آپریشن فجر الیمن

یمن میں ’فجر الیمن‘ آپریشن شروع، باب المندب قبضے کا دعویٰ

·

یمن میں حوثیوں کے خلاف جنگ ایک نئے اور بڑے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے ’فجر الیمن‘ کے نام سے وسیع فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے بھی یمنی حکومتی فورسز کی کارروائیوں کو فضائی مدد فراہم کرنے کی تصدیق کی ہے۔

یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد محمد العلیمی نے اعلان کیا ہے کہ ’فجر الیمن‘ آپریشن کا مقصد ریاستی اداروں کی عمل داری بحال کرنا، حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو دوبارہ حکومتی کنٹرول میں لانا اور دارالحکومت صنعا کو حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرانا ہے۔ یمنی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق العلیمی نے کہا کہ ملک کو ایک نئی صبح، امن اور استحکام کی طرف لے جانے کے لیے فوجی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

یمنی حکومتی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی انتہائی اہم آبی گزرگاہ باب المندب کے علاقے اور تعز کے مغرب میں واقع ذو باب ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق حکومتی فورسز نے ذو باب اور المخا کے درمیان رابطہ سڑک بھی اپنے کنٹرول میں لے لی ہے، جس سے حوثیوں کی رسد اور نقل و حرکت متاثر ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

یمنی حکومت کے حامی ذرائع کے مطابق نیشنل شیلڈ فورسز اور جائنٹس بریگیڈز سمیت دیگر حکومتی فورسز نے فضائی مدد کے ساتھ باب المندب کے اطراف میں اہم فوجی پوزیشنیں بھی حاصل کی ہیں۔ تاہم ان دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم یمن سپورٹ فار لیجیٹمیسی کولیشن کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ ’فجر الیمن‘ آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔

سعودی اتحاد کے ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران 324 اہم اہداف کو تباہ کیا گیا، جبکہ باب المندب آبنائے کو فضائی تحفظ بھی فراہم کیا جا رہا ہے اور متحرک حوثی اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

یمنی حکومتی فورسز کے ترجمان نے اس سے بھی زیادہ بڑے پیمانے کی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کے خلاف مختلف علاقوں میں 1,122 حملے کیے گئے۔

ان کے مطابق کارروائیوں میں توپ خانے کی پوزیشنز، راکٹ لانچنگ پلیٹ فارمز اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ یمنی حکومتی فورسز نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں تقریباً 1,747 حوثی جنگجو ہلاک ہوئے، تاہم اس جانی نقصان کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فضائی حملوں میں صنعا کے نواحی علاقے بنی حشیش میں ایک طالبہ ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوئے۔

المسیرہ کے مطابق سعودی طیاروں نے صعدہ کے مختلف علاقوں، جن میں شہر صعدہ کے جنوبی علاقے، سحار، الصفرا، کتاف اور البقع شامل ہیں، کو بھی نشانہ بنایا۔

حوثی ذرائع نے تعز کی فضائی حدود میں سعودی ساختہ ونگ لونگ ٹو ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

ان دعووں کی بھی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

یمن میں فوجی کارروائی کے ساتھ ہی حوثیوں نے سعودی عرب کے اندر بھی جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق گروپ نے ریاض اور سعودی عرب کے مشرقی علاقے خریص میں سعودی آرامکو کے مقامات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں دونوں مقامات پر بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور یہ حملے سعودی قیادت والے اتحاد کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

سعودی عرب کی جانب سے ماضی میں حوثیوں کے میزائل حملوں کو روکنے کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے سعودی حکام نے کہا تھا کہ طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے چھ بیلسٹک میزائل تباہ کردیے گئے، جبکہ آرامکو کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

یمنی حکومتی فورسز کا کہنا ہے کہ ’فجر الیمن‘ صرف ساحلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے دارالحکومت صنعا تک پہنچنا ہے۔

یمنی فوج کے مطابق جدید عسکری صلاحیتوں، فضائی مدد اور زمینی فورسز کے مربوط استعمال کے ذریعے حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی جاری ہے۔

یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ آپریشن کا آخری مقصد پورے ملک میں ریاستی اداروں اور حکومتی اختیار کی بحالی ہے۔

یمن میں اس بڑے فوجی آپریشن کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام ریاض میں اہم اجلاس کر رہے ہیں۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ترکیہ کی جانب سے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بیرقدار اوغلو کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں سعودی حکام بھی شریک ہیں۔

اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال، حوثیوں کے حملوں اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست 2026 میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ قائم کیا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون، اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ فریم ورک تشکیل دیا ہے۔

31 اگست کو استنبول میں ہونے والے پہلے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں تینوں ممالک نے علاقائی امن، استحکام، کشیدگی میں کمی اور بحرانوں کے پرامن حل کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

اس وقت یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کی نئی کارروائی اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے باعث یہ معاہدہ ایک اہم علاقائی آزمائش سے گزر رہا ہے۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ ایران نے حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے اور ثالثی کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

پاکستان نے اس تجویز کو ایک ممکنہ سیاسی راستے کے طور پر سامنے رکھا ہے، جس پر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والے اجلاس میں بھی غور کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ایران کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے کی تجویز کو فوجی کارروائی کے متبادل کے طور پر زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے اجلاس میں پاکستان کی شرکت خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

اسلام آباد پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی بحرانوں کے پرامن حل کی کوشش بھی جاری رکھیں گے۔

’فجر الیمن‘ آپریشن یمن کی طویل جنگ میں ایک اہم نئی پیش رفت ہے۔ خاص طور پر باب المندب پر کنٹرول کی جنگ اس تنازع کو محض یمنی داخلی کشمکش سے آگے بڑھا کر علاقائی اور عالمی سلامتی کا معاملہ بنا دیتی ہے۔

باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم بحری راستہ ہے۔ اس علاقے میں لڑائی بڑھنے سے عالمی تجارت، سمندری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

ایک طرف یمنی حکومت حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کا دعویٰ کر رہی ہے، دوسری جانب حوثی سعودی عرب کے اندر میزائل اور ڈرون حملوں کی بات کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی مشاورت علاقائی صورتحال کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

فی الحال ’فجر الیمن‘ آپریشن کے نتیجے میں زمینی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، تاہم مختلف فریقوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے جانی نقصان، اہداف کی تباہی اور علاقائی کنٹرول سے متعلق متعدد دعووں کی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں