ایکنور سنگھ کا کہنا ہے کہ سالانہ 120,000 پاؤنڈ سے زیادہ کمانے کے لیے اسے صرف اپنے موبائل فون اور اچھے انٹرنیٹ کنکشن کی ضرورت ہے۔
لندن سے تعلق رکھنے والا 22 سالہ ایکنور ایک پیشہ ور ’کلپر‘ ہے۔ کلائنٹس اسے سوشل میڈیا کے لیے مختصر عمودی (ورٹیکل) ویڈیوز بنانے کے پیسے دیتے ہیں، اس امید پر کہ یہ ویڈیوز وائرل ہو جائیں گی۔
وہ کہتا ہے‘کلپ کو جتنے زیادہ ویوز ملتے ہیں، میں اتنے ہی زیادہ پیسے کماتا ہوں۔‘
عام طور پر یہ کام اس طرح ہوتا ہے کہ کلائنٹ، جو کپڑوں کا برانڈ، ریکارڈ لیبل، فلم اسٹوڈیو، پوڈکاسٹر یا انفلوئنسر، کوئی بھی ہو سکتا ہے، کے پاس ایک طویل ویڈیو ہوتی ہے جسے کلپر پہلے دیکھتا ہے۔
اس کے بعد وہ اس میں سے اپنی رائے میں بہترین حصے یا حصے چنتا ہے، ان کے 30 سے 60 سیکنڈ کے کلپس بناتا ہے اور انہیں انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹک ٹاک یا دیگر پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کر دیتا ہے۔
خیال یہ ہے کہ کلپرز، جن کی عمریں عموماً 16 سے 25 سال کے درمیان ہوتی ہیں، اس عمر کے ناظرین کو بہتر سمجھتے ہیں کہ انہیں کیا پسند آئے گا، اس لیے وہ ان مختصر ویڈیوز کو زیادہ سے زیادہ ویوز دلوا سکتے ہیں۔
ماہانہ 10,000 پاؤنڈ
کلپرز مختلف پلیٹ فارمز پر ہر 1,000 ویوز کے بدلے زیادہ سے زیادہ 3 ڈالر (2.30 پاؤنڈ) تک کما سکتے ہیں، اس لیے اگر کوئی کلپ خوب چل نکلے تو یہ کام بہت منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔
سنگھ کے مطابق اسے کلپنگ کی لت پچھلے سال لگی، جب اس نے پاپ اسٹار دعا لیپا کی ایک مختصر ویڈیو انسٹاگرام پر پوسٹ کر کے 300 ڈالر کمائے۔
وہ کہتا ہے’میں نے سوچا، یہ تو بہت پیسے ہیں، صرف ایک ویڈیو پوسٹ کرنے کے۔ مجھے فوراً اندازہ ہو گیا کہ یہ کام کتنا منافع بخش ہو سکتا ہے۔‘
اب اس کا کہنا ہے کہ وہ ’کم از کم 10,000 پاؤنڈ ماہانہ‘ کما رہا ہے۔
وہ مزید بتاتا ہے کہ وہ ایسے کلپس تلاش کرتا ہے جو مزاحیہ ہوں، جلدی دیکھے جا سکیں اور دلچسپ ہوں۔
مثال کے طور پر مئی میں اس نے نیویارک کے میٹ گالا میں سبرینا کارپینٹر کی ایک ویڈیو بنائی، جس میں ان کے لباس کے پچھلے دامن پر کسی کا پاؤں آ جانے پر ان کا ردِعمل دکھایا گیا تھا۔ سنگھ نے یہ نہیں بتایا کہ اس کا کلائنٹ کون تھا۔
بہت سے لوگ کچھ نہیں کما پاتے
کینساس کے شہر وچیٹا سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ کلپر ایتھن ویمز کے لیے یہ ویڈیو بنانے کے اپنے دوسرے کام کے ساتھ ساتھ اضافی آمدنی کا اچھا ذریعہ ہے۔ اس کے مطابق وہ کلپنگ سے ’کم از کم 1,000 ڈالر ماہانہ‘ کماتا ہے۔
وہ یوٹیوبر اور پوڈکاسٹر کیلب ہیمر کے لیے مختصر ویڈیوز بناتا ہے، جو ’فنانشل آڈٹ‘ نامی شو کی میزبانی کے لیے مشہور ہیں۔ اس شو میں ان کے مہمانوں کے ذاتی مالی معاملات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
ویمز کا کہنا ہے کہ کلپنگ کی بدولت وہ گھر بیٹھے روزی کما لیتا ہے، جس سے اسے اپنی بیوی اور ایک سالہ بیٹے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ وہ کہتا ہے ’میں روایتی نو سے پانچ کی نوکری نہیں کرنا چاہتا جس میں روز دفتر جانا پڑے۔‘
تاہم، اگرچہ کچھ کلپرز اچھی کمائی کر لیتے ہیں، سوشل میڈیا کی مشیر لیا ہیبرمین خبردار کرتی ہیں کہ ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’یہ پورے کری ایٹر اکانومی کی تصویر ہے۔ اکثریت بہت کم یا کچھ بھی نہیں کماتی۔‘
دوسری طرف، اسٹریمنگ انڈسٹری کے تجزیہ کار ڈیون نیش کا کہنا ہے کہ کلپنگ میں کامیابی کے لیے درکار وقت کو کم سمجھ لینا آسان ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ کامیاب کلپرز کو ’گھنٹوں اور گھنٹوں مواد دیکھنا پڑتا ہے، اور وہ بس اسی دنیا میں رہتے ہیں۔‘
کلپرز کو ممکنہ کلائنٹس سے ملانے کا کام کئی درمیانی ویب سائٹس انجام دیتی ہیں، جہاں دستیاب ویڈیو کام درج کیے جاتے ہیں۔
ان میں ریڈٹ اور ڈسکورڈ جیسے عمومی آن لائن فورمز کے صفحات سے لے کر کلپنگ کلچر، وائرو، ویپ اور کِک جیسی مخصوص کلپنگ ویب سائٹس تک شامل ہیں۔
آخر الذکر ویب سائٹس کام کروانے والی کمپنیوں سے فیس وصول کرتی ہیں۔ کلپنگ کلچر کی فہرست میں کیپیٹل ریکارڈز، یونیورسل میوزک گروپ اور ایچ بی او میکس جیسے کلائنٹس شامل ہیں۔
ایسی کمپنیوں کے لیے اپنے بیڈروم میں بیٹھے کسی نوعمر یا بیس پچیس سالہ نوجوان کو کام پر رکھنا سوشل میڈیا پر روایتی اشتہارات کے مقابلے میں کہیں سستا پڑتا ہے، اور ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لحاظ سے زیادہ مؤثر ہونے کا امکان بھی ہوتا ہے۔
یہی تجربہ لاس ویگاس میں قائم ماڈیولر گھر بنانے والی کمپنی بوکس ایبل کا ہے۔ اس کے بانی گیلیانو تیرامانی، جو کمپنی کی کئی ویڈیوز میں نظر آتے ہیں، کہتے ہیں ’میرا خیال ہے کہ اب تک ہمارے کلپس کے ویوز شاید ایک ارب تک پہنچ چکے ہیں۔‘
برطانیہ میں، ڈاؤننگ اسٹریٹ کے سابق مشیر اور اب ’جمی’ز جابز آف دی فیوچر‘ پوڈکاسٹ کے میزبان جمی میک لافلن نے بھی کلپس کو اپنا لیا ہے۔
وہ کہتے ہیں ’کلپس گویا مرکزی پروگرام کے ٹریلر ہوتے ہیں۔‘ مثال کے طور پر، وزیرِ اعظم اینڈی برنہیم کے ساتھ حالیہ پوڈکاسٹ کو ’طویل ویڈیو کے طور پر تقریباً 50,000 مرتبہ دیکھا گیا، لیکن کلپس کے لحاظ سے اس کے ویوز لاکھوں میں ہیں۔‘
کلپنگ کلچر کے بانی اور سربراہ ایون اسٹینفیلڈ خود صرف 21 سال کے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف کینساس کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر پچھلے سال یہ کاروبار شروع کیا۔
اسٹینفیلڈ کے مطابق یہ ویب سائٹ دنیا بھر کے 340,000 سے زیادہ کلپرز کو برانڈز سے جوڑتی ہے۔ مختصر ویڈیوز کی مقبولیت کے بارے میں ان کا نظریہ سادہ ہے ’لوگوں کی توجہ کا دورانیہ دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ کلپس بنانا نوجوانوں کا کھیل ہے کیونکہ ’مختصر ویڈیوز کے زیادہ تر صارفین وہی ہیں۔‘
لندن میں ایکنور سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ ’تقریباً مسلسل کلپنگ ہی کرتا رہتا ہے‘، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔
وہ کہتا ہے ’میں کہیں بھی ہو سکتا ہوں۔ چھٹیوں پر جا کر بھی پیسے کما سکتا ہوں۔‘









