مسجد-نبوی-مدینہ-منورہ-سعودی-عرب

دیارِ حبیب ﷺ میں پہلی حاضری

·

مکہ مکرمہ میں رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ قریب تھا تو ہم نے زیارتِ مسجدِ نبوی ﷺ کا قصد کیا۔

دیارِ حبیب ﷺ کی زیارت کے تصور سے دل کی کیفیت ناقابلِ بیان خوشی، اضطراب، عقیدت، محبت اور ہیجان میں مبتلا تھی۔ دل میں ایک عجیب سی لرزش تھی، جو درد نہیں، بس ایک میٹھا سا اضطراب تھا۔

1977ء میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کا راستہ آج والا ہائی وے نہیں تھا۔ پرانا راستہ، یعنی طریق الہجرہ قدیم، اپنی گاڑی میں سات، آٹھ گھنٹے میں طے ہونا تھا۔ چنانچہ ہم جمعرات کی شام مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے تاکہ جمعۃ المبارک مدینہ منورہ میں مل سکے۔

سفر کی ابتدا ہوئی تو وقتاً فوقتاً دل یکبارگی خوشی کے زور سے دھڑکتا اور سب سے پہلے یہی خیال آتا کہ وہ مسجد، سبز گنبد، ریاض الجنۃ، وہ گلیاں جہاں میرے نبی ﷺ کے قدم لگے، وہاں میں بھی سانس لوں گی۔

دل چاہتا کہ ہر سانس سے پہلے درودِ شریف کا تحفہ وہاں پہنچ جائے اور ہر درود کے ساتھ دل دیارِ حبیب ﷺ کی طرف ایسے ہمکتا محسوس ہوتا، جیسے بچہ ماں کو دور سے دیکھ کر ہمکتا ہے۔

خواجہ صاحب ڈیڑھ سال پہلے سعودی عرب آئے تھے اور راستوں سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے درمیان کئی جگہیں آئیں گی، مثلاً ذو الحلیفہ، بئرِ علی، جہاں مکہ جاتے ہوئے احرام باندھتے ہیں۔ یہاں صرف ایک چھوٹی سی مسجد ہے، جس کی دیواریں تو ہیں مگر کوئی خاص عمارت نہیں۔ وہاں ایک چائے والا پاکستانی ہوٹل بھی ہے۔

راستے میں میدانِ بدر بھی آئے گا۔ یہاں صرف ریت ہی ریت نظر آئے گی، 14 شہداء کی قبریں اور صرف ایک بورڈ، جس پر ’’مقبرۃ الشہداء‘‘ لکھا ہوگا۔ وہ کنواں بھی ہے جس میں کفارِ مکہ کی لاشیں ڈالی گئی تھیں، مگر ابھی ہم وہاں نہیں رکیں گے۔

وادیِ فرع میں ایک چھوٹا سا پٹرول پمپ ہے، جس پر بھی کوئی چھت نہیں، صرف ایک لکڑی کا بورڈ ہے جس پر ’’بنزین‘‘ لکھا ہوتا ہے۔

رابغ شہر، ساحل کے پاس عربی چارپائیوں اور فرشی نشست والا ’’مطعم رابغ‘‘ ہے، جہاں مچھلی، چاول اور قہوہ ملتا ہے۔ ہم نے یہاں رک کر کچھ دیر آرام کرنا تھا اور یہاں کی مچھلی اور چاول کھانے تھے۔

خواجہ صاحب گاڑی چلاتے ہوئے معلومات فراہم کرتے رہے۔

ہم کچھ ہی دیر میں وہاں پہنچ گئے۔ یہاں ہوا ٹھنڈی اور موسم معتدل تھا۔ یہاں رکے تو ایک گھنٹہ گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ یہاں اور بھی بسوں اور گاڑیوں کے مسافر کھانا کھانے رکے ہوئے تھے۔ ویسے بھی یہ آدھے راستے کا پڑاؤ تھا۔

آج سوچیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس زمانے میں سفر شوقِ عبادت بھی تھا اور راستے کا ایڈونچر بھی۔

سیال سونے کی بہاریں ابھی رنگ نہیں دکھا رہی تھیں۔ ترقی کے ابتدائی سفر کا زمانہ تھا۔

رابغ سے چلے تو ’’مدینہ منورہ آنے والا ہے‘‘ کی خوشخبری سننے میں کئی گھنٹے لگے۔

مدینہ کا نام آتے ہی دل نرم ہو جاتا ہے۔ زبان خاموش اور روح ربِ کریم کے حضور سجدے میں محسوس ہوتی ہے۔ میری زبان گنگ تھی۔ دل مسلسل حضوری چاہ رہا تھا۔ میری خاموشی اختیاری نہ تھی۔ قلب و روح کو اس آسمان تلے اور مقدس زمین کے تصور نے سکتے کی کیفیت میں مبتلا کیا ہوا تھا اور دل چاہتا تھا کہ ہر طرف سکوت طاری ہو جائے۔

رات کو رابغ کا آسمان ستاروں سے چمک رہا تھا۔ رمضان المبارک کا چاند واپسی کی منزلیں طے کر رہا تھا۔ ہوا کی سبک رفتاری میں پراسرار سی سرگوشی تھی۔ ایسے میں تو دل کو کائنات سے باتیں کرنا ہوتی ہیں، جیسے کوئی بلا رہا ہو:

’’آؤ، تھکے ہوئے مسافر، یہاں سکون ہے۔‘‘

تھکے ہوئے مسافر کا سوچنے پر تصورِ ماضی کے ان دو مدینہ کی طرف گامزن معزز ترین مسافروں کو دیکھنے لگتا ہے، جو مکہ سے یثرب کی طرف دنیا کی نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے تھے اور جن کی آمد کے اہلِ یثرب بے تابی سے منتظر تھے۔ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ اور آپ کے رفیقِ سفر، یارِ غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔

’’محمد آگئے! محمد آگئے!
رسول اللہ آگئے!‘‘

تصور میں وہ منظر آتے ہی دل میں روشنی سی پھوٹ پڑتی ہے اور اس دور کا مدینہ جیسے جاگ جاتا ہے۔

مدینہ کی گلیاں، راستے، چھتیں اور کھجوروں کے باغات ایک ہی صدا سے گونج اٹھے۔ بنو نجار کی وہ کم سن بچیاں، جو آپ ﷺ کے نانا کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، خوشی میں نغمہ پڑھتی ہوئی نکل آئیں:

ہم بنی نجار کی بچیاں ہیں

محمد ﷺ کتنے پیارے ہمسائے ہیں!

گویا قبا اور پورا مدینہ اس مبارک آمد سے جگمگا اٹھا۔ ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

گویا آج بھی مدینہ کے مسافر اس خوشی کی لہر کو محسوس کر سکتے ہیں۔

شاید ہر مسافر کو ہر بار سفرِ مدینہ میں یہ جملہ چونکا دیتا ہوگا کہ ’’دیکھو، مدینہ منورہ قریب آگیا ہے۔‘‘ دور سے مسجد کے مینار کی روشنی محسوس ہو رہی تھی۔ جسم پر لرزہ سا طاری ہونے لگا۔

بے اختیار درودِ شریف زبان پر آگیا۔ اچانک ہی طبیعت میں بشاشت کے ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہوگئی اور بے ادبی یا کوئی گستاخی نہ ہو جائے، کے احساس نے گنگ سا کردیا۔

مدینہ منورہ میں گاڑی داخل ہو چکی تھی۔ جہاں ٹھہرنے کا انتظام تھا، وہاں سامان رکھ کر اور وضو کرکے مسجدِ نبوی ﷺ روانہ ہونا تھا۔

گاڑی سے اترتے ہی مجھے محسوس ہوا کہ میرے پاؤں سوجے ہوئے ہیں۔ جوتا پاؤں کو قبول ہی نہیں کر رہا تھا۔

میاں نے اس صورتِ حال کو دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا:

’’اب سمجھ میں بات آئی کہ پاؤں بھاری ہونا اسے کہتے ہیں۔‘‘

’’شاید لٹکائے رکھنے سے ایسا ہوگیا ہے۔ تھوڑا چلو گی تو ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘

میں نے چپل میں پاؤں اٹکائے اور چلنے کی کوشش کی، مگر آنکھوں میں بغیر کوشش کے آنسو آگئے۔

’’سات مہینے سے تو پاؤں محاورۃً بھاری ہے، اسے ابھی اس طرح ہونا تھا۔‘‘ میں نے دل میں سوچا۔

میرا دل پھٹنے کو تھا۔ آہستہ آہستہ چلتے اپنے کمرے تک پہنچے۔

’’سحری کا وقت قریب ہے۔ میں کھانا لاتا ہوں، تھوڑا آرام کرکے مسجد چلی جانا۔‘‘

میاں کھانا لینے چلے گئے اور میں نے روتے ہوئے اپنے پاؤں سہلانا شروع کردیے۔

’’اللہ سوہنیا! مسجدِ نبوی کیسے جاؤں گی؟‘‘

مجھے نہیں معلوم کب مجھ پر نیند غالب آگئی اور میاں کتنی دیر بعد واپس آئے۔ لیکن اس چھوٹی سی نیند نے مجھے تازہ دم کردیا اور پاؤں بھی تقریباً معمول پر آگئے تھے۔ ہم مسجدِ نبوی کی طرف درودِ شریف پڑھتے روانہ ہوئے۔

ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی، جس میں تازگی تھی۔ ہر گلی سے لوگ مسجد کی طرف جا رہے تھے۔

یہ ایک پُرسکون فضا میں دلکش منظر تھا، ایک سکینت بھرا روحانی احساس، ہر قدم منزلِ مراد کے قریب کرتا ہوا۔

ان دنوں مسجدِ نبوی ﷺ میں برآمدے اور دو صحن تھے۔ دو صحنوں کے درمیان بھی ایک برآمدہ تھا۔

مجھے خواتین کے دروازے پر میاں نے چھوڑا اور میں سہمی سہمی سی اندر داخل ہوئی۔ ابھی نمازی آرہے تھے اور کافی جگہ خالی تھی۔

چلتے چلتے میں اس مقام تک پہنچ گئی جسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی جائے نماز کہا جاتا ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا یہاں تہجد ادا کرتی تھیں۔

میں نے تحیۃ المسجد کے دو نفل اور شکرانے کے نفل ادا کیے اور پھر کھڑے ہوکر درود و سلام پیش کیا، کیونکہ مسنون طریقہ یہی ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے ہی دو نفل ادا کیے جائیں، پھر سلام پیش کیا جائے۔

مسجدِ نبوی ﷺ کے میناروں سے اذان شروع ہوئی۔ ان دنوں چار مینار ہوتے تھے اور ہر مینار پر الگ مؤذن ہوتا تھا۔ ایک مؤذن اذان کے پہلے کلمات ادا کرتا، پھر دوسرے مینار والا، پھر تیسرا اور چوتھا۔ یوں اذان دس منٹ میں مکمل ہوتی۔ کچھ ہی عرصہ بعد یہ سلسلہ موقوف ہوگیا تھا۔

مسجدِ نبوی ﷺ جیسا محترم مقام، رمضان المبارک جیسا مہینہ اور جمعے کا مبارک دن، اس کے ساتھ وقتِ سحر؛ واقعی سماں ’’نورٌ علیٰ نور‘‘ تھا۔

اپنی دیرینہ آرزو کی تکمیل اور قبولیتِ دعا پر شکر کے آنسو تھمتے نہ تھے۔

نمازیوں سے مسجد بھر چکی تھی۔

نماز کے بعد مواجۂ شریف اور ریاض الجنۃ کی زیارت کو جانا تھا۔ ان دنوں مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ حصوں کی کوئی پابندی نہ تھی، صرف نماز کے وقت صفوں کی ترتیب الگ ہوتی تھی۔

درمیانی برآمدے میں نماز کے بعد میاں بیوی، بچے یا زیارت کے لیے آئے خواتین و حضرات مل بیٹھتے اور یہاں سے گنبدِ خضریٰ کا نظارہ کرتے تھے۔ یہ جگہ زائرین کے لیے مقامِ ملاقات جیسے خود ہی طے ہوگئی تھی۔

نماز کے بعد مجھے بھی اسی جگہ آجانے کی میاں نے تلقین کی تھی۔

مواجۂ شریف، ریاض الجنۃ اور صفہ کے چبوترے پر جانے کے لیے خواتین کو صرف نماز کے اوقات میں جانا منع تھا، باقی اوقات میں طواف کی طرح ہر مقام سب کے لیے برابر کھلا رہتا تھا۔

آج جمعہ اور رمضان المبارک کی وجہ سے معمول سے زیادہ زائرین موجود تھے۔

ہم نے اشراق کی نماز کے بعد مواجۂ شریف جانا تھا، کیونکہ عبدالعزیز شرقی صاحب کی رہنمائی میں زیارت کرنا تھی۔

عبدالعزیز شرقی صاحب ملتان سے آئے ہوئے ایک بزرگ تھے، جن سے ہمارے بزرگوں کے اچھے تعلقات تھے اور میرے میاں صاحب سے بہت شفقت رکھتے تھے۔ اب مدینہ منورہ میں زائرین کو مسجد اور مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات کی زیارتیں کرواتے تھے۔ عربی زبان مقامی لہجے میں بولتے اور عربی لباس میں عرب ہی لگتے تھے۔

درمیانی برآمدے میں صبح کی سفیدی آہستہ آہستہ پھیل رہی تھی۔ گنبدِ خضریٰ کو حقیقت میں سامنے دیکھ کر درودِ شریف پڑھنے کا لطف کچھ الگ ہی محسوس ہو رہا تھا۔

اشراق کے نوافل ہم نے صفہ پر ادا کیے۔ وہیں بیٹھ کر ہم نے سورۃ الکہف کی تلاوت کی اور پھر باب السلام کی طرف قدم بڑھائے۔

شرقی صاحب نے وہیں ملنا تھا۔ لوگ ایک جگہ جمع ہو رہے تھے۔

شرقی صاحب تشریف لائے تو ان کی سربراہی میں سب نے مواجۂ شریف کی طرف قدم بڑھائے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ ایک سہانا خواب ہے۔

ریاض الجنۃ سے گزر کر اس مقامِ عالی تک پہنچے جہاں ہر مسلمان کا دل عقیدت کی انتہا پر ہوتا ہے۔ شرقی صاحب نے درود و سلام، اصحابِ رسول ﷺ کو سلام کرنے کا طریقہ بتایا، دعائیں دہرائیں اور ساتھ ساتھ مسجد کا تعارف بھی دیا۔

مسجدِ نبوی ﷺ کے بابرکت ستونوں کے نام اور وجۂ تسمیہ بتائی اور بتایا کہ ریاض الجنۃ اور اس کے آس پاس والے ستون سب سے زیادہ فضیلت والے ہیں۔ صحابہ کرام انہی ستونوں کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔

اسطوانہ قرعہ: اس ستون کے لیے قرعہ ڈال کر صحابہ نماز کے لیے جگہ لیتے تھے۔

اسطوانہ ابو لبابہ/توبہ: حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بنی قریظہ کے بعد چھ دن یہاں توبہ میں گزارے، پھر اللہ نے معافی کی خوشخبری دی۔

اسطوانہ سریر: نبی ﷺ کا اعتکاف کے لیے بستر یہاں بچھتا تھا۔

اسطوانہ محرس: پہرے دار صحابہ یہاں کھڑے ہوکر نبی ﷺ کی حفاظت کرتے تھے۔

اسطوانہ وفود: مختلف قبائل کے وفود نبی ﷺ سے ملنے یہاں بیٹھتے تھے۔

اسطوانہ جبریل: کہا جاتا ہے کہ یہاں جبریل علیہ السلام وحی لے کر اترتے تھے۔

اسطوانہ حرس: یہاں پہرے دار تلواریں رکھتے تھے۔

ریاض الجنۃ، حجرۂ مبارک عائشہ رضی اللہ عنہا، حجرۂ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا، منبرِ رسول ﷺ، محرابِ رسول ﷺ، بابِ جبریل، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حجرۂ مبارک اور امہات المؤمنین کے حجرات؛ شرقی صاحب کی آواز کے ساتھ ساتھ سیرتِ النبی ﷺ پر پڑھی ہوئی تفصیلات زندہ زمانے کی طرح اجاگر ہورہی تھیں۔

اس زمانے میں جالیوں سے اندر جھانکنے کی ممانعت نہ تھی اور نہ وقت کی پابندی تھی۔

یہ وہ مقام تھا جس سے ہر مسلمان، مرد و عورت، بوڑھا، بچہ، اپنے دل کی کیفیت ناقابلِ بیان عقیدت، محبت اور خوشی سے معمور پاتا ہے۔

جالی کے دروازے پر نامِ مبارک لکھے تھے اور بڑے سوراخ بھی تھوڑے فاصلے پر نمایاں تھے۔ اسی ترتیب سے سلام پیش کیا: امام الانبیاء ﷺ، یارِ غار ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور وہ خوش قسمت ہستی عمر رضی اللہ عنہ، جس کے لیے نبی اکرم ﷺ نے اپنے رب سے خصوصی طور پر دعا کی۔

اس مقام پر قدم ہمیشہ ہی جم جاتے ہیں، نگاہیں جھک جاتی ہیں، آواز پست ہوجاتی ہے۔ بس دل کی اپنی زبان ہوتی ہے اور آنسو اس زبان کے ترجمان ہوجاتے ہیں۔

السلام علیک یا رسول اللہ، یا حبیب اللہ۔

السلام علیک یا نبی اللہ، أنت حبیبی وطبیب قلبی۔

یہ کہتے ہی مجھے اپنے بچپن کی وہ کیفیت یاد آگئی اور اس پہلی حاضری کے بعد جب بھی مسجدِ نبوی آنے کی سعادت ملی، تو اکثر ہی یاد آجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے التجا کرتی ہوں:

’’یا اللہ! اس پہلی محبت کو قبول فرما لے۔‘‘

بہت کم عمری کے زمانے کی بات ہے۔ جس دن میں نے نبی کریم ﷺکے آخری وقت کی بیماری، سر درد اور تکلیف کا حال پڑھا، مجھ پر اس قدر گریہ طاری ہوا جیسے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ اور محسوس کر رہی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے رخصت ہونے کی خبر میرے لیے اس قدر صدمے کا باعث بنی تھی، گویا میں اس وقت موجود تھی۔ مجھے محسوس ہوا غم سے میرا دل پھٹ جائے گا اور جب بھی مجھے وہ وقت یاد آتا، میں چھپ چھپ کر رویا کرتی کہ کسی نے پوچھ لیا تو رونے کی کیا وجہ بتاؤں گی۔

بچپن سے ہی کسی کے سامنے رونا آتا بھی تو میں نہ جانے کیوں اور کیسے ضبط کرلیتی تھی۔ شاید میری صابرہ نانی اور ماں کی تربیت اور دعاؤں کا اثر تھا۔

اور آج مجھے رسول اللہ ﷺ کے حجرۂ مبارک کے سامنے کھڑے ہوکر رونا تھا، بہت رونا تھا، لیکن مردوں کے درمیان کھڑے ہوکر میں نے اپنے اوپر جبر کرلیا کہ آواز نہ نکلے، اور دل سے اٹھتی برسات آنکھوں سے بہتی رہی۔

ان دنوں دو نمازوں کے دوران مرد و خواتین جس مبارک مقام پر چاہیں بیٹھیں، تلاوت کریں، نفل ادا کریں، ذکر کریں۔ الحمدللہ، اس ربِ کریم نے وہ سہانا وقت نصیب فرمایا تھا۔

شرقی صاحب نے تقریباً دو گھنٹے میں مسجدِ نبوی ﷺ کی زیارت کروائی، معلومات اور محبت کے جذبے کے ساتھ۔ وہ کبھی اپنا نعتیہ کلام بھی پیش کرتے۔ یہ ان کی مسجدِ نبوی ﷺ اور اپنے آقا ﷺ سے محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

انہوں نے مدینہ منورہ سے باہر جانا ایک دن کے لیے بھی گوارا نہ کیا کہ جانے کب بلاوا جائے اور مجھے تو دیارِ حبیب کی اسی مٹی میں دفن ہونا ہے، جنت البقیع میں دفن ہونے کا شرف پانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مراد پوری فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، آمین۔

جب شرقی صاحب دوسرے گروپ کی طرف متوجہ ہوئے تو میں نے دوبارہ سارا عمل دہرایا، اپنی کوکھ میں موجود ننھے وجود کے ساتھ۔ اس کے ساتھ سلام پیش کرنا، محبت سے رونا، اس آنے والے مہمان کے لیے دعائیں کرنا، والدین، بہن بھائیوں، اساتذۂ کرام، سب رشتہ داروں کی طرف سے سلام پیش کرنا۔

یہ وہ لمحات تھے جو میرے ذاتی تھے، اس مقدس مقام پر دل کی گہرائیوں سے تشکر کے احساسات کے ساتھ۔ شاید یہ لمحات زندگی کے انمول نگینے تھے، جن سے میری زندگی میں جگمگاہٹ قائم ہے۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مبارک قیام گاہ کے سامنے کھڑے ہوکر ’’مادراں را اسوۂ کامل بتول‘‘ کے تحت اچھی ماں بننے کی دعا کی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی معیت میں رہنے کی دعا کی۔

اے اللہ! اگر مجھے بیٹی کی شکل میں رحمت سے نوازنا ہے تو وہ فاطمہ جیسی ہو، اگر بیٹا ہو تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹوں جیسا ہو۔

یا رب! مجھے ان سب صالحین کا قرب عطا فرمانا، آمین۔

آنکھیں برکھا برسا رہی تھیں۔

دل چاہا کہ وقت تھم جائے، شاید یہی وقتِ قبولیت ہے۔

یہی سوچتے میں اس متعین جگہ پر آگئی جہاں میاں نے آنے کو کہا تھا۔

مسجدِ نبوی ﷺ میں دھوپ پھیل چکی تھی اور اس کی حدت میں تیزی آرہی تھی۔ درمیان والے برآمدے میں دھوپ تیز ہوگئی تھی۔ میں وہاں سے اٹھ کر دیوار کے ساتھ بیٹھ گئی۔

جمعہ کی نماز کے لیے دو اذانیں ہوتی ہیں۔

نماز کے بعد میں دوبارہ درمیانی برآمدے میں آگئی، کیونکہ یہی سب کا مقامِ ملاقات ہوتا تھا۔

میں نے میاں کو اپنی طرف آتے دیکھا اور ہم الوداعی سلام پیش کرکے باب النساء سے باہر آگئے۔

اف! یہ الوداعی سلام!

مسجدِ نبوی ﷺ میں داخل ہوکر سلام پیش کرنے اور مسجد سے باہر نکلتے ہوئے الوداعی سلام پیش کرنے میں کتنا جذباتی فرق ہوتا تھا۔ یہ ہمیشہ رہا، آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

الوداع! یا حبیبی، یا رسول اللہ!

یہ کہنا زندگی کا سب سے مشکل الوداعی جملہ رہا ہے اور رہے گا۔

’’زیارتوں کے لیے ان شاءاللہ کل چلیں گے،‘‘ میاں نے اطلاع دی۔

’’جی، ان شاءاللہ۔‘‘

شام کو عصر کے بعد، افطاری سے کچھ پہلے ہم مسجدِ نبوی ﷺ آگئے۔ ساتھ افطاری کے لیے کھجور، سمولی اور قشطہ (کریم) کا پیکٹ تھا۔ ان دنوں حرمِ نبوی میں کھانے پینے اور آرام کرنے پر پابندی نہ تھی۔

مدینہ کے باسی انصارِ مدینہ کی مثال بنے زائرین میں کھانے پینے کی اشیاء اصرار سے تقسیم کرتے۔

افطاری کے وقت سب مل کر روزہ افطار کرتے۔ بہت سادہ ماحول ہوتا، نہ میزبانوں میں تکلف، نہ مہمانوں میں۔ افطاری اور نماز کے بعد اکثر زائرین مسجد میں ہی رہتے یا گھر چلے جاتے۔ رہائش گاہیں مسجد سے بہت دور نہیں ہوتی تھیں، اس لیے مغرب کے بعد عشاء کی نماز کے لیے دوبارہ آجاتے تھے۔

نماز کے وقت دکانیں کھلی چھوڑ کر سب دکاندار مسجدِ نبوی ﷺ پہنچ جاتے تھے۔ سادہ اور آسودہ مدینہ منورہ، جیسے چودہ سو سال پہلے والے مدینہ سے کوئی کڑی ملی ہوئی ہو۔

تراویح کے لیے ہم اپنے ٹھکانے سے نکلے۔ اردگرد کے سب لوگ کسی غیر مرئی کشش سے مسجد کی طرف کھنچے جارہے تھے۔

باب النساء کے پاس ہی میں اندر جاکر بیٹھ گئی۔ اذان کی آواز سے پوری مسجد میں سحر طاری ہوگیا۔ اذان کے کلمات کے جواب میں نمازیوں کے دہراتے کلمات اور پنکھوں کی آواز یوں محسوس ہورہی تھی جیسے فرشتوں کے پروں کی سرسراہٹ ہو۔

مکہ مکرمہ کی تراویح میں بیت اللہ کی ہیبت مسلمان پر خشیت اور ہیبت طاری کرتی ہے، مدینہ منورہ میں امام صاحب کی آواز میں ایسی کیفیت تھی جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت نصیب ہو۔

رب العالمین نے ہم پر احسان کیا کہ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انسان ہی منتخب کیے۔ عقیدت و محبت کے ساتھ ساتھ اپنائیت کا رنگ انسان کو جلدی قرب کی منزلیں طے کروا دیتا ہے۔

مسجدِ نبوی ﷺ کی نمازِ تراویح میں سیرت کے صفحات اجاگر ہوتے ہیں۔ صحابہ کرام کی معاشرت دائیں بائیں محسوس ہونے لگتی ہے۔ جیتا جاگتا قرآنی معاشرہ تصور میں آجاتا ہے۔

نمازِ تراویح ادا کرکے تھوڑا انتظار کیا اور ریاض الجنۃ میں جاکر الوداعی سلام پیش کیا اور گھر آگئے۔

1977ء میں مسجدِ نبوی ﷺ کے امام کے نام سے واقفیت نہ تھی، لیکن جلد ہی امام علی عبدالرحمن الحذیفی کی آواز سے مانوس ہوگئے۔ پھر وہ آواز میرے شب و روز کے دکھ سکھ کی ساتھی رہی۔ ان کی تلاوت سننا میری زندگی کا لازمی حصہ رہا اور آج بھی ہے۔

پہلے پہل امام الحذیفی کی قرآن کی کیسٹیں خریدیں، پھر سی ڈیز، اور اب موبائل پر حرمین کے تمام ائمہ موجود ہیں۔ سبحان اللہ!

1978ء کے بعد توسیعِ حرمین کا عمل شروع ہوا اور بارہ سال میں، اوسطاً سال میں آٹھ سے دس مرتبہ، زیارتِ مسجدِ نبوی ﷺ کی سعادت ملتی رہی۔ ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ وسعت اور جدت نظر آتی، یہاں تک کہ مسجدِ نبوی ﷺ کو پورے مدینہ النبی پر محیط کردیا گیا۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں