کورونا وائرس اور دنیا کا نقشہ 146

کورونا وائرس: چین میں طوفان تھم گیا، امریکا میں شدید ہوگیا

کورونا وائرس نے چین اور ایران میں تباہی مچائی تو بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ امریکا کی کارستانی ہے، یہ حیاتیاتی حملہ ہے۔ اسی دوران امریکا کے خلاف سب سے زیادہ بولنے والا ایران تو خاموش رہا ، البتہ عموماً خاموش رہنے والا چین بول پڑا۔

14 مارچ کو چین کی وزارت اطلاعات کے ترجمان لیجیان ژاؤ نے ایک ٹویٹ پیغام میں امریکی فوج کو چین کے صوبہ ووہان میں کرونا وائرس لانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے امریکا سے وضاحت طلب کی۔ دوسری طرف امریکی محکمہ خارجہ نے بیان میں چینی حکومت کو عالمی وبا پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ الزام تراشی کا مقصد چینی حکومت پر تنقید سے توجہ ہٹانا ہے۔

بیان میں چین کو متنبہ کیا گیا کہ امریکا اس قسم کے بیانات برداشت نہیں کرے گا۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چین ’سازشی نظریات‘ کی ترویج کا مرتکب ہو رہا ہے جو ’خطرناک‘ اور ’مضحکہ خیز‘ ہے۔

چین کا نظریہ سازشی تھا یا پھر معاملہ کچھ اور تھا، اس بحث میں الجھے بغیر دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تباہ کاریوں پر نظر رکھنے والے ادارے کہہ رہے ہیں کہ کورونا وائرس کا طوفان چین میں کافی حد تک تھم چکا ہے البتہ امریکا اور بعض یورپی ممالک میں شدید سے شدید تر ہورہاہے۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں امریکا محض دو روز قبل چھٹے نمبر پر تھا لیکن اب تیسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ روز 9,339 نئے کیسز کے ساتھ امریکا میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 33,546 ہوگئی جبکہ گزشتہ روز 117 افراد ہلاک ہوئے۔ مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد 419 ہوگئی۔

دوسری طرف چین میں گزشتہ روز 46 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ چھ افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ اب تک مجموعی طور پر چین سب سے زیادہ متاثرین کا حامل ملک ہے۔ 81,054 چینی اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں تاہم یہ بات چینیوں کے لئے اطمینان بخش ہے کہ سب سے زیادہ شفایاب ہونے والے بھی چین ہی میں ہیں، ان کی تعداد 72,440 ہے۔

کورونا وائرس کے سبب سب سے زیادہ لوگ اٹلی میں ہلاک ہوئے ۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 59,138 جبکہ اب تک 5,476 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ چین میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3,261 ہے۔ گزشتہ روز اٹلی میں 5,476 نئے کیسز سامنے آئے۔

گزشتہ روز سب سے زیادہ نئے کیسز امریکا میں آئے، دوسرے نمبر پر اٹلی، تیسرے پر سپین، چوتھے پر فرانس، پانچویں پر ایران، چھٹے پر برطانیہ، ساتویں پر سوئٹزرلینڈ، آٹھویں پر آسٹریا، نویں پر بلجئیم اور دسویں پر نیدرلینڈ رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں