ہنادی ایمان، کالم نگار 140

کچھ تو پوچھیں گے فرشتے پاک بازوں سے

ھنادی ایمان۔۔۔۔۔۔
زندگی میں جب تجربات اور حالات پر بات آتی ہے تو ہر کسی کا “درست، غلط” الگ ہوجاتا ہے۔ ہو سکتا ہے چند سال پہلے آپ جس بات کو غلط سمجھتے ہوں وہ اب چند سال کے تجربے اور حالات کے بعد آپ کو اپنے لیے غلط نہ لگتی ہو۔ اور جن چیزوں سے ماضی میں آپ نے خود کو روکا ہو اب ان کے تجربے کی ضرورت ناگزیر لگتی ہو۔۔

زندگی ایک بہت پر پیچ راستہ ہے۔ دوسروں کو کبھی اپنی بنائی ہوئی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ہر کوئی اپنی استعداد میں ایک رخ پکڑتا ہے اس پر چلنا شروع کرتا ہے ۔۔ راستے کی مشکلات اور منزلیں اور ان پر موجود ساتھی بعض اوقات انسان کی شخصیت کو مزید نکھار دیتے ہیں اور بعض اوقات مسخ کر دیتے ہیں۔
یہ ہم سب کے ساتھ ہوتا ہے۔۔

ہو سکتا ہے کوئی انسان برائی سے بچنے کی آپ سے زیادہ کوشش کرتا ہو اور آپ کو اس کوشش کی ضرورت نہ ہو۔۔
ہوسکتا ہے کوئی آپ سے زیادہ خدا کے حضور روتا ہو لیکن عمل میں پیچھے رہ جاتا ہو ، اور آپ کو اس کی سرے سے ضرورت ہی نہ محسوس ہوتی ہو۔

ہو سکتا ہے آپ کی عشروں کی دھیمی ریاضتوں اور بے دلی سے کی ہوئی صدیوں کی کاوشوں سے زیادہ آپ سے کمتر مقام پہ کھڑے کسی انسان کی زندگی کے صرف چند لمحوں کے عمل کا خلوص یا سپاٹ لہجہ یا صاف گوئی اسے خدا کا مقرب کر چکی ہوں۔۔
ہو سکتا ہے کوئی آپ سے زیادہ برے حالات سے گزرا ہو اور آپ کے پاس زندگی کا وہ خاص الخاص تجربہ نہ ہو۔

بعض اوقات کوئی انسان اپنی تنہائیوں کو یوں آباد کرتا ہے کہ وہ ظاہری رتبہ اور حیثیت والوں کی نسبت بہت جلد اپنے گناہ دھلوا کے خاص الخاصان خدا میں شامل ہو جاتا ہے ۔
ہو سکتا ہے کوئی زیادہ برے ماحول میں رہا ہو یا زیادہ برے حالات سے گزرا ہو۔ یا اس کو برائی کے زیادہ مواقع میسر رہے ہوں ۔ اس نے کوشش زیادہ کی ہو۔ لیکن بظاہر ایک طویل سفر کے بعد بھی وہ آپ کے معیار تک نہ پہنچ سکا ہو۔

اور دوسری طرف آپ اپنی دنیا میں مست ، مگن ایک بہتر ماحول سے نکلے ہوں ملا ،مؤذن بھی ملے ، مسجد کا قرب بھی ملا ، چار دیواری ملی ، چادر بھی آپ کے ماحول کا حصہ تھی، روک ٹوک ملی ، ڈانٹ ڈپٹ ملی ، آس پاس فارغ رہنے والوں کی گھوریاں آپ کو میسر رہی ہوں اور آپ کسی غلط فیصلے یا اقدام سے بچ گئے ہوں۔ آپ کو کسی پرائیویسی یا ذاتی زندگی کا تصور اور موقع نہ ملا ہو۔

اور کسی دوسرے انسان کو بالکل الٹ حالات ملے ہوں اس کے چادر لینے ، چار دیواری میں رہنے پہ پابندی رہی ہو، اس کے ماحول میں روک ٹوک کرنا بچے کا اعتماد توڑنے کے مترادف رہا ہو۔ مسجد جانا پسندیدہ نہ سمجھا جاتا ہو ،اور مسجد والے وقت ضائع کرنے والے، دنیا کے فارغ ترین لوگ شمار ہوتے ہوں ، آس پاس والے صرف لاڈ میں بگاڑنے والے ملے ہوں ، ڈانٹ ڈپٹ کو دقیانوسی انداز سمجھا جاتا ہو۔ زندگی کو خود اپنے تجربے سے گزارنے اور خود سے سیکھنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہو۔ ٹھوکر کھا کے سیکھنا پسند کیا جاتا ہو اور سب سے بڑھ کر ذاتی معاملات کو نظر انداز کرنا اعلی اخلاقیات سمجھی جاتی ہوں۔ بہر حال ۔۔

پاک و عیب داروں کا فیصلہ اور کہیں ہوگا
ایک بار حشر کا میدان تو سجنے دو

دیکھنا کیسے پلٹیں گے رخ ہواؤں کے
تمہارے نیک اعمال سب الٹ جائیں گے

خیر۔۔!!
غلطیاں اپنے بہت گہرے اثرات رکھتی ہیں ، غلطیاں اور غلط کار تین طرح کے ہوتے ہیں:
ایک وہ جن سے کسی کا بھی کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوتا ، قدرے ڈھکی چھپی ۔
دوسرے وہ جن کا سارا نقصان اس غلطی کرنے والے کی اپنی ذات کو ہوتا ہے اور اسی پر اس کی غلطی کی شدید زد پڑتی ہے ۔
اور تیسری قسم وہ ہوتی ہے جن کا نقصان غلطی کرنے والے کو خود تو نہیں ہوتا لیکن باقی ارد گرد اور دنیا جہان چاہے زد میں آ کر نقصان اٹھا لے۔۔ یہ انتہائی شدید قسم کی غلطیاں ہوتی ہیں۔۔ اس کے پیچھے ہمیشہ ایسے شاطر لوگ ہوتے ہیں جن کا انجام حقیقتا بہت بھیانک ہے ۔۔ لیکن در اصل یہی طبقہ بظاہر سزاؤں سے ہمیشہ بچا بھی رہتا ہے ۔

یہ تیسری قسم کے لوگ بننے سے حتی الامکان بچیں، بہت زیادہ پناہ مانگا کریں کہ اس طبقے میں شمار نہ ہو۔۔ اور یہی وہ تیسری قسم ہے جس کی پکڑ عموماً کسی غلطی پر نہیں ہو سکتی۔۔ لیکن معاشروں کے نقصان کا باعث سب سے زیادہ یہی لوگ اور انہی کی غلطیاں بنتی ہیں۔۔

انسانی فطرت میں بہت وسعت اور تنوع ہے ۔ اس فطرت اور نفس میں طاقت بھی بہت غضب کی رکھی ہے ۔
اتار چڑھاؤ ہے، جزباتیت ہے، احساسات بھی ہیں، انسان بدلتا رہتا ہے، ساری عمر بدلتا ہے۔ اس کے خیالات بدلتے رہتے ہیں۔ حالات بھی بدلتے ہیں۔

کبھی میلہ کبھی تنہائیاں ، کبھی سامنا زندگی سے کبھی موت سے۔ کبھی محبت کبھی نفرت، کبھی وحشت کبھی روحانیت، کہیں آس کہیں بے رخی۔ کہیں امید کبھی تشنگی۔ یہ سب کچھ ملا جلا کر وقت، ہماری زندگی کے لمحے تشکیل دیتا ہے ۔
اس لیے کسی انسان کی بڑی سے بڑی غلطی پر بھی حیران ہونا چھوڑ دیں ، بڑے سے بڑے گناہ پر تبصرہ کرنا چھوڑ دیں۔ بڑی سے بڑی جسارت پر بھی کوئی حوالہ دینا چھوڑ دیں۔
اور وہ شخص کبھی تبصرہ نہیں کرتا، نہ انسانی جبلتوں پر حیران و پریشان ہوتا ہے جس نے واقعی زندگی کو قریب سے دیکھا ہو، زندگی کا تجربہ گہرائی سے کیا ہو۔۔ انسانی نفس سے واقف ہو۔

اچھے برے وقت کی صلیب اپنے کندھوں پر خود اٹھا کر چلا ہو۔ اپنی ذات پر غور کیا ہو، انسانی نفس کی گہرائیوں تک اترا ہو۔ جو خود کو اپنے نفس کو پہچان لیتا ہے وہ انسانی حرکات پر ٹھٹھکنا چھوڑ دیتا ہے۔
لیکن ایسا کرنے کے لئیے آپ کا انسانیت اور آدمیت سے ایک حساس ناتا رکھنا ضروری ہے۔ زبان ہلا دینا ، تبصرہ کر لینا بھلے آسان ہے ، ہو سکتا ہے ہم یہ کام فوری طور پر، جذباتی طور پر کر رہے ہوں لیکن اصل طاقت اس بات میں ہے کہ کسی حادثے کے پیچھے موجود عوامل کو آپ نے کتنا سمجھا ، اس غلطی کے پیچھے گُم عناصر اور عوامل آپ کو کس قدر سمجھ آگئے۔

یہاں ہر معاملے پر منہ کھولنے کی بجائے عاجزی اختیار کرنے میں ہی بہتری ہے۔
فتنے کا دور ہے، اور فتنہ بلا روک ٹوک بڑھ رہا ہے، اس میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے، معاملات کو بھڑکانے والے عوامل ، گندگی اچھالنے والے عوامل ہمارے ہی معاشرے میں موجود ہیں جنہیں ہم نظر انداز کر رہے ہیں۔ بامقصد ہو کر سوچنا ، روک تھام کے لئے عملی اقدامات کرنا، اگر تدارک کی صلاحیت ہے تو تجویز کرنا ہے تقاضا کرنا ہے ۔۔ ورنہ جتنی سمجھ اور استطاعت ہو اتنا ہی کرنا ہے۔۔ لیکن دیوار بننا ہے تو ٹکراؤ تو ہو گا۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں