حلیمہ سلطان

ارطغرل: پاکستان میں اتنا اچھا ردِعمل آیا کہ بیان نہیں کر سکتا

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

دنیا بھر میں مقبول ترک ڈرامہ ارطغرل اب پاکستان میں اردو ڈبنگ کے ساتھ پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا ٹرینڈز بتاتے ہیں کہ پاکستانی شائقین میں یہ بے حد مقبول ثابت ہو رہا ہے۔

یہ ڈرامہ دراصل ترک سرکاری میڈیا کمپنی ٹی آر ٹی نے ایک نجی کمپنی کے ساتھ مل کر بنایا تھا جس کے بعد اسں کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور یہ نیٹ فلکس پر مختلف زبانوں میں موجود ہے۔

ٹی آر ٹی کے ڈیجیٹل ترکش ریڈیو اور ٹی وی کے ڈائریکٹر ریاض منٹی اس ڈرامے کو پاکستانی شائقین تک پہنچانے کے لیے پی ٹی وی کی مدد کرنے والی ٹی آر ٹی کی ٹیم کے سربراہ ہیں۔

بی بی سی اردو کی عالیہ نازکی نے ریاض مِنٹی سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس ڈرامے کو پاکستان میں شائقین کے حساب سے ڈھالنا کتنا مشکل تھا اور کیا وہ اس کی مقبولیت کے حوالے سے خوش بھی ہیں۔

ریاض منٹی بتاتے ہیں کہ یہ شو پہلے ہی ترکی میں بہت کامیاب تھا۔ نیٹفلِکس پر انگریزی اور عربی سب ٹائٹلز کی ساتھ آنے کے بعد یہ بین الاقوامی سطح پر بھی بہت مقبول ہونے لگا۔

انھوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں تو جیسے ارطغرل کی دھوم مچ گئی۔ صدور نے ارطغرل کی سیلفیز پوسٹ کیں، سٹارز ڈرامے کے اداکاروں سے ملنے کے لیے سیٹ پر آنے لگے، برطانیہ اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک میں ارطغرل کیفے کھلنے لگے، یہاں تک کہ لوگ صرف ارطغرل تاریخی ٹورز کے لیے ترکی آنے لگے۔

’اس ڈرامے کا بہت مثبت ثقافتی اثر ہوا ہے‘

ریاض منٹی بتاتے ہیں کہ نیٹفلِکس کی کامیابی کے بعد ان کی ٹیم نے اسے یوٹیوب پر مختلف زبانوں میں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے اس کی شروعات انگریزی اور عربی میں ڈبِنگ سے کی۔ اب ہم اسے ہسپانوی، روسی، اور اس کی کچھ قسطوں کو کسواہیلی میں رلیز کر چکے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس ڈرامے کا اردو ترجمہ ان کے منصوبوں میں پہلے سے شامل تھا کیونکہ انھیں یقین تھا کہ یہ ڈرامہ دنیا بھر میں اردو بولنے والوں میں بہت مقبول ہو گا۔

’جب پی ٹی وی کے ساتھ اشتراک کا موقع سامنے آیا تو بات بن گئی۔ دونوں سرکاری میڈیا کمپنیز ہیں اس لیے ایک قدرتی رشتہ بھی بن گیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ترک ڈرامے ویسے بھی دنیا بھر میں کافی مقبول ہیں۔ عالمی سطح پر انگریزی کے بعد ترک ڈرامہ سب سے زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔

’ارطغرل نے اس مقبولیت میں مزید اضافہ کیا ہے اور اس شاندار کہانی نے دنیا بھر میں لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ٹی آر ٹی ہمیشہ اس طرح کا مواد بنانے کی کوشش کرتا ہے جسے آپ اپنے خاندان کے ساتھ مل کر دیکھ سکیں اور لطف اندوز ہو سکیں، اور مجھے لگتا ہے کہ پاکستان میں اس شو کی مقبولیت کی وجہ بھی یہی ہے۔

پاکستان میں کس طرح کا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے؟
اس سوال کے جواب میں ریاض منٹی کہتے ہیں: ’اتنا اچھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ پی ٹی وی نے ڈبنگ اور بروڈکاسٹنگ کے حوالے سے بہت عمدہ کام کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جہاں تک ٹی آر ٹی کا سوال ہے تو ہمارے ڈیجیٹل آفر میں اردو ہماری سب سے تیزی سے بڑھنے والے چینلز میں سے ایک ہے۔

’دیکھتے ہی دیکھتے ارطغرل پاکستان میں وائرل ہو گیا ہے اور روز ہی اس کی قسطیں پاکستان میں یو ٹیوب پر ٹرینڈ کر رہی ہوتی ہیں۔‘

ریاض بتاتے ہیں کہ اس وقت تک 30 ملین سے زیادہ ویوز اور چھ لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں اور مجھے یقین ہے کہ جب تک آپ کے قارئین یہ آرٹیکل پڑھیں گے تب تک یہ تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہو گئی ہو گی۔

بین الاقوامی سطح پر ارطغرل کو کتنی کامیابی ملی؟
وہ بتاتے ہیں کہ عالمی سطح پر شو کو پانچ سو ارب مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ پچھلے ایک سال میں ہماری ٹیمیں دنیا میں جہاں جہاں گئی ہیں ہم نے گھروں اور دکانوں میں کائی پرچم دیکھے ہیں تو کہیں لوگوں کے سروں پر ارطغرل کی ٹوپی اور ان کی انگلیوں میں ارطغرل کی انگوٹھی۔

انھوں نے کہا کہ یہ سب اس ڈرامے کو لکھنے اور بنانے والوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔

’اس ڈرامے نے ایک عالمی قبیلہ تخلیق دے دیا، ایک ایسی کہانی جس کے کرداروں میں دنیا بھر کے لوگ خود کو دیکھتے ہیں۔‘

دلچسب بات یہ ہے کہ پچھلے چند ماہ میں کورونا وائرس لاک ڈاون کی وجہ سے بھی اس ڈرامے کو دیکھنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ریاض منٹی بتاتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں جب لوگ گھروں میں بند ہیں اور زیادہ تر کمپنیوں کے مواد تک رسائی کے لیے انھیں پیسے دینے پڑتے ہیں۔ ٹی آر ٹی نے کچھ مواد یو ٹیوب پر اپ لوڈ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ لوگوں کی کچھ مدد ہو سکے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنے کچھ دیگر شوز کو بھی مختلف زبانوں میں یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دیا ہے اور بہت جلد یہ تمام ڈرامے اردو میں بھی دستیاب ہوں گے۔

جب ریاض سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں اس شو کے حوالے سے منفی فیڈ بیک بھی ملا ہے تو انھوں نے کہا کہ ہم بھی حیران ہیں لیکن بالکل بھی نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گوگل پر شو کو فائیو سٹار ریٹنگ حاصل ہے اور جو اعداد و شمار ہیں وہ اپنی کہانی خود بتاتے ہیں۔

’واحد شکایت جو لوگ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اسے شیئر کرنے میں دیر کیوں کر رہے ہیں!‘
(بشکریہ بی بی سی اردو)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں