رقیہ اکبر چودھری، اردو کالم نگار، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ، بلاگر

شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے بے زار کب اور کیوں ہوتے ہیں؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

رقیہ اکبر چودھری :

سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے!
آپ سوشل میڈیا پر ایک سٹیٹس اپلوڈ کرتے ہیں۔ اپنی یا اپنے بچوں کی تصاویر لگاتے ہیں، کہیں گھومنے کیلئے گئے تو خوبصورت قدرتی مناظر، جھیلوں ،بہتی آبشاروں کے لینڈ سکیپ اپنی وال کی زینت بنا دیتے ہیں۔

آپ کا بچہ فن مصوری میں تاک ہے آپ نے اس کے اس ہنر کی کئی وڈیوز اور تصاویر اپنے فیس بکی احباب سے شیئر کیں۔

آپ کوکنگ ایکسپرٹ ہیں یا پہلی بار کوئی ڈش بنائی اب چاہتے ہیں دوستوں کو بھی بتائیں کہ آپ نے کتنا اچھا اور اہم کام کیا ہے۔

آپ کو باغبانی پسند ہے یا گھر کو سجانے سنوارنے کی ماہر ہیں۔
جڑی بوٹیوں کے حوالے سے آگاہی ہے یا پھلوں سے مشروبات بنانے کی تراکیب بتاتے ہیں۔
اگر سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو ساری مہارتیں سب کو دکھانا چاہتے ہیں۔

آپ شاعر ہیں تو ہر نیا وارد شدہ شعر دوبستوں کو سنانے وال پر بیٹھک سجا لیتے ہیں۔
آپ نثر نگار ہیں، لفظوں کے موتی پرو کر تحریر کی مالا بنتے ہیں اور فوراً فیس بک کھول کر داد وصول کرنے آتے ہیں۔

یہ سب کرنے کے بعد آپ بار بار اپنی وال چیک کرتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے دیکھا ، پڑھا ، سنا؟
کتنوں نے تعریف و تحسین کی ، کتنے دوستوں نے پسندیدگی کا اظہار کیا؟
زیادہ تعریفی کمنٹس اور ری ایکشنز آپ کو ڈھیروں خوشی دیتے ہیں ، سیروں خون بڑھ جاتا ہےکہ لوگوں نے آپ کی تحریر، تصویر، تقریر کو پسند کیا۔

آپ کو سب دوستوں کی حوصلہ افزائی سے بےحد خوشی ہوتی ہے اپنے گھر والوں ،دوست احباب سے ذکر بھی کرتے ہیں مگر
تب تو خوشی دیدنی ہوتی ہے سنبھالے نہیں سنبھلتی اگر تعریف کرنے والا بہت اہم ہو۔۔بہت پیارا ہو، بہت ہی خاص ہو۔

یا آپ سے زیادہ اس کام کا ماہر اور مشہور ہو جو کام آپ نے کیا ہے۔
آپ کا استاد ہو، دوست ہو، سنگی بیلی ہو۔
آپ کے والدین بھی ہو سکتے ہیں ،اولاد بھی،شوہر یا بیوی بھی۔

غرض آپ کو سب سے زیادہ خوشی اس کی تعریف سے ہوتی ہے جس سے آپ کو محبت ہو جو آپ کیلئے بہت ہی خاص ہو۔
پھر آپ اس تعریف کو اپنے تک نہیں رکھتے، اپنے دوستوں ، یاروں ، گھر والوں سب کو فخریہ بتاتے ہیں ،اعلان کرتے ہیں کہ دیکھو! آج فلاں اہم ترین شخص نے میرے فن کی تعریف کی۔
دیکھو مجھے اتنے لائکس ملے۔
دیکھو میرے کام کو اہل فن نے سراہا۔

یہ تعریف کیا بلا ہے؟ یہ تعریفی کلمات اتنے اہم کیوں ہیں؟
اتنے اہم اور ضروری کہ اللہ کی بےنیاز ذات کو بھی اتنے پسند ہیں کہ ہر نماز کی ابتداء میں تعریفی کلمات فرض کر دیئے۔

آپ کو اپنے بچے سے پیار ہے ، سب ہی جانتے ہیں، بچہ بھی جانتا ہے مگر آپ چلتے پھرتے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہیں ، گاہے بےسبب مسکرا دیتے ہیں ،کبھی بلاوجہ چوم کر اپنی محبت کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔

آپ کی بیٹی نے وہی پرانا سوٹ ہی زیب تن کیا آپ ہر بار اس کی تعریف کرتے ہیں
نیا پہن لے تو بلائیں لیتے نہیں تھکتے۔

آپ باپ ہیں بیٹی نے کھانا بنایا تو دسترخوان پر ہر لقمے کے ساتھ تعریف کرتے ہیں اور ہر تعریف پر بیٹی کے چہرے پہ پھیلی خوشی ، طمانیت ،اور زرا سا فخر دیکھ کر آپ کا دل خوشی سے معمور ہو جاتا ہے۔

آپ ہر روپ میں ، ہر رشتے میں اپنے پیاروں کو سراہتے ہیں ، محبت کا اظہار کرتے ہیں اور اس پہ فخر کرتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ” بیوی “ کا لفظ آتے ہی آپ سب کا رویہ بدل جاتا ہے؟
کچھ دوستوں نے مخلصانہ مشورے کیا دیئے کہ
بیوی کو وقت اور توجہ دو۔
اس کی تعریف کرو۔
اس سے پیار کا اظہار کرو۔
فیس بک کی دنیا میں مانو بھونچال ہی آ گیا۔

کسی کو لگا یہ چونچلے ہیں ، کوئی بیزاری سے کہہ رہا: اف مجھے تو الجھن ہوتی ہے یہ سن کے، کسی کو لگا عورتوں کو بگاڑا جا رہا ہے، کوئی بولتا یہ فلمی دنیا سے نکل آئو۔
غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی ایسی کون سی ” گناہگارانہ ، واحیتانہ یا بدتہذیبانہ فرمائش کر دی گئی جس پہ سارے ہی سیخ پا ہو رہے ہیں۔

کیا وجہ ہے کہ اپنی تو تحریر و تصویر پر بھی تعریفی کلمات سننے کے ڈھیروں ارمان سینے میں پالنے والے ہم سب بیوی کی شوہر سے محبت اور تعریف کی ڈیمانڈ پر ہاہا کار مچا رہے ہیں۔
ارے بہنو اور بھائیو!
جس طرح آپ اپنی عزیز اور سب سے اہم ہستی کی تعریف پر پھولے نہیں سماتے اسی طرح بیوی کیلئے بھی تو سب سے اہم اس کا شوہر ہی ہوتا ہے ناں۔

نہ صرف اس کیلئے بلکہ پورے معاشرے میں ہی اس عورت کی عزت و تکریم کی جاتی ہے جس کا شوہر اس سے محبت کرتا ہو اہمیت دیتا ہو اور تقریباً یہی کچھ ذرا سے فرق سے مرد کے حوالے سے بھی ہوتا ہے
تو ظاہر ہے وہ بھی سب سے زیادہ اسی ہستی کی محبت اور تعریف کی متمنی ہوتی ہے جو اس کیلئے سب سے اہم ہے ،اس کی تعریف دنیا جہان کے لوگوں کی تعریف سے زیادہ اہم اور اس کے محبت بھرے دو بول گویا اکسیر کا کام کرتے ہیں۔

تو اب اگر ایک عورت یہ چاہتی ہے کہ میرا شوہر میری تعریف کرے تو آپ کو برا کیوں لگتا ہے؟ کیوں اس ڈیمانڈ سے الجھن محسوس کرتے ہیں؟

توجہ، وقت اور محبت دینے کی نصیحت سے آپ نے یہ نتیجہ کیسے اور کیونکر اخذ کر لیا کہ عورتیں تو بس شوہروں کو پلو سے باندھ کے رکھنا چاہتی ہیں ،
یا ساری دنیا سے کاٹ کر بس اپنا اسیر بنائے رکھنا چاہتی ہیں ۔
یا یہ چاہتی ہیں کہ بس دن رات شوہر عشق محبت کے گیت گاتا مانند مجنوں پھرتا رہے ،
دنیا جہان کی ہر ذمہ داری سے مکت ہو کر بس بیوی کے گوڈے سے لگ کر ٹکٹکی باندھے ،
اس کے حسن کے قصیدے ہی پڑھتا رہے۔

اور یہ کس نے کہہ دیا آپ سے کہ دن بھر کا تھکا ہارا آئے تو آتے ہی پہلے بیوی کی تعریفوں کے پل باندھنا شروع کر دے؟
نہیں میری بہنو!
یہ ڈیمانڈ ، یہ خواہش
نہ عورت کی یہ ڈیمانڈ ہے نہ آرزو اور خواہش۔

نہ توجہ اور وقت دینے کی نصیحت کرنے والوں کا یہ مقصد ہے ، نا شکوہ کرنے والی عورت یہ چاہتی ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ کیسز میں عورت ناشکرے پن کا مظاہرہ بھی کرتی ہو ، بلاوجہ کے شکوے شکایات بھی ہوتی ہوں گی، ایسا تو دونوں ہی طرف سے ممکن ہے اور ہوتا بھی ہے کہ ہر چیز میسر ہونے کے باوجود شکوے شکایت کا دفتر کھلا رہتا ہے لیکن ایسا ہر جگہ اور ہمیشہ نہیں ہوتا۔

اگر کچھ دوستوں نے یہ لکھا اور پورے خلوص سے لکھا کہ بیویوں کو محبت اور توجہ چایئے تو یقیناً ان مردوں کیلئے لکھا جو اپنی بےانتہاء مصروفیت یا عدم دلچسپی کے باعث مناسب وقت اور توجہ نہیں دیتے۔

کئی گھروں کی یہ کہانی ہے اور بہت سے لوگوں نے اس سے پہلے بھی اس موضوع پہ لکھا ، کئی خواتین سے خود میری ملاقات ہے اور میں دیکھتی بھی ہوں کہ شوہر توجہ نہیں دیتے تو یہ ساری نصیحتیں ان کیلئے ہیں آپ کیلئے نہیں جو اپنی اپنی زوج کو اس کے مزاج اور اپنے وقت کے حساب سے توجہ بھی دیتے ہیں ،خیال بھی رکھتے ہیں اور تعریف و تحسین بھی وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔

یا وہ خواتین جو خوش قسمت ہیں کہ انہیں ان کے شوہروں کی طرف سے مکمل توجہ اور محبت ملتی رہتی ہے وہ یہ خوش گمانی دل میں نہ پالیں کہ سب ہی عورتوں کے حصے میں یہ نعمت آئی ہے۔
آپ کا یہ کہنا کہ گھر میں ہر آسائش میسر ہے تو اور کیا چایئے؟
کیا یہ بات دلیل دینے کیلئے کافی ہے؟
کیا محبت نام کی چڑیا بس کتابوں کہانیوں کا حصہ ہونی چاہئے؟
یا۔۔۔۔۔۔۔
یہ بس غیر شادی شدہ جوڑوں کو زیب دیتی ہے؟

ذرا بتایئے یہ ہر طرح کی آسائش کیا اسے باپ کے گھر میں میسر نہ تھی؟
اور کیا شادی بس ” آبادی “ بڑھانے کے لئے ہونی چایئے؟
وہ جو رب تعالیٰ نے ” زوج “ کا سکون، ” جوڑے “ کی سنگت رکھی ہے وہ کیا بنا محبت کے بس ” جانوروں “ کی طرح ”کھایا ، پیا ، بچہ پیدا کیا “ کیلئے تھی؟

اور یہ بھی کس نے کہا کہ بائیس ، پچیس سال کی جوان اولاد والی پچاس پچپن کی عمر تک پہنچی عورتوں کی یہ خواہش ہے؟
اگر ہو بھی تو حرج کیا ہے؟

یوں تو عمر رسیدہ گورے جوڑوں کی تصویریں بڑے محبت بھرے کیپشن لگا کر شیئر کرتے ہو، کہتے ہو
دیکھو! کتنے زندہ دل ہیں۔
اور اگر یہی زندہ دلی اپنے معاشرے کی عورت کرے تو سینگوں پہ اٹھا لیتے ہو۔

چاہتے ہو پاکستانی مرد بس گدھوں کی طرح کام کرتا رہے اور عورتیں ہر وقت سڑی ہوئی شکل اور لہسن پیاز کی بو سے لتھڑی ہوئی نظر آئیں، پیار محبت تو ان کیلئے کلمہ کفر ہے جیسے،
ہاں جب پیٹ اور جسم کی بھوک بڑھ جائے تو بس مارے باندھے دو چار لقمے زہر مار کریں تاکہ سانسیں چلتی رہیں، زندگی بسر کرنے کی خواہش نہ پالیں دل میں۔
پھر روتے ہیں مرد ادھر ادھر منہ مارتا ہے اور عورتوں نے باہر ” دوستیاں“ گانٹھ لی ہیں۔۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں