فیض اللہ خان، رپورٹنگ کرتے ہوئے 82

کراچی : وبا اور لوڈشیڈنگ میں گزری رات کا احوال

فیض‌اللہ خان :

کوئی سوا بارہ کا وقت تھا جب میں گھر کی گلی میں داخل ہوا۔ اس سے پہلے کہ گھر پہنچتا اچانک مکانات کی روشن بتیاں گل ہوگئیں اور میں ذہنی طور پہ ڈیڑھ دو گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ واسطے تیار ہوگیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عین اسی وقت کے الیٹرک حکام کا دعویٰ چینلز کی زینت بنا کہ شہر میں کہیں کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں۔

بتی جاچکی تھی، میں گھر پہنچ چکا تھا۔ کپڑے وغیرہ بدل کر لیٹ گیا فون چارجز نہیں تھے۔ سو وقت کا اندازہ لگا کہ دو گھنٹے سے زیادہ کا وقت بیت چکا ہے۔ کراچی میں آج کل جس قسم کی گرمی ہے اسے بیان کرنے کے لئِے الفاظ نہیں۔

مختصر یہ کہ انگ انگ سے پسینہ نکل رہا تھا تنگ آکر نیچے اترا، بائیک کو کک لگائی اور مین روڈ پہنچ گیا۔ وہاں کے الیکٹرک کی گاڑی اور اس کے ارد گرد بنیان شلوار پہنیں چار چھے جلے بھنے شہری نظر آئے۔
سب کی طرح میں نے بھی پوچھا کہ کب آئے گی بتی ؟؟؟ جواب ملا ایک گھنٹہ اور، لگے ہاتھوں پتہ کیا تو معلوم پڑا اس وقت ڈھائی بج رہے ہیں ،

ٹرک میں سوار ملازم بھی دکھی تھا۔ کہنے لگا کہ رات کی ڈیوٹی ختم کرکے گھر پہنچتے ہیں تو وہاں بھی لائٹ نہیں ہوتی۔ یہ گفتگو جاری تھی کہ اس کے دو مزید ساتھی آگئے۔

”یار! بائیک دینا“ ، مجھ سے کہا۔
”کس لیے بھائی؟ “
” فالٹ دیکھنے جانا ہے “
”چھین تو نہیں رہے نا ؟؟ “ میں نے مشکوک سمجھ کر پوچھا۔

” نہیں بھائی! جگہ دور ہے دیدو “، میں نے بائیک حوالے کردی البتہ جاتے ہوئے یہ ضرور کہا کہ ایسا نہ ہو کہیں اسٹاک ایکسچینج پہچ جائو اور میں سہولت کاری کا مقدمہ بھگتا پھروں۔ بہرحال دس منٹ بعد لوٹے اور بغیر شکریہ کہے بائیک واپس کردی جس پہ میں نے ان کا بہت بہت شکریہ ادا کیا،

پونے تین بج چکے تھے۔ باہر ہوا اچھی تھی، سڑک کے دوسری طرف نظر دوڑائی تو آغا جوس کی دوکان کھلی ملی { یہ الگ لطیفہ ہے کہ اگر آپ ہزارہ ہیں تو آغا کے نام سے دکان کھول لیں۔ جس سے پوچھو وہی خود کو اصلی ’ آغا ‘کہتا ہے اور اصل کہاں ہے یہ تو مجھے بھی یاد نہیں، شاید ناظم آباد میں کہیں تھا } وہاں پہنچا تو فالودے کی فرمائش کی وہ آئسکریم ڈالنے لگا تو اسے کہا کہ چاکلیٹ بھی ملا دو۔ کہنے لگا: یہ نہیں ملایا جاتا۔ عرض کی کہ فالودے نام کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے جو ملے ملادو۔

خیر ، سڑک کنارے کرسی ڈال کر اتنے عرصے کا پہلا مجبوری کا فالودہ کھانا شروع کیا کیونکہ نہ اس نے ماسک و گلوز کا اہتمام کیا تھا نہ ہی میں ان چکروں میں تھا۔

اتنے میں دو چار اور بھی گاہک آئے ، میں ہوا کے جھونکے لیتے ہوئے سامنے تاریکی میں ڈوبے اپنے علاقے کو دیکھنے لگا۔ اندھیرے میں لال نیلی بتیاں جلاتے بجھاتے پولیس کی موبائل پہنچ گئی اور اسے بند کرنے کا اشارہ کیا۔ دکاندار سمجھ دار تھا، سب کو آئس کریم پیش کردی سو اس کی مہلت کمائی میں اضافہ ہوگیا۔ موبائل پہ گلستان جوہر تھانہ درج تھا۔

دکاندار بھی فارغ ہوچکا تھا، میرے پاس آن کھڑا ہوا تو اس سے پوچھا کہ ان کا کیا حساب کتاب ہے؟ بتایا کہ یومیہ پانچ سے پندرہ سو تک دو تھانوں کی موبائیلوں کو رشوت دیتے ہیں جس میں فالودے وغیرہ سے تواضع بھی شامل ہے۔ یہی کام وہ دیر تک کھلی رہنے والے ہر دکان کے ساتھ کرتے ہیں۔ ویسے پہلے تو تقریباً ہر ایک سے بھتہ لیتے آج کل کا اندازہ نہیں۔

اسی اثناء میں ساڑھے تین بج گئے اور علاقہ روشن ہوا۔ میں گھر پہنچا تو پنکھے نے استقبال کیا ۔ سونے کی کوشش کی اور کب آنکھ لگی، پتہ نہیں چلا لیکن یہ مسرت بڑی ہی کمینی اور عارضِی ثابت ہوئی کیونکہ میری آنکھ کھلی تو میں پسینے میں شرابور تھا۔ موبائل پہ وقت دیکھا تو ساڑھے چار بج رہے تھے۔ مطلب پورے ساٹھ منٹ کی خوشی تھی۔

دوبارہ اٹھ کر بیٹھ گیا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، پانی بھی ختم تھا، اتنی دیر میں اذانیں شروع ہوگئیں۔ موقع غنیمت جان کر مسجد کی طرف چل پڑا۔ رستے میں وہی کے الیکٹرک کی گاڑی ملی جس کے ملازم سے پہلے کی طرح بتی کا پوچھا تو اس کے مطابق عمران خان قادیانی ہے جو مندر بنا رہا ہے یہ اس کا قصور ہے حالانکہ میرا اس وقت کا ایشو بجلی تھا۔

یہیں اس نے یہ فلسفہ بھی دوہرایا کہ اگر قائد اعظم اور لیاقت علی کو وقت مل جاتا تو آج ہمارے حالات مختلف ہوتے۔ مجھے اس بات میں بھی دلچسپی نہیں تھی۔ اس سے پوچھا کہ بس یہ بتائو کہ بتی کب ؟؟؟؟

کہنے لگا: فالٹ لمبا ہے اب وقت نہیں بتا سکتا۔ صبح دس گیارہ تک بھی ٹھیک ہوسکتی ہے، دوپہر تک بھی۔
اتنی دیر میں وہی چیتا نظر آیا جو بائیک تقریباً مجھ سے چھین کر لے گیا تھا، اسے دیکھتے ہی کہا کہ بھیا! اب کی بار بائیک نہیں دینے والا ۔ بولا تو وہ کچھ نہیں، بس ! غصیلی نظروں سے دیکھنے لگا۔

مسجد پہنچا تو پانی وہاں بھی ختم تھا، تین مختلف نلکوں سے بہنے والے تھوڑے پانی سے وضو کیا، نماز پڑھی، گھر آگیا، سوچنے لگا کہ دس بجے دفتر پہنچنا ہے، گھر میں بتی بھی نہیں۔ مناسب ہوگا کہ آفس ہی چلا جائوں، کپڑے بدلے، قمیض استری شلوار نہ تھی اور چھے بجے شدید سر درد کے ساتھ دفتر پہنچا اور آفس میں نماز کے لئیے مخصوص روم میں لیٹ گیا۔

سوتے جاگتے سوا نو بجے جب ہمارے اسائنمنٹ ایڈیٹر شیخ محمود صاحب حسب معمول چاشت کی نماز پڑھنے واسطے پہنچے تو اٹھ گیا۔ سر کا درد تھکن اور نیند پوری نہ ہونے سے بیزاری کا عالم ہے۔ کچھ دیر پہلے ہمارے پیارے خلیق بھائی نے پیار بھری کافی پلائی تو دماغ کچھ جگہ پہ آیا تو سوچا رات کے فسانے میں آپ کو بھی شامل کرلوں۔

چند گھنٹوں میں رشوت، پابندی کے باوجود دکان کا کھلے رہنا ، کے الیکٹرک کے سیاسی ملازم اور زبردستی { کام واسطے } موٹر سائیکل لے جانے والے اور گرمی سے تنگ فیملیز کے ساتھ وہیں گاڑی میں گھومتے شہری دیکھے۔

کے الیکٹرک کی اس لوڈ شیڈنگ کا ذمہ وار ” مافیا “ ہے جس کے نعرے پہ قوم نے اگلے برسوں میں ووٹ ڈالنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں