کار کی چابی خاتون کی انگلی میں 198

کلید پروفیسری

تیمیہ صبیحہ۔۔۔۔۔
بات ہے ایک گئے جمعے کی ــ جب ہمارے بارہ ضرب بارہ کے متوسط سے دفتر میں بیبیاں جا بجا ٹھسی ہوئی تھیں ـ شمالی کونے میں سر جوڑے شعبے کی تینوں پردھان منتریاں مضامین اور پراجیکٹ کی بندر بانٹ میں مشغول تھیں ـ جنوبی صوفے پر کالے کوٹوں والی وکیلنیاں بیٹھی قانونی و شرعی موشگافیاں کررہی تھیں ـ درمیان میں میزوں پر چڑھی لڑکیوں اور استانیوں کے بین بین ایک مخلوق جو “چھوٹے” رہنے پر مصر ہے، معیشت کی گتھیاں سلجھانے کی سر توڑ کوشش کر رہی تھی ـ

بعضی ایگزیکٹو لیڈیز جو اس قسم کی آڑی ترچھی نشستند گفتند کو خلاف مرتبہ جانتی تھیں، بیچ میں کھڑی اک ادا سے اپنے ابرو اور سٹائلش جوتوں کی لمبی ایڑیاں گھمائے جاتی تھیں ـ کچھ ہماری سوپر ڈوپر جانان جہاں چائے کی کیتلی اور پیالیوں( بلکہ گھڑوں جیسا کہ “پیر صاب” نے نام دے رکھا ہے) کی ترتیب میں لگی ہوئی تھیں ـ اور ایک ہم تھے کہ چوتھائی کان ادھر نصف ادھر لگائے ہر منڈلی میں حاضر رہنے کا کرشمہ سر انجام دینے کی ناکام کوشش کر رہے تھے ـ اس ہجوم میں بھک بھک بلتے ہیٹر سے کپڑے بچانے کی مہم بھی درپیش تھی چونکہ ہم اسی کے ہمسایے بنے بیٹھے تھے ـ

آخر جب مضامین کی تقسیم پر کافی حدت پیدا ہو چکی ـ آنکھیں سرخ ہونے لگیں .. نیز قانون آرڈیننس کی شکل میں برسنے کو ہوئے اور شَیبانی و ماتُریدی اپنی اپنی لحد میں کسمسانے لگے ـ حضرات نیازی، منصوری و عثمانی گتھم گتھا ہونے کو تھے کہ یکایک گھومنے والی کرسی نشیں چکر کھا کے کھڑی ہوگئیں ـ
“میں چلتی ہوں ـ بچے اداس ہو رہے ہوں گے”

ایسے عذر شرعی پر سب مہر بلب تھے ـ بحث کریں بھی تو کیا ـ اپنے ننھے منے نظروں میں گھومنے لگے مگر محترمہ کی نگاہیں الجھی ہوئی دیوانہ وار میز کا طواف کر رہی تھیں ـ
” میری گاڑی کی چابی دیکھیے گاـ جانے کہاں رکھ دی “ـ

ان کی نظروں کے تعاقب میں نگاہ دوڑائی، کچھ نہ پایا ـ “منزہ باجی اُدھر دیکھیے گا ـ ” ڈاکٹر منزہ نے اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیا گویا کہ کسی غریب کا تھیسس ملاحظہ کرتی ہوں ـ “نہیں، یہاں تو کچھ نہیں ہے “ـ

شمال میں واقع ہونے والی پریشانی کی لہر جلد ہی پورے کمرے میں پھیل گئی ـ وکیل میڈموں نے اپنے اپنے کوٹ جھاڑے، صوفے کا معاینہ کیا گیا، میز پر چڑھی خواتین نیچے اتریں، میزوں کا گردوپیش ملاحظہ کیا گیا، مگر اک ناکامی ـ اب “چھوٹے ” کو اکڑوں بٹھا کے میزوں اور کرسیوں کے نیچے تلاشی مہم سونپی گئی ـ افسوس! نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ـ

اگلے مرحلے پر ہمارے بیگ کی تلاشی لی گئی کہ ہمی چابی بردار میڈم کے پہلو میں براجمان تھے ـ پھر باری باری سب کی چابیاں دیکھی گئیں ـ جیبیں اور برقعے جھاڑے گیے ـ غرض اک غلغلہ چار سو بپا ہو گیا مگر مراد بر نہ آئی ـ اخیر فیصلہ ہوا کہ سب باہر کاریڈور میں نکل کے تلاشی پریڈ دیں یا شاید خیال ہوا کہ خالی کمرہ خود پکار اٹھے گا،
“یہ رہی کلیدِ نا ہنجار! ”
مگر …. ہماری ایڈووکیٹ صاحبہ نے دروازے کا ہینڈل گھمایا ہی تھا کہ ایک پھنسی ہوئی آواز نکلی،
“وہ وہ .. رہنے دیں غزالہ باجی! ”

محترمہ کا چوڑا چہرہ تمتمایا ہوا تھا ـ سب بھونچکے ہو کے انہیں دیکھا کیے، ” وہ دراصل میں آج گاڑی لائی ہی نہیں تھی ـ ” ہا ہاا ااا ہاےےےے
ٹوٹے سلسلے کیا جڑتے صد شکر ہمارے سال خوردہ میز، کرسی سلامت رہ گیے کہ جن پہ ہنسی کے گول گپے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ـ

مقام شکر ہے کہ بات یہیں ٹل گئی ورنہ کچھ ماہ پیشتر ہمارے ہی ہم قبیلہ قبلہ فُل پروفیسر صاحب میٹنگ کے بعد جو نکلے تو پارکنگ میں گاڑی نہ پا کے یونیورسٹی سیکیورٹی کی دوڑیں لگوادیں ـ چوری کا پرچہ کٹوانے کے لیے احباب دست امداد پیش کر ہی رہے تھے کہ حضرت کو یاد آگیا، ” آج صبح گاڑی گھر کے پورچ میں ہی رہ گئی تھی ” ـ

کارپردازان جامعہ سے التماس ہے کہ ہماری عزیزہ نے “فُل بورڈ ” کی موجودگی میں پروفیسری کی جملہ شرائط کامیابی سے مکمل فرمائیں لہذا BOG وغیرہ ایسے جھمیلوں کے انتظار کی بجائے اس پوسٹ کو کافی سمجھا جائے اور پروانہ تقرری عطا فرمایا جائے ـ بصورت دیگر ہم اپنے تئیں سبھی فُل فُل … ہیں ـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں