ریحام خان

ریحام خان! آپ سے یہ توقع ہرگز نہ تھی!

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جویریہ خان:

آج سارا دن وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کا ایک انٹرویو زبان زد عام رہا، انھوں نے یہ انٹرویو ایک یوٹیوبر کو دیا۔وہاں ایسی باتیں ہوئیں جوکوئی مسلمان خاتون سن ہی نہیں سکتی ۔ بلکہ مسلمان ہی نہیں دنیا کے کسی بھی معاشرے میں، کسی بھی مذہب اور کسی بھی طبقے کی خاتون ایسی باتیں سننا اور ان پر قہقہے بلند کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ، کیونکہ ہر خاتون کے اندر اللہ تعالیٰ نے حیا اور شرم کا مادہ رکھا ہوتاہے۔ اگر کوئی خاتون ایسی باتیں کرتی ہے یا سنتی ہے، اسے ہر کوئی برا سمجھتا ہے۔

وہ یوٹیوبر جس قسم کے سوالات ریحام خان سے پوچھ رہاتھا، ایسے سوال کسی عیسائی، کسی یہودی، کسی ہندو، کسی سکھ خاتون سے پوچھے جاتے تو وہ شٹ اپ کال دے دیتی۔ حتیٰ کہ وہ خاتون بھی ایسی باتیں برداشت نہ کر تی جس کا دنیا کے کسی مذہب پربھی یقین نہیں ہے۔

ریحام خان نے جس یوٹیوبر کو یہ انٹرویو دیا، وہ پرلے درجے کے گندے سوالات کرنے کے حوالے سے بدنام ہے۔ ایسے نوجوان ہمارے ہاں معاشرتی انحطاط کے واضح ثبوت ہیں۔ چلیں! وہ تو فحش ہے ہی، آخر جوان بچوں کی ماں اور زمانے کے تمام سرد گرم دیکھنے والی ریحام خان کو کیا ہوگیاتھا۔ وہ اس غلیظ یوٹیوبر کے پروگرام میں شریک ہی کیوں ہوئی تھیں؟ افسوس ہے کہ وہ نہ صرف اس پروگرام کا باقاعدہ حصہ بنیں بلکہ اس نوجوان کے غلیظ سوالات پر قہقہے بھی لگاتی رہیں۔

ریحام خان اور یوٹیوبر کے درمیان ہونے والی گفتگو کو دیکھنے اور سننے والے لوگ شرم سے پانی پانی ہورہے تھے، بہت سوں سے غلیظ سوالات کو برداشت نہیں کیا اور اس انٹرویو کو بند کردیا۔ یعنی دیکھنے اور سننے والے حیا اور شرم محسوس کرنے لگے۔ پتہ نہیں ریحام خان یہ سب کچھ کیسے برداشت کررہی تھیں۔

اس انٹرویو کو دیکھنے والے بعض لوگوں کا کہناہے کہ وہ پہلے پہل تو اس کے ویڈیوکلپس کو جعلی سمجھے، لیکن جب ثابت ہوا کہ یہ جعلی نہیں ہے بلکہ اصلی ہیں ، تو وہ سخت حیران ہوئے کہ بھلا کوئی خاتون کیسے ایسی گفتگو کا حصہ بن سکتی ہے اور اس میں پوری طرح شریک ہوسکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایک بدنام زمانہ یوٹیوبر نے جب ریحام خان سے انٹرویو کے لئے رابطہ کیا ہوگا تو کیا ریحام خان کو پتہ نہیں تھا کہ وہ کس قسم کے سوالات کرے گا؟ پھر وہ کیوں اس کے پروگرام کا حصہ بنیں؟ صاف سیدھی سی بات ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر شریک ہوئیں۔

اگر ریحام خان کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں تو انھیں سوچنا چاہئے کہ اس پروگرام میں شریک ہوکر، اس کا پوری طرح حصہ بن کر انھوں نے بدنامی کے علاوہ کیا حاصل کیا؟ یقیناً ٹوئٹر پر ریحام خان نے اپنے خلاف ٹرینڈ دیکھا ہوگا، انھوں نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ وہاں کس طرح ان پر تنقید ہورہی ہے، شاید ہی کسی فرد نےان کے طرزعمل پر خوشی کا اظہار کیا ہو، ہر ایک نے ان پر اور یوٹیوبر پر لعن طعن ہی کی ہے۔ پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ ریحام خان پر تنقید طعن کرنے والے صرف تحریک انصاف کے لوگ ہی تھے، بلکہ ہر شائستہ فرد نے اس پر ناپسندیدہ خیالات کا اظہار کیا۔

یہاں پر مجھے افسوس ان لوگوں پر بھی ہے جو صرف ریحام خان کی دشمنی میں یوٹیوبر کو شاباش دے رہے ہیں، اس کے پروگرام اور اس کے کلپس کو جگہ جگہ شئیر کررہے ہیں۔ حالانکہ اس یوٹیوبر کی بھی شدید مذمت کرنی چاہئے، آخر اسے ایسے غلیظ سوالات کرنے کی ہمت کیسے ہوئی؟ ایسے گندے لوگوں کو سوشل بائیکاٹ ہوناچاہئے۔ میں ایسے کلپس کو شئیر کرنے والوں سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر ان کی سابقہ بیوی یا سابقہ شوہر ایسے کسی یوٹیوبر کے پروگرام میں شریک ہوکر ریحام خان جیسا طرزعمل اختیار کرے تو کیا وہ تب بھی ویڈیو کلپس شئیر کریں گے؟؟

یہ ایک سوال ہے جو میں ہر ایک کے سوچنے کے لئے چھوڑ کر جارہی ہوں۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں