ڈاکٹرجویریہ سعید، اردو کالم نگار، ماہر نفسیات

نفسیاتی امراض : ایک جیسی باتوں کے نتائج مختلف ہوسکتےہیں

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ڈاکٹرجویریہ سعید:

میں کچھ باتیں عرصے سے کہتی آرہی ہوں۔ شاید اس وقت جب یہاں اس قسم کی باتیں کہنے والے کم تھے۔
کاونسلنگ، دل جوئی، تسلی دینے کی اہمیت،
کون سی باتیں اور انداز غلط ہیں،
کیا کرنا چاہیے،
انسانوں کو رنگ نسل جنس اور زبان کی حد بندیوں سے پرے سمجھنے کی اہمیت،

ڈپریشن اور نفسیاتی امراض کے بارے میں غلط فہمیاں، مثلا ایک مسلمان بلکہ باعمل مسلمان کو بھی ڈیپریشن ہو سکتا ہے۔
خواتین کے ساتھ برا سلوک،
ان کی عزت نفس کا خیال رکھنے کی اہمیت،
خواتین کو اپنا خیال رکھنا چاہیے۔
یہ اور بہت کچھ۔

لیکن پلیز سمجھنے کی کوشش کریں۔
ہر تحریر اور ہر خیال میں سے ایک ہی جیسے نتائج اخذ کرنے کی کوشش نہ کریں۔

جتنے انسان ہیں اتنی سچائیاں ہیں،
اور ایک کیس میں کئی عوامل کا دخل ہوتا ہے۔
ہر مرتبہ ہر کہانی میں ایک ہی جیسا پلاٹ اور ایک جیسا انجام اور ایک جیسے نتائج نہیں ہوتے۔

ڈپریشن باعمل مسلمان کو بھی ہوسکتا ہے،
اور ڈیپریشن کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا ایمان کمزور ہے،
مگر ایمان، یقین اور اللہ کریم سے تعلق دل کے حزن کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ہماری شخصیت کو مضبوط بنانے والے عوامل کئی ہیں،
ہماری فطرت کے خواص، ہماری اپنی شخصیت میں موجود مختلف ٹریٹس جن کی بنا پر ہم حالات پر ایک مخصوص انداز میں ردعمل ظاہر کرتے ہیں (ٹیمپرامنٹ)

ہمارے والدین اور معاشرے کا ہمارے ساتھ برتاؤ،
ماحول،
ہماری عادات، ہمارا انتخاب،
اور ایمان و یقین اور اللہ کریم سے ہمارا تعلق۔

میں نے کبھی انسانوں پر سیدھے سیدھے لیبل لگانے کی کوشش نہیں کی، الحمدللہ۔ ان کو درد دل اور توجہ اور دلچسپی سے سنا ہے، سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے سے بے حد مختلف عقائد، خیالات اور شخصی خصوصیات رکھنے والوں سے بالکل مختلف ماحول میں گفتگو کے قابل ہوسکی ہوں۔

کبھی کبھی میں ایسی کہانی کہتی ہوں، یا ایسی بات کرتی ہوں جس سے آپ ذاتی طور پر ریلیٹ نہیں کر پاتے۔
مثلا عورت کے ساتھ زیادتی کی داستان، اور آپ کہتے ہیں، ہمارے گرد تو ایسا نہیں ہوتا، اس کے برعکس ہوتا ہے،

عورت کے ساتھ حسن سلوک کی کہانی، اور آپ میں سے کچھ بپھر کر کہتے ہیں، آپ کو کیا خبر کتنی عورتوں کی زندگیاں درد بھری ہیں۔ لگتا ہے، آپ کی اپنی زندگی بہت آساں ہے۔

کبھی میں بچوں کا خیال رکھنے کی بات کروں تو والدین خفا ہونے لگتے ہیں،
کبھی والدین سے ہمدردی کروں تو نواجونوں کا لگتا ہوگا ”آنٹی بوڑھی ہوگئیں“

ایسا اس لیے ہے کہ ہم میں سے اکثر صرف ان واقعات، احساسات اور الفاظ سے ریلیٹ کر پاتے ہیں جن سے وہ خود کبھی گزرے ہوں یا گزر رہے ہوں۔
یہ ہے تو فطری سی بات۔

مگر کائونسلنگ یا سائکائٹری ہی نہیں عام لوگوں کے لیے بھی زندگی بہتر طور پر گزارنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ مختلف حالات، جذبات اور واقعات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
اپنا ذہن ہر امکان کے لیے کھلا رکھیے۔ سیکھیے۔

سوالوں کو پہلے سے موجود رٹے رٹائے جوابات کے ساتھ چپ نہ کروائیے۔
اچھا ادب پڑھنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ کچھ ذہین اور حساس انسان آپ کو مختلف انسانوں کے اندروں کی سیر کرواتے ہیں۔
انسان کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

نفسیات کا مذہب سے ہی نہیں، ادب سے بہت گہرا تعلق ہے۔
یہ ٹی وی ڈرامے، سطحی سچائیاں پیش کرتے ہیں۔ سطح پر موجود جذبات کو انگیخت کرتے ہیں
ان سے آگے بڑھ کر اچھا اور سنجیدہ ادب پڑھنے کی کوشش کریں۔

بات کو سمجھنے اور بیان کرنے کے کتنے اسالیب ممکن ہیں
اور ایک واقعے کی کتنی پرتیں ہوسکتی ہیں، یہ ادب اور شاعری سکھاتی ہے۔

آپ جس کو یہاں فیس بک پر پڑھتے رہے ہیں، اس سے کوئی ایک بات سیکھی ہوگی۔ میرے ساتھ یہی واقعہ ہوا ہے۔ جس کو پڑھتی رہتی ہوں ، اس سے ایک یا دو باتیں ایسی سیکھتی ہوں، سمجھتی ہوں، جو اوروں سے مختلف ہوں۔

ہو سکتا ہے آپ کو میرے یہاں ایک سی باتیں ، ایک سے نتائج نہ ملیں۔
مگر یہی میرا پیغام ہے۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں