عبدالقادرملا پر لکھی گئی کتاب کا سرورق

ایک شخص کا تذکرہ جس نے پھانسی چڑھ کر روش چراغ بلند کیا

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

قوموں کی زندگیوں میں بعض اوقات ایسے واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں کہ ان کا اثر آنے والی نسلوں تک رہتا ہے۔ 16 دسمبر کو سقوط ڈھاکہ ایسا ہی ایک واقعہ ہے، جب ہمارے ازلی دُشمنوں کی مکروہ سازشوں نے مُلک کو دولخت کر دیا۔

1971 میں پاکستان کیوں دولخت ہوا؟ اور بنگلہ دیش کن حالات میں اور کن وجوہ سے وجود میں آیا؟ یہ دراصل ہماری تاریخ کا ایک الم ناک باب ہے اور اس پر سنجیدگی اور دیانت سے غور کرنے اور اِس سے سبق سیکھنے کی اپنی جگہ بے حد اہمیّت ہے۔

سقوط ڈھاکہ پر خُوشی کا اظہار کرتے ہوئےاندراگاندھی نے مارے خُوشی کے بیان دیا کہ ”آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیجِ بنگال میں غرق کر دیا ہے۔“

مگر برادر عبدالقادر مُلّا کی شہادت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ”دو قومی نظریہ“ کہیں بھی غرق نہیں ہوا۔ بلکہ اِس نظریے کو ہر روز نئی تازگی ملتی ہے۔ اِس نظریے کے لیے شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ تازہ ”شہیدِ پاکستان“ کی شہادت پر بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں میں غائبانہ نمازِ جنازہ کے یکساں مناظر دیکھے گۓ۔

یہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اور خالق کائنات کی غلامی میں زندگی گزارنا اور اسی سوچ میں صبح و شام کرنا اصل کامیابی اور بندگی ہے۔

ہندوستان سے پاکستان، اور پاکستان سے بنگلہ دیش کا سفر، میں ہمارے لیے دینی، سیاسی اور سماجی سطح پر ایک سبق آموز دَرس بھی ہے اور عبرت کا سامان بھی۔

عبدالقادر ملّا، ربِ العالمین کی غُلامی میں زندگی بسر کرنے والے وہ خُوش نصیب ہیں، جنھیں شہادت نے ابدی زندگی عطا کی۔ اُن کی شہادت میں بہت سے حیات افروز پیغام پنہاں ہیں۔ اور وہ پیغام یہی ہے کہ کلمہ طیبہ کے ایمانی، عملی اور تربیتی تقاضوں کو سمجھا جاۓ۔

”شہید پاکستان“ عبدالقادر مُلّا نے اپنی زندگی راہِ حق میں قُربان کرکے آنے والی نسلوں کے لیے رُوشن چراغ بُلند کر دیا۔ یہ مجموعہ، شہید کے تذکرے سے معمور ہے۔ درجنوں دانش وروں نے اِس کرب ناک واقعے اور مظلومانہ شہادت کے دُکھ اپنے اپنے انداز سے تحریر میں سمو دیا ہے۔ دیکھا جائے تو اُن میں سے کسی کا بھی عبدالقادر شہید سے رنگ، نسل اور زُبان کا کوئی تعلّق نہیں، مگر ایمان کے مضبوط رشتے میں سب کو جھنجوڑ کر رکھے ہوۓ ہیں۔

بنگلہ دیش میں تحریکِ اِسلامی کے رہنما کو محض سیاسی انتقام کے جنون میں جس طرح شہید کیا گیا ہے، وہ عدالتی قتل کی بدترین مثال ہے جس نے ہر دردمند آنکھ کو اَشک بار کر دیا ہے۔ جس سے اِسلامی دُنیا کے طول و عرض میں غم و غصّے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

520 صفحات پر مشتمل یہ کتاب ہر خاص و عام پاکستانی کی ضرورت سمجھی جاتی ہے جبکہ پاک سٹڈی اور تاریخ کے اساتذہ اور طلبہ بطریقِ احسن اِس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

حقاٸق پر مبنی اِس کتاب کی کوئی ثانی نہیں۔ اِس کا ہر مضمون دراصل ایک داستانِ عبرت ہے۔
کتاب حاصل کرنے کے لئے
03139255704 (whatsApp)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں