغ پانے والا شعبہ ہے کیونکہ اس شعبے سے وابستہ لوگ کسی کے ہاں صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک نوکری کرنے کے بجائےاپنے باس خود ہوتے ہیں۔”

ہشام سرور کہتے ہیں:”انھوں نے 2001 میں اس وقت فری لانسنگ شروع کی جب انھوں نے ایک میگزین کے سرورق پر مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی تصویر دیکھی۔ میگزین میں ان کا مضمون تھا، یہ زندگیوں کو تبدیل کرنے والا مضمون تھا کہ جو کامیابی کمپیوٹر کی دنیا میں انسان حاصل کرسکتا ہے، وہ کسی دوسری انڈسٹری میں آسانی سے نہیں ملتی۔ چاہے وہ شہرت ہو، چاہے وہ خودروزگار ہو، چاہے وہ مالی فوائد ہوں ، چاہے وہ خودمختاری ہو”۔

“کمپیوٹر کاکام کرنا سب سے سستا اور آسان کام ہے۔ آپ کے پاس ایک اچھا سا کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ ہونا چاہئے اور انٹرنیٹ کنکشن اور بس! “

“فری لانسنگ اسی کا نام ہے کہ آپ جو کام کرنا چاہتے ہیں، وہ آپ ریلیکس ماحول میں کریں۔ اس میں آپ کسی کو جوابدہ نہیں ہوتے سوائے اس فرد کے جس کاکام آپ کرتے ہیں”۔

ہشام سرور کے مطابق”بل گیٹس کا وہ مضمون پڑھ کر میں نے فیصلہ کرلیاتھا کہ میں اپنی جاب چھوڑ دوں گا۔ چنانچہ میں نے بغیر سوچے سمجھے اپنا استعفیٰ دیدیا، گرافک ڈیزائننگ کی مہارت حاصل کی، اور ایک فری لانس مارکیٹ پر کام شروع کردیا۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں ایسی بہت سی مارکیٹیں موجود ہیں”۔

وہ کہتے ہیں:”فری لانسنگ ان لوگوں کے لئے ہوتی ہے جو اپنے خواب کو حقیقت کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ سبب یہ ہے کہ وہ لوگ خودمختاری کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، وہ اپنے باس خود ہی بننا چاہتے ہیں، وہ معاشی آزادی کو پسند کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے اچھے یا برے کام پر خود کو جوابدہ ہوں۔

ہشام سرور کہتے ہیں:”استعفیٰ دے کر میں نے نہ صرف گرافک ڈیزائننگ کو سیکھا، اسے ایڈوانسڈ کیا، اور پھر اتنا کام کیا کہ دنیا کی ایک بڑی فری لانس مارکیٹ ‘گرو ڈاٹ کام’ کے ہوم پیج پر میرا نام اور پاکستان کا جھنڈا تقریبا تین سال دکھائی دیتا رہا”۔

ہشام سرور کہتے ہیں کہ آپ جو بھی کام کریں، سب سے پہلے اپنے ملک کو سامنے رکھیں کیونکہ آپ اپنے ملک کے برانڈ ایمبیسیڈر ہیں۔ آپ اپنے آپ کو اس سطح پر لے کر آئیں کہ نہ صرف آپ کاکام آپ کی پہچان بنے بلکہ آپ اپنے ملک کانام بھی روشن کریں۔

“فری لانسنگ شروع کرنے میں سخت محنت، کام سے لگن اہم ترین کردار ادا کرتی ہے”۔

ہشام سرورکو فری لانسنگ کے ذریعے ایک ویب ڈیزائنر اور ڈیویلپر کے طور پر کام کرتے ہوئے اب اپنی ایک کمپنی قائم کر چکے ہیں جہاں تقریباً دو درجن لوگ ملازمت کر رہے ہیں۔

ہشام مختلف فری لانس مارکیٹ پلیسز یعنی ویب سائٹس سے ویب ڈویلپنگ، گرافک ڈیزائننگ اور موبائل ایپلی کیشن ڈومین کے پراجیکٹ لیتے ہیں، اس طرح وہ اب تک 10لاکھ ڈالرز (تقریباً ساڑھے سولہ کروڑ روپے) کما چکے ہیں۔

آج کل وہ پاکستانی حکومت اور ورچوئل یونیورسٹی کے ایک مشترکہ پروگرام کے تحت 10 لاکھ نوجوانوں کو فری لانسنگ سکھارہے ہیں۔ان کورسز کے نئے بیچ کی انرولمنٹ یکم جولائی 2019 سے https://digiskills.pk/ پر ہورہی ہے۔

یہ کورسز بالکل مفت ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس وقت ہوتو یہ کوروسز سیکھ کر اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیجئے، یاپھر اپنے جاننے والے نوجوانوں کو اس سے آگاہ کیجئے۔

(ہشام سرور کی کہانی کا پہلا حصہ “کامیابی کی کہانیاں” کے سیکشن میں موجود ہے، یہ کہانی آپ کو اچھی لگے تو اس کے آخر میں دیے گیے مختلف آپشنز کے ذریعے صرف ایک کلک کرکے اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئے گا۔ اگر آپ اس پر تبصرہ کریں گے توہمارے لئے مزید رہنمائی حاصل ہوگی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں