بزنس مین پریشان حالت میں 149

کاری گروں کے رویے، مسائل اور ان کا حل

ابنِ فاضل ۔۔۔۔۔۔۔
گئے دنوں کی بات ہے گوانزو کی فلائٹ پر ایک صاحب سے تعارف ہوا۔ لاہور شاہ عالم مارکیٹ میں مردانہ بٹووں کا تھوک کا کاروبار کرتے تھے۔ بڑے فخر سے بتا رہے تھے کہ چھ لاکھ یوان کا ایک کنٹینر بنتا ہے اور میں ہر ماہ ایک کنٹینر لیکر جاتا ہوں۔

حسبِ عادت عرض کیا کہ کیا ظلم کرتے ہیں صاحب! ہر ماہ ایک لاکھ ڈالر زرمبادلہ ضائع کرتے ہیں۔ درجنوں لوگوں کے برسرِ روز گار ہونے کے مواقع چھینتے ہیں۔ یہی مال اگر اپنے ملک میں بنوائیں کتنے لوگوں کا بھلا ہو۔

بڑی ناگواری سے گویا ہوئے:” پہلے یہی کرتا تھا، مقامی کاریگروں کو مشینیں خود خرید کر دے رکھی تھیں، ان کو خام مال لے کر دیتا تھا، ایک ایک کاریگرکو ہزاروں روپے ایڈوانس بھی دیے تھے، ان کی غمی خوشی پر کام آتا تھا۔ اس کے باوجود ہر وقت پریشان کرتے تھے۔

کبھی مال وقت پر بنا کرنہیں دیا، ہماری مشینوں پر ہمارے مسابقتی کو مال بناکر دیتے اور ہمیں بہانے سناتے۔ ہم کبھی اپنے گاہکوں کو بروقت مال فراہم نہیں کرپائے۔ غرضیکہ زندگی میں پریشانیاں ہی پریشانیاں اور مسائل ہی مسائل۔

تب ایک روز میں نے تنگ آکر چین جانے کا فیصلہ کیا۔ تب سے اب تک نہ صرف سکون ہی سکون ہے بلکہ کاروبار میں بھی ناقابل یقین ترقی ہوئی ہے۔

یہ صرف ایک داستان عبرت ہے۔ میں کئی ایسے درجنوں لوگوں سے واقف ہوں جنہوں نے صرف کاریگروں کے رویوں سے تنگ آکر فیکٹریاں ختم کیں اور اب چین سے مال درآمد کرکے بیچ رہے ہیں اور وہ کاریگر حضرات چنگچی چلاکر گھر کا نظام چلارہے ہیں۔

اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں یہی کہوں گا کہ حکومتی سردمہری، حکومتی اداروں کے ملازمین کے ناموافق رویے، خام مال مہیا کرنے اور تیار مال بیچنے والے دکانداروں کی بلیک میلنگ، توانائی کا بحران وغیرہ جیسے مسائل ثانوی ہیں۔

پاکستان کی صنعتی زبوں حالی کی سب سے بڑی وجہ تربیت یافتہ ہنرمندوں کی کم یابی اور ان کے رویے ہیں جو لوگ کسی چھوٹی موٹی صنعت یا دوسرے کاروبار سے متعلق ہیں وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں۔

لیکن کیا اس کا یہی حل ہے کہ ہم دل برداشتہ ہوکر صنعت ہی کو بند کردیں اور انتہائی ناپسندیدہ عمل یعنی درآمد شروع کردیں۔ اس سب کے باوجود کہ ہمارے پیارے ملک پاکستان کی معیشت تجارتی خسارہ کی وجہ سے انتہائی دگرگوں ہے۔

سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ وطن عزیز میں ناخواندگی بہت زیادہ ہے اور کم وبیش فیکٹریوں میں ہنرمند وہی افراد ہوتے ہیں جن کے والدین ان کو غربت کی وجہ سے سکول بھیجنے کی بجائے کسی فیکٹری یاورکشاپ میں بطور شاگرد یا “چھوٹا” بھرتی کروادیتے ہیں، جو وقت کے ساتھ ساتھ استاد کی ماریں اور اپنے سے بڑوں کی تمام تر زیادتیاں برداشت کرتے ہوئے بڑے ہوکر کاریگر یا ہنرمند بن جاتے ہیں۔

اب ایسے لوگوں سے جنہوں نے سکول اور اساتذہ کی شکل نہیں دیکھی اور سارا بچپن محرومیوں اور جوانی غربت کی میں بسر ہورہی ہو، آپ کتنی شائستگی اور تہذیب کی توقع کرسکتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ فیکٹریوں کبھی کسی بھی مالک یا مینیجر نے کبھی اپنے ملازمین کی اخلاقی تربیت کی کوشش نہیں کی۔ میں نے درجنوں صنعت مالکان سے اپنے مزدوروں کے رویوں کی شکایات سننے کے بعد ان سے یہ سوال کیا کہ آپ نے کبھی اس سلسلے میں ان سے بات کی،

ان کو تلقین کی یا ان کی تربیت کی کوشش کی تو جواب ملتا ہے کہ بالکل نہیں یا یہ کہ ہم کیوں کریں۔ جب کہ حقیقت یہ کہ ہر انسان کو ادب اور اخلاقیات کے اسباق کی تجدید کی ضرورت رہتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اسلام میں جمعہ کے خطبہ کا تخیل نہ ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہی جیسے ہم اپنا چہرہ اور کپڑے روزانہ دھونے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

اس سلسلے میں میرا ایک ذاتی تجربہ ہے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنے کاریگروں کیلئے فیکٹری میں درس قرآن کا آغاز کیا۔ اس کام کے لئے ایک عالم کی خدمات حاصل کیں جو شام پانچ بجے سب کو اکٹھا کر کے صرف پندرہ منٹ آخری پارے کی ایک دو آیات اور ان کا ترجمہ اور تشریح سناتے۔

جیسا کہ آپ خوب واقف ہیں کہ آخری پارے میں جہنم اور روز حساب کا کثرت سے تذکرہ ہے، کوئی مہینہ بھر اسی طرح گزرا ہوگا کہ میرا ایک فورمین میرے دفتر میں آیا اور پوچھنے لگا کہ یہ جو قاری صاحب روزانہ ہمیں پڑھاتے ہیں کیا یہ سچ ہے؟

میں نے کہا کہ بھئی! قرآن پاک ہے اور اس سے بڑا سچ اور کون سا ہوگا! تو وہ سرجھکا کر کہنے لگا:”فیرفیر مینوں ماف کردیو میں تہاڈیاں بڑیاں چوریاں کیتاں جے پر اگوں نئیں کراں گا. (پھر مجھے معاف کردیں میں نے آپ کی بہت چوریاں کی ہیں لیکن آئندہ نہیں کروں گا)

عزیزانِ گرامی! اس ملک کو صنعتی ترقی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ دل برداشتہ ہونا چھوڑیں، اپنے لوگوں سے بات کریں ان کی تربیت کریں۔ ان کوبتائیں کہ ہم سب نے مل کر اس ملک کو بحرانوں سے نکالنا ہے اور اپنی زندگیوں میں خوشحالی لانا ہے۔ انشاءاللہ تابناک مستقبل ہمارا منتظر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں