رجب طیب ایردوان ، صدر ترکی

ترکی نے بڑا فیصلہ کرلیا، یورپی حکمران پریشان

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ترکی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب شامی مہاجرین کو سمندری اور زمینی راستوں سے یورپ جانے سے نہیں روکے گا۔ ایک سینئر ترک عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ یہ قدم ادلب سے تقریباً 10 لاکھ افراد کے بے دخل ہونے کے بعد مہاجرین کی آمد کا نیا سلسلہ شروع ہونے کے پیش نظر اٹھایا جا رہا ہے۔
ترک پولیس، کوسٹ گارڈز اور بارڈر سکیورٹی حکام کو یورپ جانے والے شامی شہریوں کو نہ روکنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔

قبل ازیں جمعرات کو ترک کے سرحدی قصبے خطائے کے گورنر رحمی طوغان نے بتایا کہ شامی حکومت کے حملوں میں ادلب میں 22 ترک فوجی شہید ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے صدر رجب طیب ایردوان نے جنگ زدہ شامی شہر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام وزراء اور سینئر حکام اس موقع پر موجود تھے جن میں نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (MIT) کے سربراہ خاقان فدان بھی شامل تھے۔

ڈائریکٹوریٹ آف کمیونی کیشنز نے شامی فوج کے خلاف ترک کارروائی پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فوج نے 1,709 شامی فوجیوں کو بے اثر بنایا ہے اور ساتھ ہی 55 ٹینک، تین ہیلی کاپٹر، 18 بکتر بند گاڑیوں، 29 توپوں، 21 فوجی گاڑیوں، چھ اسلحہ ڈپو، سات مارٹر اور چار ہیوی مشین گنوں کو ناکارہ کیا ہے۔
ستمبر 2018ء میں ترکی اور روس نے ادلب کو ایک de-escalation زون بنانے پر اتفاق کیا تھا، جہاں جارحیت کا مظاہرہ کرنا ممنوع ہے۔

لیکن شامی حکومت اور روسی فوج کے حملوں میں اب تک 1,300 سے زیادہ شہری اس زون میں مارے جا چکے ہیں اور سیزفائر کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔

ان سخت حملوں کی وجہ سے 10 لاکھ سے زیادہ شہری ترک سرحد کے قریب منتقل ہو چکے ہیں۔
(بشکریہ آر ٹی اردو)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں