دلہا اور دلہن ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے 168

کیا دوسری شادی مرد ہی کا حق ہے؟ ایک اہم مکالمہ

آج ممتاز سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ، پرتاثیر لکھاری محترمہ رقیہ اکبرچودھری نے ایک نکتہ بیان فرمایا:
“کتنی مضحکہ خیز بات ہے، ایک مرد کو شادی کے کچھ عرصے بعد چار چھ بچوں کا باپ بن کر اچانک یہ احساس ہوتا ہے کہ اسے ایک دوسری عورت پسند آ گئی ہے اور اسے دوسری ، تیسری یہاں تک کہ چوتھی شادی بھی کرلینی چاہئے کیونکہ اسےاللہ نے اس کی اجازت دی ہے اور پورا پدر سری سماج اس کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے ، اس کے اس عمل کو محض جائز نہیں عین ثواب ثابت کرنے کی کوشش میں جت جاتا ہے۔

لیکن بالکل ایسے ہی جب ایک عورت کو شادی کے کچھ عرصے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اس مرد کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی ہے اور اسے اللہ نے اجازت بھی دی کہ وہ خلع لے کے دوسرے مرد سے عقد کر لے تو اسے ملعون قرار دیا جاتا ہے،بری عورت کہا جاتا ہے اس کا ناطقہ بند کر دیا جاتا ہے۔۔۔ کہ کیوں وہ اتنی آزاد ، اتنی خودسر اور خود غرض ہوگئی کہ اپنی آسائش اور خوشی کیلئے پیار کرنے والے شوہر اور بچوں کو چھوڑ دیا۔
کیوں؟ کیا اسے اللہ نے اجازت نہیں دی ؟؟

اگر دونوں ہی کو اللہ نے اجازت دی تو دونوں کو ہی ایک سٹیٹس کیوں نہ دیا جائے؟؟
کیوں نہ پیار کرنے والی بیوی ،بچوں کوچھوڑ کر محض اپنے دل کی خواہش کی خاطر دوسری شادی کرنے والے اس مرد کو بھی برا بھلا کہا جائے؟
ان دونوں ہی کیسز میں متعلقہ فریق کو کیا کرنا چاہئے ؟

کیا دونوں کو ہی اس رخصت سے فائدہ اٹھانے کا پورا حق ہونا چاہئے یا محض کسی ایک فریق کو اس حق کا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیئے۔
محترمہ رقیہ اکبر چودھری نے اس موضوع پر اصحاب فکر کو دعوت دی۔ یوں یہ اس تحریر نے ایک مکالمے کی شکل اختیار کرلی۔ اس مکالمہ میں کس نے کیا کہا، قارئین کی دلچسپی کی خاطر ذیل میں تفصیل درج کردی گئی ہے۔

ڈاکٹرعاصم اللہ بخش:
مرد جب دوسری یا مزید شادیاں کرتا ہے تو اس میں یہ امکان پوری طرح موجود رہتا ہے کہ گھر نہ ٹوٹے۔ ایک شادی شدہ عورت جب یہ فیصلہ کرتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ عورت اور مرد کی اجازت کے مابین یہ ایک کلیدی فرق ہے۔

رقیہ اکبرچودھری:
یہ امکان ہی ہے۔ اور ٹوٹنا کیسے ہوتا ہے، اس عورت سے پوچھیں یا ان بچوں سے جن کے ابا جی کسی دوسری کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹرعاصم اللہ بخش:
آپ کی بات درست ہے۔ میں نے بھی امکان ہی کہا اسے ۔۔۔ خدا کے نزدیک دو باتیں بہت اہم ہیں ۔۔۔۔ عورت کے پاس چار دیواری کا تحفظ موجود رہے اور وہ معاشی پریشانی کا شکار نہ ہو۔ اس لیے مرد کے لیے یہ راہ نکالی ۔۔۔ لیکن اس میں ترجیح یہی ہے کہ وہ ایک ہی نکاح کرے اور اس گھر کی ذمہ داری لے لیکن اگر کہیں اس کا ارادہ مزید نکاح کا ہو تو اس کا واحد راستہ طلاق نہ ہو۔

دوسری جانب عورت کا بنیادی سبجیکٹ house hold کے معاملات بشمول بچوں کی نگہداشت وغیرہ ہوتے ہیں اور بیک وقت ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ یہ ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی اس لیے اسے نیا گھر بسانے کے لیے پرانا چھوڑنا پڑتا ہے۔
خدا نے کثرت ازدواج کی ترغیب نہیں دی ۔۔۔ صرف اس کے لیے ایک ایسی راہ نکالی ہے جس سے خاتون کا تحفظ زیادہ سے زیادہ ممکن بنایا جا سکے۔ اس کی بنیاد پریکٹیکل آپشنز پر ہے ۔۔۔ جذباتی پر نہیں۔

رقیہ اکبرچودھری:
میرا یہی ماننا ہے کہ مرد کیلئے ترجیح اللہ نے ایک ہی نکاح کی رکھی لیکن راستہ کھلا بھی چھوڑا کہ اگر کبھی بہ امر مجبوری دوسرا عقد کرنا پڑ جائے تو ممنوع نہ ہو۔۔پھر سنت یہی ہے کہ اللہ کے رسول نے ماسوائے ایک حضرت عائشہ کے آٹھ بیوہ یا مطلقہ خواتین سے نکاح کیا۔۔مگر افسوس ہمارے ہاں کا مرد کہتا ہے کہ وہ چار چار بھی کرے کیونکہ اجازت ہے ، مگر سنت بھی اسے یاد نہ دلائی جائے۔۔۔ اور اگر عورت خلع کی بات بھی کرے تو اسے جینے ہی نہ دو۔۔کیوں؟؟

ڈاکٹرعاصم اللہ بخش:
انسان کا اور حساب کتاب کس بات کا ہونا ہے ۔۔۔ اسی کا نا کہ اس نے خدا کی دی ہوئی سہولت، اس کی عطا کردہ نعمت کا استعمال کیسے کیا !

نصرت یوسف:
عورت اور مرد کے بائیولیجکل نظام ہی میں جب فرق ہے تو دوسرے نظام میں بھی فرق ہیں… بالکل ایک ہی کلیہ دونوں کے لیے خلع اور طلاق کے حوالے سے یکساں نتائج اور اثرات نہیں چھوڑتا.
عورت کے لیے محافظ مرد کے بغیر دنیا بہت کٹھن ہے.. چاہے وہ سورما بنی رہے دنیا کے منظر پر، مرد کو عورت کی ضرورت محبت اور موودت کے لیے، محافظت کے لیے نہیں.. پورا نظام ہی جدا ہے۔

رقیہ اکبرچودھری:
نصرت! بات نتائج کی نہیں۔۔سوال صرف یہ ہے کہ مرد کیلئے دوسری شادی کیلئے کسی ٹھوس وجہ کی ضرورت نہیں تو کیا عورت کو خلع لینے کیلئے شرعا کسی ٹھوس وجہ کی ضرورت ہے کہ نہیں؟

نصرت یوسف:
رقیہ! نتائج پر ہی تو اقدامات کیے جاتے ہیں.. کیا ہم کتنی ہی کم عمر طلاق یافتہ عورتوں کو نہیں دیکھتے جن کے ایک دو بچے ہوں، ان کو اچھا رشتہ محض اس لیے نہیں ملتا کیونکہ کوئی دوسرا مرد بچے ساتھ رکھنے کو تیار نہیں ہوتا اور ماں بچے چھوڑنے پر تیار نہیں ہوپاتی۔

یہ تو ایک پہلو، علیحدگی ان گنت مسائل اکثر خواتین کے لیے پیدا کرتی ہے، ماسوائے قلیل تعداد کے.. معاشرتی زندگی حساب کے کلیہ مانند نہیں چلتی.. اس میں ایکویشن بیلنس مختلف رخ پر یکساں عمل کے زریعہ بھی ممکن.. معاشرتی زندگی میں مرد اور عورت کو مختلف درجات اور مراتب پر رکھ کر حقوق دیے گۓ ہیں.

رقیہ اکبرچودھری:
نہیں نصرت! یہاں معاملہ اقدامات کا نہیں اللہ کے دیئے گئے اصول و قوانین کا ہے۔۔
میں بار بار کہہ رہی ہوں کہ میرا سوال صرف اتنا ہے کہ دونوں اجازتیں ہیں ترغیبات نہیں۔۔۔نہ تعدد ازدواج کی ترغیب دی اللہ نے نہ طلاق دینے یا خلع لینے کی ترغیب دی۔۔۔بس! اجازت دی تاکہ حالات بے قابو ہو جائیں تو گناہ کے راستے سے بچنے کیلئے بیک ڈور کھلا رکھا جائے۔۔۔تو سوال یہ کہ ایک کو تو اس رخصت سے حظ اٹھانے کی ترغیب دی جائے، تحریک چلائے جائے اور دوسرے کو لعن طعن کیا جائے۔۔۔کیوں؟؟؟

عبیداللہ عابد:
آپ نے ایک اہم نکتہ اٹھایاہے، قابل صد تحسین۔ اس طرح‌کے سوالات سے ہمارے رویوں میں پڑی گرھیں کُھلتی ہیں۔ میری رائے میں جس طرح مرد کو حق حاصل ہے ایک دوسری عورت سے شادی کا، اسی طرح عورت کو بھی حق حاصل ہے۔ جس قدر مرد آزادی سے لطف اندوز ہوتاہے، عورت بھی اسی قدر آزاد ہے۔

تاہم اس مرحلے پر یہ بھی دھیان میں رہناچاہئے
عاقل و بالغ عورت مرد کی طرح اپنے فیصلے کرنے کا مکمل اختیار کررکھتی ہے اور ان فیصلوں کے نتائج و عواقب کی ذمہ دار بھی وہی ہوتی ہے۔ خلع کے لئے محض یہی بنیاد کافی ہے کہ اسے وہ مرد پسند نہیں۔ ایک بارپھر یاد دلادوں کہ عورت فیصلے کرنے کی آزادی کے ساتھ ساتھ فیصلوں کے نتائج کی ذمہ دار بھی ہوگی۔

اب اگلے مرحلے پر دو سچویشنز بنتی ہیں:
پہلی سچویشن:
عورت کو پہلی بیوی کے طور پر رہنے میں کچھ سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ وہ اس گھرانے/خاندان کی حصہ دار ہے۔ اس کے بچے ہیں تو وہ ان بچوں کی ماں کے طور پر موجود ہے۔ ماں اور بچے دونوں ایک دوسرے کی راحت کا باعث بنتے ہیں۔

مرد کے دوسری شادی کرنے سے فرق یہی پڑا کہ ایک دوسری عورت بھی اس گھرانے/خاندان میں داخل ہوگئی۔ پہلی بیوی کو حق حاصل ہے کہ شوہر کی زندگی میں دوسری عورت کے داخلے پر شوہر کو اپنے قریب نہ آنے دے۔ اسے کہہ دے کہ اب آپ کو دوسری بیوی ہی مبارک ہو۔ پہلی بیوی کو اس قدر غصہ کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔بہرحال یہ بھی عورت کی قربانی ہے ، جذبات کی قربانی۔

دوسری سچویشن:
بیوی شوہر سے کہے کہ دوسری عورت میرے(بیوی) ہوتے ہوئے نہیں آسکتی، وہ آئے گی تو پھر میرے اور آپ کے بیچ طلاق/خلع کی دیوار کھڑی ہوجائے گی۔ دوسری بیوی کے آنے پر وہ طلاق/خلع لے لیتی ہے تو اس کے نتیجے میں وہ اس گھر میں نہیں رہ سکتی، بچوں سے بھی الگ ہوجائے گی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ بچے بھی اپنے ساتھ لے جائے گی لیکن آگے یہ مسئلہ بھی ہوگا کہ نیا شوہر اس کے بچوں کو قبول کرتا بھی ہے یا نہیں۔ اسی طرح‌کچھ دیگرمسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔

جس طرح میں نے پہلے عرض کیا کہ مرد کی طرح عورت بھی اپنے فیصلوں کے نتائج کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اب اسے فیصلہ کرناہے کہ اسے پہلی سچویشن قبول ہے یا دوسری۔

مرد پہلی بیوی اور بچوں کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرتاہے تو اسے بھی اس کے اچھے برے نتائج کا ذمہ دار بننا پڑتاہے۔ پہلی بیوی اس سے بے زار ہوتی ہی ہے، پہلی بیوی کے بچے بھی باپ کے بارے میں پہلے جیسے جذبات نہیں رکھ پاتے۔ اگرایسی ناخوشگوارصورت حال بنتی ہے تو پھر یہ اس مرد کے اپنے ہی فیصلے کے نتائج ہوتے ہیں۔

میرا ایک رفیق کار تھا، وہ دوسری شادی کے لئے تُل گیا، حالانکہ اسے دوسری شادی کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ میں نے اسے دوسری شادی سے منع کیا اور کہا کہ پہلی بیوی گھریلومعیشت کی بہتری میں جس طرح اس کا ساتھ دیتی رہی ہے اور دے رہی ہے، اس کی قدر کرتے ہوئے وہ اپنی اس خواہش کی قربانی دے۔ بہرحال اس نے مختلف بہانوں کی بنیاد پر اپنا حق استعمال کرلیا۔

دوسری طرف میں نے اس کی پہلی بیوی کو سمجھایا کہ وہ خلع نہ لے، اس گھر میں رہے اپنے بچوں کے ساتھ۔ چاہے وہ شوہر کو اپنے قریب آنے دے یا نہ آنے دے، یہ اس کا حق ہے۔
تاہم اس نے بھی خلع لینے کا اپنا حق استعمال کیا۔

اب دونوں کو جن نتائج کا سامنا ہوا، وہ ملاحظہ فرمائیے:
وہ مرد لاہور کے ایک اچھے پوش علاقے میں ایک کوٹھی کا مالک ہونے کے باوجود اب دربدرپھر رہاہے۔ خلع لینے والی عورت نے ایک دوسرے مرد سے شادی کی اور پھر اس سے بھی خلع لے لیا۔ اب وہ بھی دربدر ہے۔ اور اس کے بچے الگ دردبدر۔ نہ وہ باپ کے کہے میں‌ہیں نہ ماں کے کہے میں‌ہیں۔

نویدہ کوثر:
مرد کو بھی دوسری شادی عیاشی کے نام یا پسند کے نام سے کرنے سے روکنا چاھیے ۔۔مگر عورت اس معاملے میں برابری نہیں کرسکتی کہ مرد ذات کے اندر دوسرے مرد کی بیوی کو اپنا کربھی ایک غیریت کا رویہ رھتا ھے اور ناقابل اعتبار تو مرد ہمیشہ سے ہے ۔۔اس لیے برابری عورت کو الٹا نقصان دیتی ھے نفع نہیں۔

سدرہ سحرعمران

مرد کو چار شادیوں کی اجازت اس کی فطرت کی بنیاد پر دی گئی ہے دوسرا یہ کہ مرد چاہے دس شادیاں کرلے چاہے ایک، بچوں کی ولدیت کے خانے میں ایک ہی نام آتا ہے۔ عورت کے لئے یہ مشکل ہے ۔ عورت اور مرد کو قدرت نے اپنے اصولوں پر پیدا کیا ہے۔

مرد غیر منصف،ظالم ،غلط صحبت میں مبتلا ہے یا ویسے ہی عورت کے دل سے اتر جاتا ہے تو عورت اسے چھوڑ سکتی ہے ۔ ممانعت نہیں ہے لیکن عورت ایک بیوی ہی نہیں ماں بھی ہے دنیاکا عظیم ترین رشتہ خدا نے عورت کو ہی تفویض کیا ہے۔ یہ بھی عین فطرت کی بنیاد پر ہے۔ اگر مرد و زن باہمی مقابلہ بازی پر اتر آئیں تو اس دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔

رقیہ اکبرچودھری
بات مقابلہ بازی کی نہیں بات حق اورسچ کی ہے۔۔مردوں کیلئے چار چار شادیوں کا بار بار پرچار کرنے والوں کو پھر عورت کے اس حق پہ اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔بات صرف اتنی ہے۔۔اور عورت ماں ہے تو مرد بھی تو باپ ہے ناں۔۔ وہ یہ کیوں بھول جاتا ہے۔

سدرہ سحرعمران
اس کے لیے آپ کو شریعت اور خدا سے رجوع کرنا پڑے گا۔ اور جو پرچار کرتے ہیں وہ خود سے نہیں کر رہے اور ہمارے ملک میں تو بندہ ایک شادی کرلے ساری زندگی اسے “بھگتاتا”مرجاتا ہے دوسری تیسری کے ڈھول سہانے۔

رقیہ اکبر چودھری
اسی شریعت اور خدا نے ہی عورت کو خلع کا حق بھی تو دیا ہے ناں؟ اور چار شادیوں کی اجازت بھی تو کچھ شرائط کے ساتھ اور خاص وجوہات کی بنیاد پہ دی ناں۔۔۔یہ تو نہیں کہ بس منہ کا ذائقہ بدلنے کیلیے شادیاں کرتا چلا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

6 تبصرے “کیا دوسری شادی مرد ہی کا حق ہے؟ ایک اہم مکالمہ

  1. محترمہ رقیہ صاحبہ کی بات قابلِ غور ضرور ہے مگر ہم یہ بھول رہے ہیں کہ ہمارے معاشرے پر ہندوستانی قدیم رسم و رواج کی چھاپ اتنی پختہ ہوگئی ہے کہ چونکہ چناچہ کا راگ الاپنے کے باوجود حق کا راستہ اختیار کرنے سے قاصر ہیں۔ باکل جیسے مرد کو حق ہے دوسری شادی کرنے چاے اس کی وجہ کوئی بھی ہو مگر معاشرہ اس کو قبول کرلیتا ہے مگر عورت اگر یہ قدم اٹھائے تو بری اس لیے بنتی ہے کیونکہ یہ معاشرہ مردوں کا ہے یہاں سب حقوق مردوں کے ہیں، ہماری سوسائٹی میں کتنی ہی خواتین گھٹن کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ خلع کی صورت میں بدنامی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے، مرد کے پاس اپنے دفاع کے لیے ہر طرح کی دلیل موجود ہے ۔ پاکستانی عورت کے مقدر میں اس حوالے سے لعن طعن ہی لکھی ہے۔

  2. بلکل فضول کی بحث ہے اللہ پاک نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے ہم محکم قوانین پر بحث نہیں کر سکتے ۔ہاں خاتون کو بھی اللہ نے اجازت دی ہے اگر عورت بھی اسی روش پر چلی کہ خلع لے تو خاندان تباہ ہو جائیں گے ۔مرد قوام ہے یہ قرآن میں لکھا ہے ۔ہم مسلمان ہیں اس طرح کی بحث سے تو ہم اللہ کے احکام کو ہی مشکوک بنا رہے ہیں ۔جو کہ غلط ہے

  3. مجھے کسی نا گزیر صورت میں دوسری شادی پر اعتراض نہیں لیکن اسے رائج کرنے کی مہمپ پر ہے اللہ نے اسکی ترغیب نہیں دی لیکن ہمارے ہاں کچھ دین جاننے والے عجیب عجیب دلائل دے کر اسکی ترغیب دے رہے ہیں۔

  4. بہت سے معاملات میں انتہا پسندی اور سطحی سوچ ان کے نتائج کو الجھا دیتی ھے۔ اللہ کے بہت سارے احکام ایسے ہیں جو حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کے متقاضی ھوتے ہیں جیسے مرتے ہوۓ کو وہ کھانا جائز ھے جو عام حالات میں اس کے لئے حرام ھے اس طرح اکثر معاملات نیت اور حالات پر منحصر ہیں، میں نے ایسی سلجھی ھوئی اللہ سے ڈرنے والی عورتیں بھی دیکھی ہیں جنہوں نے اپنے شوہروں کو کہہ رکھا ھے کہ اگر وہ گناہ کی طرف مائل ھونے لگیں تو فوراً سے پہلے شادی کر لیں انہیں کوئی اعتراض نہیں ھوگا،اور میرے قریبی لوگوں میں ایک خاتون جو میڈیکل وجوہات کی بنا پر ماں نہیں بن سکتی اور اس نے اپنے شوہر کا اس کے خاندان والوں سے ملنا جلنا بند کر رکھا ھے کہ وہ اولاد کی خاطر اس کی دوسری شادی نہ کروا دیں ۔ اللہ تعالٰی نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ھے تو اس کے پیچھے عقلی اور منطقی دلائل موجود ہیں اسی طرح اگر عورت کسی ٹھوس وجہ کی بنا پر خلع چاہتی ھے تو اس کو بھی مطعون نہیں ٹھہرا نا چاہیے ، لیکن رقیہ صاحبہ کے لکھنے کے انداز میں ایک مقابلہ بازی کا تاثر بیٹھتا ھے کہ اگر مرد یہ کر سکتا ھے تو عورت کیوں نہیں؟ مرد اور عورت کا کوئی مقابلہ نہیں دونوں کی کیمسٹری، فزیک، نفسیات اور ذمہ داریوں کی نوعیت اتنی مختلف ھے کہ ان دونوں کو اس معاملے میں ایک صف میں کھڑا کرنا مناسب نہیں۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ھم نے ایسا روشن خیال معاشرہ پروان چڑھا لیا ھے جہاں عورتیں کثرت سے خلع لیتی ہیں تو یقین کریں ھم اپنی اگلی نسلوں کو بہت سارے نفسیاتی ،جذباتی ،دماغی اور وراثتی مسائل متقل کریں گے۔ تاریخ بتاتی ھے کہ بہت سارے عظیم لوگوں کے باپ نہیں تھے اور بہت سارے نامی گرامی مجرموں کی مائیں نہیں تھیں۔ قصہ مختصر باپ دوسری شادی کرکے باپ رہ سکتا ھے ماں ،ماں نہیں رہ سکتی۔

  5. آپ نے بالکل درست اندازہ لگایا کہ انداز میں مقابلے کا تاثر نمایاں ہے۔۔اصل میں مکالمہ یہاں سے شروع نہیں ہوا تھا۔۔مکالمہ میرے ایک مضمون سے شروع ہوا جس کا لب لباب تھا۔۔کہ مانا دوسری شادی شجر ممنوعہ نہیں مگر یہ کوئی لازمی کھایا جانے والا پھل بھی نہیں کہ جس کا کھانا ہر شوہر پر لازم ہو ، کھاتا چلا جائے اور اس کے چھلکے اور گٹھلیاں پہلی بیوی کی گود میں ڈالتا چلا جائے ،
    نیز میں نے ترغیب دی کہ دوسری شادی کیلئے اگر مطلقہ یا بیوہ سے نکاح کرنے کو ترجیح دی جائے تو اس کے بہت مثبت اثرات ثمرات حاصل ہو سکتے ہیں ۔
    میرے اس نقطے پہ شدید اعتراض کیا گیا جو کہ مذکورہ پوسٹ لکھنے کا باعث بنا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں