کینسر کی نو عمر مریضہ

کم عمر افراد میں کینسر کیوں بڑھ رہا ہے؟ نئی تحقیق میں اہم وجوہات سامنے آگئیں

·

برطانیہ، امریکہ اور ہالینڈ کے کینسر کے اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ 50 سال سے کم عمر افراد میں بعض اقسام کے کینسر کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین نے اس رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے طرزِ زندگی، موٹاپے، ناقص خوراک، ورزش کی کمی، شراب نوشی، تمباکو نوشی اور ماحولیاتی عوامل کو ممکنہ وجوہات میں شامل کیا ہے۔

ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ (WCRF) کی جانب سے انگلینڈ، امریکہ اور ہالینڈ کے اعداد و شمار کے جائزے میں انگلینڈ میں سات، امریکہ میں پانچ اور ہالینڈ میں چار اقسام کے کینسر میں کم عمری میں تشخیص کے کیسز میں نمایاں اضافہ سامنے آیا۔

اگرچہ کینسر اب بھی بڑی عمر کے افراد میں کہیں زیادہ عام ہے اور 50 سال سے کم عمر افراد میں اس کی مجموعی شرح نسبتاً کم ہے، تاہم محققین کا کہنا ہے کہ نوجوان نسلوں میں بعض اقسام کے کینسر کے بڑھتے رجحان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انگلینڈ میں 50 سال سے کم عمر مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کی شرح 2001 میں ہر ایک لاکھ افراد میں تقریباً ایک کیس تھی، جو 2023 میں بڑھ کر 3.6 کیسز فی ایک لاکھ ہو گئی۔

اسی عرصے کے دوران 50 سال سے کم عمر افراد میں آنتوں کے کینسر کی شرح 3.9 سے بڑھ کر 8.4 کیسز فی ایک لاکھ ہو گئی۔

بچہ دانی اور گردے کے کینسر کی کم عمری میں تشخیص کی شرح بھی دوگنی سے زیادہ ہوئی۔ چھاتی کے کینسر کی شرح نسبتاً کم رفتار سے بڑھی اور 2001 میں 42 کیسز فی ایک لاکھ سے بڑھ کر 2023 میں 47.5 کیسز فی ایک لاکھ ہو گئی۔

اس کے علاوہ کم عمر افراد میں لبلبے اور جگر کے کینسر کی تشخیص میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

امریکہ کے 2000 کے بعد کے سرکاری اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ 50 سال سے کم عمر افراد میں گردے کے کینسر کی شرح 2000 میں 2.5 کیسز فی ایک لاکھ سے بڑھ کر 2023 میں 5.3 کیسز فی ایک لاکھ ہو گئی۔

اسی طرح آنتوں، بچہ دانی اور لبلبے کے کینسر کی شرح میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ چھاتی کے کینسر میں تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

ہالینڈ میں بھی کم عمر افراد میں آنتوں، گردے، جگر اور بچہ دانی کے منہ یعنی سروائیکل کینسر کے کیسز میں نمایاں اضافہ سامنے آیا۔

تحقیق میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ تینوں ممالک میں 50 سال سے کم عمر افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کی شرح میں کمی ہوئی۔

ماہرین کے مطابق یہ کمی ان ممالک میں سگریٹ نوشی کی شرح میں مسلسل کمی سے منسلک ہو سکتی ہے، جو اس بات کی ایک مثال ہے کہ قابلِ تبدیلی طرزِ زندگی کے عوامل کینسر کے خطرے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ کے مطابق کم عمر افراد میں کینسر کے بڑھتے کیسز کی ایک ہی وجہ نہیں بتائی جا سکتی۔ تاہم ماہرین نے متعدد ممکنہ خطرے کے عوامل کی نشاندہی کی ہے۔

ان میں موٹاپا اور زائد وزن، غیر متوازن اور ناقص خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی، شراب نوشی، سگریٹ نوشی، فضائی اور پانی کی آلودگی، بعض کیمیکلز اور ماحولیاتی عوامل شامل ہیں۔

WCRF کے مطابق تقریباً 40 فیصد کینسر ایسے خطرے کے عوامل سے منسلک ہیں جنہیں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

تاہم ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کم عمر افراد میں کینسر کی تشخیص میں اضافے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ بیماری کی اصل شرح اسی تناسب سے بڑھی ہے۔ کینسر کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی، بہتر تشخیصی سہولیات اور بیماری کی علامات سامنے آنے پر جلد طبی معائنہ بھی زیادہ کیسز کی تشخیص کا سبب بن سکتے ہیں۔

کوئنز یونیورسٹی بیلفاسٹ کے ڈیجیٹل ہیلتھ کے پروفیسر اور ٹرانسلیشنل کینسر جینومکس کے چیئر مارک لولر نے کم عمر افراد میں کینسر کے بڑھتے رجحان کو ’ٹک ٹک کرتا ٹائم بم‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس کے اسباب کو سمجھنے اور روکنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

WCRF میں تحقیق و پالیسی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر گیوٹا مِترو نے کہا کہ ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے جسے اس عمر میں کینسر کا سامنا کرنا پڑا جب وہ، اس کا خاندان اور بعض اوقات اس کا ڈاکٹر بھی اس بیماری کی توقع نہیں کر رہے ہوتے۔

ان کے مطابق اگرچہ کینسر اب بھی بڑی عمر کے افراد میں زیادہ عام ہے، لیکن نوجوان نسلوں میں تبدیل ہوتے رجحانات کو کینسر سے بچاؤ اور تحقیق کی اہم ترجیح بنانا ضروری ہے۔

کنگز کالج لندن نے کینسر ریسرچ یوکے کی مالی معاونت سے تقریباً ڈھائی لاکھ افراد پر مشتمل ایک نئی تحقیق کا اعلان بھی کیا ہے۔

اس تحقیق کا مقصد کم عمر بالغ افراد میں آنتوں کے کینسر کے بڑھتے کیسز کی وجوہات کو سمجھنا اور یہ جانچنا ہے کہ اس اضافے میں طرزِ زندگی سے متعلق خطرے کے عوامل اور بہتر تشخیص میں سے کس کا کتنا کردار ہے۔

محققین کے مطابق کم عمر افراد میں کینسر کے بڑھتے رجحان کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے کیونکہ موجودہ شواہد اس کی تمام وجوہات کی مکمل وضاحت نہیں کرتے۔

ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی اپنانا کینسر سمیت متعدد بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، صحت مند وزن برقرار رکھنا اور تمباکو نوشی سے گریز اہم حفاظتی اقدامات میں شامل ہیں۔

ساتھ ہی کسی بھی غیر معمولی یا مسلسل علامت کو نظر انداز نہ کرنا اور ضرورت پڑنے پر بروقت طبی معائنہ کرانا بھی اہم ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ کم عمر افراد میں کینسر کی بڑھتی شرح ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں بیماری کے حقیقی پھیلاؤ، خطرے کے عوامل، ماحولیاتی اثرات اور بہتر تشخیص، سب اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس لیے صرف ایک وجہ کو ذمہ دار قرار دینے کے بجائے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں