بین الاقوامی جریدے’ دی اکانومسٹ‘ کے تجزیہ کا خلاصہ
بھارت کا بنیادی تعلیمی مسئلہ یہ ہے کہ اس نے تعلیم کا دائرہ تو بہت تیزی سے وسیع کر دیا، مگر معیارِ تعلیم، طلبہ کی مہارت اور روزگار کے درمیان مضبوط تعلق پیدا نہیں کر سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں ڈگری یافتہ نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، لیکن بہت سے نوجوان ایسی بنیادی مہارتیں بھی نہیں رکھتے جو اچھی ملازمت کے لیے ضروری ہیں۔ یوں تعلیم امید اور سرمایہ کاری کا ذریعہ بننے کے بجائے بہت سے خاندانوں کے لیے مہنگی دوڑ اور مایوسی کا سبب بن رہی ہے۔
یہ مسئلہ پیدا کیسے ہوا؟
پہلی خرابی اسکول سے شروع ہوتی ہے۔ 1990ء میں بھارت کے تقریباً ایک چوتھائی بچے پرائمری اسکول نہیں جاتے تھے، آج یہ شرح صرف 2 فیصد ہے۔ یعنی بچوں کو اسکول پہنچانے میں بڑی کامیابی ہوئی، مگر انہیں مؤثر تعلیم دینے میں وہی کامیابی نہیں ملی۔2022ء کے ایک دیہی سروے میں پانچویں جماعت کے پانچ میں سے تین بچے دوسری جماعت کی سطح کا متن بھی نہیں پڑھ سکتے تھے۔ مطلب صاف ہے: بہت سے بچے پڑھنے، لکھنے اور بنیادی حساب کی مضبوط بنیاد کے بغیر اگلی جماعتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔
استاد اور اسکول کا معیار
یہ کمزوری ثانوی اسکول تک ساتھ جاتی ہے۔ خستہ عمارتیں مسئلہ ضرور ہیں، مگر اصل مسئلہ تدریس اور جواب دہی ہے۔ 2024ء میں دیہی ثانوی اسکولوں کے اساتذہ اوسطاً ہر آٹھ میں سے ایک دن غیر حاضر رہے۔ جب استاد ہی باقاعدگی سے موجود نہ ہو تو صرف نئی عمارت یا نئی کتاب مسئلہ حل نہیں کر سکتی۔
والدین نجی تعلیم کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟
سرکاری اسکولوں میں مطلوبہ معیار کی تعلیم نہ ملنے پر والدین اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کرانے لگے ہیں۔ اسی وجہ سے بھارت میں تقریباً 10 کروڑ بچے فیس والے اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ نجی اسکولوں نے سرکاری نظام کی خرابی حل کر دی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نجی اسکولوں کی نگرانی بھی کمزور (poorly regulated)ہے۔ اس لیے بہت سے والدین فیس تو ادا کرتے ہیں، مگر انہیں اس کے بدلے لازماً معیاری تعلیم نہیں ملتی۔
اس صورتِ حال کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ جب والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں سے نکال کر نجی اسکولوں میں بھیج دیتے ہیں تو سرکاری نظام کو بہتر بنانے کے لیے حکومت پر عوامی دباؤ بھی کم ہو جاتا ہے۔ یوں خراب سرکاری اسکول، کمزور نگرانی والے نجی اسکول اور بہتر تعلیم کی خواہش رکھنے والے والدین—تینوں ایک ایسے چکر میں پھنس جاتے ہیں جس میں تعلیم پر خرچ بڑھتا ہے، مگر معیار کی ضمانت پھر بھی نہیں ملتی۔
کالجوں نے مسئلہ مزید بڑھا دیا
اعلیٰ تعلیم بھی تیزی سے پھیلی، مگر معیار اسی رفتار سے نہیں بڑھا۔ ہزاروں چھوٹے نجی الحاق شدہ کالج وجود میں آ گئے۔ بہت سے طلبہ غریب خاندانوں سے آتے ہیں اور ان کی فیس گھر کے لیے بڑا مالی بوجھ ہوتی ہے۔ اگر کسی طالب علم کی اسکول کی بنیادی تعلیم ہی کمزور ہو تو بعد میں کسی کم معیار کے کالج سے حاصل کی گئی ڈگری بھی اسے اچھی ملازمت دلانے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔
اصل خرابی کیا ہے؟
تین بڑی خرابیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں: نظام عام طالب علم کے بجائے اشرافیہ پر مرکوز ہے۔ چند ادارے بہت اچھے ہیں، لیکن بیشتر تعلیمی ادارے معیاری تعلیم فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
دوم،تعلیم کاروبار بن گئی ہے۔ نجی اسکول، کوچنگ سینٹر اور کم معیار کے کالج والدین کی بہتر مستقبل کی امید سے کماتے ہیں۔اور تیسری خرابی یہ ہے کہ ڈگری اور ہنر میں فرق بڑھ گیا ہے۔ بھارت زیادہ ڈگریاں تو پیدا کر رہا ہے، مگر اتنی مہارت نہیں جو روزگار کی منڈی کو درکار ہے۔
حل کیا ہے؟
اس مسئلے کا حل صرف مزید اسکول، کالج یا ڈگریاں پیدا کرنا نہیں۔ پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہر بچے کو بنیادی پڑھنے، لکھنے اور حساب کی مضبوط تعلیم ملے، اساتذہ جواب دہ ہوں، نجی تعلیمی اداروں کی مؤثر نگرانی ہو، کالجوں کا معیار بہتر کیا جائے، اور تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے کے بجائے ایسی مہارتوں سے جوڑا جائے جو روزگار میں کام آئیں۔









