وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں

وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا سب سے بڑا سیاسی داؤ: فتح یا خیرآباد کے مقام پر تنہائی کا سامنا ہوگا؟

·

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے مقید قائد عمران خان کی رہائی کے لیے لکی مروت سے مارچ کا آغاز کیا ہے جو پشاور اور صوابی سے ہوتا ہوا دریائے سندھ کے کنارے واقع خیرآباد (اٹک) کی طرف گامزن ہے۔

موٹروے ایم-1 کے بجائے جی ٹی روڈ کا طویل اور پیچیدہ راستہ اختیار کرنے کی یہ حکمتِ عملی جہاں تصادم سے بچنے اور وقت حاصل کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے، وہیں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے سیاسی کیریئر کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔

پشاور سے مشرق کی جانب تقریباً 2 گھنٹے کی مسافت پر، دریائے سندھ کے کنارے اٹک کا تاریخی علاقہ واقع ہے۔ پنجاب کی سرحد پر سولہویں صدی کا عظیم الشان قلعہ اٹک، خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے علاقے خیرآباد کی نشیبی زمینوں سے نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پی ٹی آئی اپنے مقید قائد عمران خان کی رہائی یا کم از کم انہیں کچھ ریلیف دلانے کی نئی تحریک کو مرکوز کرنا چاہتی ہے۔

انگریزی روزنامہ ڈان کے رپورٹر اسماعیل خان کے مطابق دونوں صوبوں کو قومی شاہراہ (جی ٹی روڈ) کے ذریعے ملانے والا خیرآباد کا 701 میٹر لمبا نیا پل، اپنے 119 سالہ پرانے اور اب غیر فعال 2 منزلہ لوہے کے برج کے بالکل قریب واقع ہے۔ پی ٹی آئی اپنے اس احتجاجی مارچ کو اسی مقام پر جمع کرنا چاہتی ہے، جو 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوا تھا۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سے صورتِ حال کے مزید دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔

مارچ کے طے شدہ راستے پر غور کریں تو شرکا منگل کی رات تک پشاور کے جنوبی علاقے متنی پہنچیں گے اور رات قیام کے بعد رنگ روڈ کے ذریعے اپنا سفر دوبارہ شروع کریں گے۔ وہاں سے ایم-1 موٹروے کے ذریعے صوابی (پنجاب سے متصل آخری ضلع) پہنچنے کا منصوبہ ہے۔

منصوبہ بندی کے مطابق، مظاہرین صوابی انٹرچینج سے نکل کر صوابی جہانگیرہ روڈ کے ذریعے خیرآباد کی طرف بڑھیں گے۔

تاہم، ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ منتظمین نے موٹروے کے ذریعے سیدھا پنجاب میں داخل ہونے کے بجائے جی ٹی روڈ کا یہ لمبا اور چکر دار راستہ کیوں منتخب کیا؟

اس فیصلے کے پیچھے کیا اسٹریٹجک وجہ ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، لیکن پارٹی کے اہم رہنماؤں کے پاس بھی اس کا کوئی حتمی جواب نہیں ہے الّا یہ کہ وہ اپنے پتے چھپا کر رکھنا چاہتے ہوں۔

اسلام آباد کی اہم شخصیات کے مطابق، اگر پی ٹی آئی مارچ نے زبردستی اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی تو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ متعلقہ افراد کو طاقت کے ذریعے دارالحکومت میں داخلے کے سنگین نتائج سے واضح طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

کیا یہی خوف اور اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اس بات کی وجہ ہے کہ موٹروے کے بجائے جی ٹی روڈ کا راستہ چنا گیا؟

پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ کنٹینرز کی دیواریں توڑنے کے لیے کسی تشدد یا مزاحمت کا راستہ نہیں اپنائیں گے۔ ایک رکنِ اسمبلی کے مطابق، ’ہم مکمل طور پر پرامن رہیں گے‘۔ یہی وجہ ہے کہ نوشہرہ کینٹ کے علاقے سے براہِ راست تصادم سے بچنے کے لیے صوابی انٹرچینج سے جی ٹی روڈ کا لمبا بائی پاس راستہ منتخب کیا گیا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مارچ کا حتمی انجام کیا ہوگا؟ کیا مظاہرین خیرآباد پل پر لگے کنٹینرز کو عبور کر کے دوسری جانب موجود اینٹی رائٹ پولیس سے ٹکرائیں گے؟ یا پھر وہ خیرآباد کے میدانوں میں خیمہ زن ہو کر پرامن دھرنا دیں گے؟ اگر وہ دھرنا دیتے ہیں تو یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ جبکہ خیبر پختونخوا کے لیے خوراک اور ایندھن کی زیادہ تر سپلائی اسی جی ٹی روڈ کے ذریعے ہوتی ہے، ایسی صورت میں معاشی نقصان کے ہوتے ہوئے دھرنے کو برقرار رکھنا کتنا ممکن ہوگا؟

ایک سینئر قانون ساز کے مطابق، تحریکِ انصاف میں ‘وار گیمنگ’ (جنگی حکمتِ عملی) کا رجحان نہیں ہے، لیکن قیادت کو اب بھی امید ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کی ناکامی کے باوجود معاملات چیت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے اس طویل راستے کے ذریعے وقت کو طول دیا جا رہا ہے تاکہ حتمی فیصلہ کن دن (D-Day) کو جتنا ہو سکے مؤخر کیا جا سکے۔

ایک کرشماتی قائد کی غیر موجودگی میں، 37 سالہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی واضح طور پر پارٹی کے نئے اہم چہرے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ تاہم، کم سیاسی تجربے اور غیر فعال ‘سیاسی کمیٹی’ کے ہوتے ہوئے، اس سابق طلبہ رہنما نے ایک بہت بڑا سیاسی خطرہ مول لے لیا ہے۔

الیکشن کمیشن میں نااہلی کا کیس (جس پر پشاور ہائیکورٹ نے اسٹے دیا ہوا ہے) یا وفاقی آئینی عدالت میں زیرِ التوا درخواست کے نتیجے میں ان کی وزارتِ اعلیٰ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

خود پارٹی کے اندرونی حلقے مانتے ہیں کہ اس مارچ کی قیادت سنبھال کر سہیل آفریدی نے اپنے کیریئر کا سب سے بڑا داؤ کھیلا ہے۔

اگر وہ وفاقی حکومت کو مطالبات ماننے پر مجبور کر دیتے ہیں تو وہ پارٹی کے مسلمہ لیڈر بن کر ابھریں گے۔ لیکن کامیابی کے کئی دعویدار ہوتے ہیں جبکہ ناکامی اکیلی رہ جاتی ہے۔ اگر یہ مارچ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس کے سخت نتائج ہوں گے اور جب حساب کتاب یا نتائج بھگتنے کا وقت آئے گا، تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی شاید خود کو خیرآباد کے مقام پر اکیلا کھڑا پائیں گے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں