اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ نے ہزاروں فلسطینی خاندانوں کی زندگیاں اجاڑ دی ہیں، تاہم وسطی غزہ کے نصیرات کیمپ سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ نسرین تومان کی داستان مسلسل صدمات اور ناقابلِ بیان المیے کی ایک دردناک مثال بن چکی ہے۔
نسرین نے جنگ کے دوران اپنے پہلے شوہر اور دو کم سن بیٹوں کو کھو دیا، جبکہ دوسری شادی کے صرف آٹھ ماہ بعد ان کے دوسرے شوہر بھی اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔ اب وہ اپنے مرحوم دوسرے شوہر کی نشانی ایک سالہ بیٹی سدرہ کی تنہا پرورش کر رہی ہیں۔
چند لمحوں میں پورا خاندان بکھر گیا
غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے سے قبل نسرین اپنے 35 سالہ شوہر سامی اور دو بچوں، 5 سالہ محمود اور 2 سالہ لیث کے ساتھ نصیرات کیمپ میں ایک پُرسکون زندگی گزار رہی تھیں۔
نسرین کے مطابق وہ اور ان کے شوہر میاں بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے بہترین دوست بھی تھے، لیکن 8 جون 2024 کو چند ہی لمحوں میں ان کی پوری دنیا بدل گئی۔
اس روز نسرین اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ خان یونس کے علاقے المواصی سے واپس گھر پہنچی تھیں۔ بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے کہ اچانک شدید بمباری اور فائرنگ شروع ہوگئی۔
نسرین کے شوہر سامی بچوں کو گھر کے اندر لانے اور وہاں موجود خاندان کے تقریباً 25 افراد کو محفوظ کرنے کے لیے باہر نکلے۔ جب وہ دوبارہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے باہر گئے تو ایک اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرون سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
چند ہی منٹ بعد مکان کو بھی فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
نسرین کے مطابق بمباری کے بعد ہر طرف دھواں، گرد و غبار، چیخ و پکار اور خون بکھرا ہوا تھا۔ انہوں نے ملبے میں اپنے دونوں بچوں کو بے حس و حرکت دیکھا تو انہیں اندازہ ہوگیا کہ ان کے دونوں بیٹے بھی شہید ہوچکے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کے جیٹھ نے دونوں بچوں کو ان کی گود میں ڈال دیا اور وہ دو گھنٹے تک اپنے بچوں کی لاشیں لیے تباہ شدہ مکان میں بیٹھی رہیں، یہاں تک کہ ریڈ کراس کی مدد سے انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
نسرین کے مطابق اس ایک حملے میں ان کی بہن، ساس، دو جیٹھ اور دیگر رشتہ داروں سمیت خاندان کے 18 افراد بھی جاں بحق ہوئے۔
بچوں کی خاطر دوسری شادی
اپنے شوہر اور بچوں کی ہلاکت کے بعد نسرین المواصی میں اپنے والدین کے خیمے میں منتقل ہوگئیں۔
تقریباً ساڑھے چار ماہ بعد ان کے مرحوم شوہر کے بھائی، جو نسرین کی مرحوم بہن کے شوہر بھی تھے، نے ان سے شادی کی پیشکش کی۔ مقصد یہ تھا کہ دونوں اپنی اپنی زندگی کے المیے کے بعد ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور نسرین اپنی بہن کے چار بچوں، خصوصاً ایک سالہ بچے کی دیکھ بھال میں مدد کرسکیں۔
نسرین نے ابتدا میں یہ پیشکش مسترد کردی، تاہم بعد میں اپنی بہن کے بچوں کی خاطر شادی پر رضامند ہوگئیں۔
ان کے مطابق یہ شادی کسی رومانوی تعلق کے بجائے دو غم زدہ انسانوں کا ایک دوسرے کا سہارا بننے کا فیصلہ تھی۔
بعد ازاں اپنی والدہ کے مشورے پر انہوں نے دوبارہ ماں بننے کا فیصلہ کیا۔
آٹھ ماہ بعد دوسرا شوہر بھی شہید
تاہم قسمت نے نسرین کو ایک اور بڑے سانحے سے دوچار کردیا۔
8 جولائی 2025 کو ان کے دوسرے شوہر محمد بچوں کے ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد ایک دوست سے ملنے کے لیے گھر سے نکلے۔ نصیرات میں العودہ اسپتال کے قریب اسرائیلی فضائی حملے میں وہ بھی شہید ہوگئے۔
اس وقت نسرین حاملہ تھیں۔
شوہر کی شہادت کے تقریباً چار ماہ بعد نسرین کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام سدرہ رکھا گیا۔
سدرہ باپ کے بغیر پروان چڑھ رہی ہے
اب سدرہ ایک سال کی ہونے والی ہے اور نسرین اپنی بیٹی کے ساتھ غزہ میں اپنے والدین کے گھر رہتی ہیں۔
بیٹی کی پیدائش نے نسرین کے لیے خوشی کے ساتھ ساتھ پرانے زخم بھی تازہ کردیے ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ سدرہ اپنے والد کی شفقت کے بغیر پروان چڑھے گی۔
نسرین کہتی ہیں کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ان کی زندگی میں اتنے بڑے سانحات آئیں گے۔
ان کے بقول کبھی کبھی انہیں لگتا ہے کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ کسی فلم کی کہانی ہے، لیکن غزہ کی اس خونریز جنگ میں کچھ بھی ممکن دکھائی دیتا ہے۔









