خاتون نوٹ بک پر لکھتے ہوئے اور پھولوں کا گل دستہ

تحریروں کا سب سے پہلا مخاطب میں خود ہوتی ہوں

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

معروف سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور انوائرنمنٹلسٹ نیرتاباں سے مکالمہ

1:آپ کا تعارف ؟
جواب: میرا نام نیّر تاباں ہے۔ ایکسٹرورٹ ہوں۔ ایمپتھیٹھک ہوں۔ ماحول دوست ہوں۔ راولپنڈی میں پلی بڑھی اور اب گزشتہ کئی سالوں سے کینیڈا میں مقیم ہوں۔

2: قلم سے دوستی کیوں اور کیسے ہوئی ؟ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیابی ملی ؟
جواب: ایک پیج پر ایڈمن تھی۔ تب اردو ٹائپ کرنا سیکھی۔ اب جب سیکھ لی تو گاہے بگاہے اپنے خیالات کا اظہار بھی شروع کر دیا۔ اپنی تحریریں جب جا بجا دوسرے ناموں سے ملنے لگیں تو یہ پبلک اکاؤنٹ بنایا۔
مقصد باقیوں سے پہلے اپنی اصلاح تھا۔ میری تحریروں کا سب سے پہلا مخاطب میں خود ہوتی ہوں۔ یوں ریمائنڈر ملتے رہتے ہیں۔ کبھی مقصد پورا ہو جاتا ہے، کبھی چکا چوند میں کھو کر بھولنے لگتی ہوں۔

3:آپ کی تحریریں ہمارے معاشرے میں شہرت پانے والے لغو اور نقل شدہ ادب سے بالکل مختلف ہیں ۔ کیا آپ کو نہیں لگتا اس طرح نام اور مقام بنانے میں طویل وقت درکار ہوگا؟
جواب: میں بالکل سچ بتاؤں تو لکھنا نام بنانے کے لئے تھا ہی نہیں۔ اصلاح میرا بنیادی مقصد تھا۔ اگر کوئی ایک بندہ بھی عمل کرتا ہے تو میرے لئے یہ خوشی کا باعث ہے۔ نام اور مقام جتنا اللہ نے دے دیا ہے یہ میں نے کبھی خواب خیال میں بھی نہیں سوچا تھا۔ مجھے اتنا کافی ہے۔

4: آپ کی کاوشوں اور اس مقام تک پہنچنے میں آپ کے اہل خانہ خصوصاً شوہر، باپ، بھائی اور بیٹوں کا کیا اور کیسا کردار رہا ؟
جواب: سبھی نے اپنا مثبت کردار نبھایا ہے الحمد للّٰہ۔ شوہر کا کردار باقی سب سے زیادہ ہے کیونکہ وہ مجھے کوکنگ، صفائیوں ستھرائیوں اور اپنے کاموں میں ضرورت سے زیادہ مصروف نہیں رکھتے۔ یوں سارا وقت کچن اور گھریلو کاموں کی نذر نہیں ہو جاتا۔ پڑھنا، ڈرائیونگ سیکھنا، والنٹیئر کرنا۔۔ ان سب چیزوں کے لئے انہوں نے ہمیں باقاعدہ اکسایا ہے۔

5:آپ کس معاشرے کی نمائندگی کرتی ہیں ؟
نیز آپ آج کی عورت کو کیا دلوانا چاہتی ہیں ؟ عزت ، شہرت ، دولت ؟
جواب: عزت! اپنے ہی گھر میں عورت کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے کبھی سسرال والوں کے ہاتھ اور کبھی شوہر کے ہاتھ، سب سے پہلے تو عزت کر لیں۔ گھر سے باہر نکلے تو بھی جانوروں کی نظروں سے، ان کے ہاتھ سے، زبان سے محفوظ نہیں۔ دوسرے نمبر پر دولت کیونکہ دولت والوں کی عزت کرنے پر لوگ خود کو مجبور پاتے ہیں۔

6: کتنی مرتبہ آپ کو یہ احساس ہوا کہ کاش میں حجابی نہ ہوتی ؟
جواب: کبھی شادیوں میں سجی سجائی لڑکیاں نظر آئیں، بال سٹریٹن کیے ہوئے، کانوں میں خوبصورت جھمکے آویزاں تو شیطان کہتا ہے کہ حجاب کی وجہ سے تم یہ سب نہیں کر سکتی۔ دوسرے ہی لمحے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ الحمد للّٰہ! سامنے دیکھنے والوں اور پھر ویڈیوز میں پتہ نہیں کہاں کہاں کس کس کی نظر سے گزرتا ہے انسان۔ ویسے حجاب اوڑھنا مجھے بے حد پسند ہے۔ 28 سال کی عمر میں جب حجاب اوڑھنا شروع کیا تب تو بہت ہی اچھا لگتا تھا۔ اب عادتِ ثانیہ بن گیا ہے۔

7: کون سے رویے ، مزاج ، مطالبات آپ کو بہت زیادہ تکلیف دیتے ہیں ؟
جواب: اپنے سے کمزور پر ظلم کرنے والا مزاج بہت تکلیف دیتا ہے، چاہے بچوں پر ظلم ہو، جانوروں پر ہو، عورتوں پر ہو۔ پھر معاشرے کا مزاج کچھ ایسا ہے کہ عورت یہ ظلم سہتی چلی جاتی ہے آواز نہیں اٹھاتی۔ جو آواز اٹھائے وہ معتوب ٹھہرے۔ صبر یہ تو نہیں۔ ظالم کو تو ظلم سے روکنے کا کہا گیا ہے۔ ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ عورت کامپرومائز نہ کرے لیکن کہیں حد رکھی جائے جس سے آگے بڑھنے کی اجازت نہ ہو۔ ایک طرف ظلم کی نہ ختم ہونے والی داستان، دوسری طرف صبر کے نام پر جبر برداشت کرنے کا رویہ بہت تکلیف دہ ہے۔

8: آپ آج کی عورت سے کیا چاہتی ہیں, اس کو کہاں اور کیسے دیکھنا چاہتی ہیں ؟
جواب: میں چاہتی ہوں کچھ نہ کچھ نیا سیکھتی رہے، خود کو زمانے کے اعتبار سے گروم کرتی رہے۔ مظلومیت کے خول سے باہر نکلے۔ گھر کے کاموں سے بالاتر ہو کر وسیع پیمانے پر سوچے۔ پھر چاہے ماں کے کردار میں ہے تو نسل سازی میں کردار نبھائے۔ تبدیلی لائے۔ ٹرینڈز کے پیچھے بھاگنے کے بجائے نئے ٹرینڈز سیٹ کرے۔

9:آپ کو اپنے عورت ہونے پر فخر ہے کیونکہ…… ؟
جواب: کیونکہ ’’ریشم میں لپٹا ہوا فولاد ہیں ہم‘‘
صنفِ نازک ہیں بظاہر تو، لیکن کتنے ہی گھر اپنے بل بوتے پر جوڑ رکھے ہیں۔ مجھے لگتا ہے عورت جب زبان کھول بیٹھتی ہے تو کتنے ہی گھروں کے شیرازے بکھر جاتے ہیں۔
پھر عورت ہونے پر مجھے اس لئے بھی فخر ہے کہ جو نرم دلی، جو ایمپتھی عورتوں میں عمومی طور پر پائی جاتی ہے، مردوں میں نسبتا کم نظر آتی ہے۔

10: وہ پیغام جو آپ اپنی تحریروں سے دوسروں تک پہنچانا چاہتی ہیں ؟
جواب: تبدیلی اور اصلاح کا سفر اپنی ذات سے شروع کریں۔

11: اے کاش…. ؟
جواب: کسی بھی انسان پر جب ظلم ہو یا وہ ظلم کرے تو اس عمل کو بحیثیت انسان دیکھا جائے نہ کہ مرد اور عورت کی نصفوں میں بانٹ کر مرد مردوں کی اور عورتیں عورتوں کی سائیڈ لیں۔ اصلاح کی طرف پہلا قدم یہ قبول کرنا ہوتا ہے کہ غلطی ہو رہی ہے۔ کاش پدرسری معاشرے کا مرد یہ مانے کہ درونِ خانہ عورت کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

(یہ انٹرویو حریم ادب پاکستان کے تعاون سے کیا گیا)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

ایک تبصرہ برائے “تحریروں کا سب سے پہلا مخاطب میں خود ہوتی ہوں”

  1. عشرت زاہد Avatar
    عشرت زاہد

    نیر کا انٹرویو بہت شاندار ہے۔