ایرانی خاتون آبنائے ہرمز کے ساحل پر

امریکی مڈٹرم انتخابات: ایران کون سی نئی حکمت عملی اختیار کرنے والا ہے؟

·

کوئی وقت تھا کہ امریکا دماغ سے کام لیتا تھا اور اپنے مقاصد حاصل کرتا تھا۔ تاہم آج کل یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کے عہد میں وہ زبان سے کام لیتا تھا۔ لگتا ہے کہ اس کی دماغ کی صلاحیت مفقود ہوچکی ہے۔ دوسری طرف ایران ہے جو دماغ سے کام لے رہا ہے، شطرنج کی بساط پر اسے پورا کنٹرول حاصل ہے۔ ایران نے دشمن کو باندھ کر رکھا ہوا ہے، وہ نہ آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ اس کیفیت میں بھی دشمن کو زیادہ بڑی شکست کا سامنا ہے۔

اب آئیے ! جانتے ہیں تفصیل اس اجمال کی۔ جنگِ ایران کے سبب امریکا کو ماہانہ تین ارب ڈالر کا خرچہ کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف تیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے امریکی قوم کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جا رہی ہے، اور ہر امریکی اپنے صدر کو لعن طعن کر رہا ہے کہ اس کی حماقت نے یہ مشکل دن دکھائے، ورنہ زندگی کا اچھا بھلا کاروبار چل رہا تھا۔

ٹرمپ کی یہ دکھتی رگ ایران کے ہاتھ میں آچکی ہے۔ وہ ایسی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے جس سے امریکا میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہی چلی جائیں، اس کے نتیجے میں امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف مسلسل نیچے سے نیچے جا رہا ہے۔ اس وقت تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ اور مزید کم ہورہا ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ مڈٹرم انتخابات تک ٹرمپ کی تنزلی کا یہ سفر یونہی نیچے کی طرف سفر کرتا رہا۔

حال ہی میں عالمی خبر رساں ادارے’ رائٹرز‘ نے ایران کی اس حکمت عملی کو زیادہ کھول کر بیان کیا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ ایران شطرنج پر ایک شاطر ترین کھلاڑی کی طرح جما ہوا ہے، وہ دام میں آئے مخالف کھلاڑی کو ذرا ادھر ادھر ہلنے نہیں دے رہا۔ جیسے ہی مخالف کھلاڑی تڑپ کر، پھڑک کر  دام سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے، ایران اپنی حکمت عملی سے اسے مزید پھنسا دیتا ہے۔

ایران کے دو سینئر حکام نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئے طریقے اپنا رہا ہے۔ اس کا مقصد تیل کی قیمتیں بلند رکھنا اور امریکی وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہونا ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سے تہران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس نے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، تاکہ واشنگٹن پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ جنگ سے پہلے اس راستے سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت ہوتی تھی۔

ایران کی دھمکیوں اور حملوں نے اس آبنائے میں آمد و رفت کو بری طرح محدود کر دیا ہے، جس سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، اگرچہ کچھ تیل اب بھی یہاں سے گزر رہا ہے۔

دونوں ایرانی حکام نے نئی حکمتِ عملی کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔ تاہم ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ تقریباً 10 دن پہلے ایران نے ان جہازوں کے خلاف مختلف جارحانہ طریقے اپنانا شروع کیے جنہیں وہ اپنی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والا سمجھتا ہے، اور اس کے نتیجے میں ایسے جہازوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

حکام کے مطابق اس حکمتِ عملی میں حملوں کی نوعیت اور رفتار دونوں میں تبدیلی شامل ہے، اور ایک مقصد امریکی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونا ہے۔

دونوں میں سے ایک اہلکار نے کہا ’مقصد یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے۔‘

حکام کے مطابق نئی حکمتِ عملی اپنانے کا فیصلہ ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کی سطح پر کیا گیا اور اسے ملک کے پورے حکمران نظام میں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔

ایک امریکی فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ ایران نے ایک اہم طریقے سے اپنی حکمتِ عملی بدلی ہے۔ ان کے مطابق جب امریکہ نے ایران کی زیادہ تر ریڈار صلاحیتیں تباہ کر دیں تو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے چھوٹی کشتیوں میں غیر مسلح نگرانی کرنے والوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا، جو ممکنہ اہداف کی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں امریکی بحری جہاز بھی شامل ہیں۔

اہلکار کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک ایسے واقعے میں، جس کی پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی، امریکی فوج نے طے کیا کہ ایرانی نگران ایک بادبانی کشتی (ڈھو) سے کام کر رہے تھے اور آئی آر جی سی کو اہداف کی اطلاع دے رہے تھے۔ امریکی افواج نے اس کشتی کا سامنا کیا، اس میں سوار افراد کو کشتی چھوڑنے کا حکم دیا اور پھر اسے تباہ کر دیا۔ امریکی اہلکار کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اہلکار کے مطابق ایران اپنی باقی ماندہ تیز رفتار کشتیوں کو خطرے میں ڈالنے کو تیار نہیں، اس لیے وہ آبنائے کے ذریعے تیل کی برآمدات میں اضافے کو روکنے میں ناکام رہا ہے، خاص طور پر امریکی حملوں میں اس کی بحریہ تباہ ہونے کے بعد۔

یہ جنگ، جس پر ماہانہ 3 ارب ڈالر لاگت آ رہی ہے، نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے لیے امریکی انتخابی مہم کا ایک اہم موضوع بن گئی ہے۔ ان انتخابات سے کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف اگلے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔

اسی دوران امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی اپنی بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے اور پابندیوں میں توسیع کر رہا ہے، تاکہ تہران پر معاشی دباؤ بڑھا کر اسے تنازع ختم کرنے کے لیے معاہدے پر آمادہ کیا جا سکے۔

ہرمز پر جاری کشمکش نے عالمی توانائی منڈیوں کو مزید رکاوٹوں کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ حملوں کے خدشے اور جہاز رانی و انشورنس کے بلند اخراجات معمول کی آمد و رفت بحال کرنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے جنگ شروع ہونے کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جیسا کہ آزاد اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔

بحری سلامتی کے ذرائع کے ڈیٹا تجزیے اور برطانوی بحریہ سے وابستہ ادارے یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کو دی گئی اطلاعات کے مطابق، گزشتہ 48 گھنٹوں میں ہرمز کے علاقے میں ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں سے متعلق کم از کم پانچ واقعات پیش آئے، جن میں ڈرون حملے بھی شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے شپنگ ادارے، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن، کے اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح تقریباً 3 سے 5 اکتوبر کے دوران حملوں کی شرح کے برابر ہے، جو ایک نئی کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہے۔

بحری سلامتی کے ایک ذریعے نے کہا ’حملوں کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے، جو دانستہ معلوم ہوتا ہے۔‘

حکام کے مطابق نئی حکمتِ عملی کے تحت تہران اپنی کارروائیوں کا جغرافیائی دائرہ بھی آبنائے ہرمز سے آگے خلیجِ عمان اور مزید دور کے پانیوں تک بڑھائے گا۔

خطے میں یو کے ایم ٹی او اور بحری سلامتی کی کمپنیوں کو دی گئی اطلاعات پر مبنی بحری سلامتی کے ذرائع کا تجزیہ اشارہ کرتا ہے کہ شاید یہ سلسلہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران نے آبنائے ہرمز سے باہر کے علاقوں میں بھی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب کے پانی شامل ہیں۔

دوسرے ایرانی اہلکار نے مزید کہا کہ تہران ٹرمپ کو نومبر کے انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں گرانے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا ’جب وہ سمجھیں گے کہ وہ اس مقام کے قریب پہنچ رہے ہیں جہاں قیمتیں گریں گی، ہم انہیں اس سے دور دھکیل دیں گے۔ یہ شطرنج کا کھیل ہے۔‘

’ایسے جہاز کہیں بھی محفوظ نہیں ہوں گے، حتیٰ کہ آبنائے ہرمز سے باہر بھی۔‘

پینٹاگون اور ایران کی وزارتِ خارجہ نے تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔

دونوں ایرانی حکام نے کہا کہ تہران ایسی صورتِ حال کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں اس کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والا کوئی بھی جہاز آبنائے سے نہیں گزر سکے گا۔ ایک اہلکار نے کہا ’جلد ہی مکمل بندش ہو جائے گی۔‘

امریکی بحریہ کی قیادت میں کام کرنے والے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر (جے ایم آئی سی) نے اتوار کو اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرہ بدستور ’شدید‘ ہے، جو دوسرا بلند ترین درجہ ہے۔

جے ایم آئی سی نے کہا ’آئی آر جی سی کے حملے، حملوں کی کوششیں اور / یا ہراساں کرنے کی کارروائیاں جاری رہیں، جن میں بغیر پائلٹ طیاروں کی پروازیں، تجارتی جہاز رانی کی ہدفی نگرانی، اور کبھی کبھار وی ایچ ایف ریڈیو پر للکارنا شامل ہیں۔‘

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں