ڈاکٹر-فاروق-عادل

کیا توسیع دعوت کی حکمت عملی تبدیل ہوسکتی ہے؟

·

کیا توسع کے نام پر اصولوں پر سمجھوتہ کر لینا چاہیے؟ یہ سوال پروفیسر محمد وقاص خان نے اٹھایا ہے۔

اس پر مجھے حکیم عبد العزیز ہاشمی یاد آ گئے۔ حکیم صاحب غیر علاقائی بنیاد پر اسلامی جمعیت طلبہ کی مرکزی شوریٰ کے رکن تھے۔

مسکراتا ہوا چہرہ، ہر ایک سے محبت کرنے والے۔ سابقین اور متعلقین کے گھر پہنچ کر ان سے رابطہ کرنا اور ‘ بھٹکی ہوئی بھیڑوں’ کو ‘ ریوڑ’ میں شامل کر دینا۔ اس معاملے میں سرگودھا میں ان سے بڑھ کر شاید ہی کوئی ہو۔

جمعیت کے تربیتی پروگراموں میں ہمیشہ انھیں زحمت دی جاتی اور وہ خوشی خوشی تشریف لاتے۔ اس زمانے میں جمعیت میں تربیت کے بعض موضوعات طے شدہ تھے لیکن موقع کی مناسبت سے ان میں اضافہ بھی ہوتا رہتا تھا۔ تمام تر تربیتی موضوعات پر حکیم صاحب کی تیاری مکمل ہوتی تھی لیکن اس کے باوجود مطالعے کا سلسلہ جاری رہتا۔

ان کے پاس ایک خاص سائز کے کارڈز کا بہت بڑا ذخیرہ تھا، وہ مطالعہ کرتے جاتے اور نئے نکات کارڈوں پر لکھ کر متعلقہ موضوع کے لفافے میں محفوظ کرتے جاتے۔ اس طرح ان کی ہر گفتگو میں نیا پن اور تازگی ہوتی۔

تبلیغ کی حکمت کے موضوع پر ان کی ایک تقریر کے بعض نکات میرے ذہن میں آج بھی تازہ ہیں۔

حکیم صاحب کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ دعوت دینے والے اور اس کے مخاطبین کے درمیان تہذیبی قرب ہونا چاہیے۔ تہذیب کا معاملہ سادہ نہیں ہے لیکن یہاں اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ دعوت دینے والے کی وضع قطع حتی الامکان ویسی ہی ہو جیسی اس کے مخاطب کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ربط یا مخاطب اگر مالی اعتبار سے مڈل کلاس یا لوئیر مڈل کلاس سے یا اس سے بھی نچلے طبقے سے تعلق رکھتا ہے تو آپ کی وضع قطع اور لباس سے کروفر نہیں ٹپکنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اعتدال اور سادگی کا نمونہ ہونا چاہیے۔ یہ اعتدال اور سادگی ہی ہے جو ہر قسم کے لوگوں اور ان کے دائرے میں کسی اجنبی یا دوسرے الفاظ میں داعی کے داخلے کا پروانہ بن جاتی ہے۔

حکیم عبد العزیز ہاشمی کی یہ گفتگو ستر اور 80 کے زمانے کی ہے۔ اس زمانے کو یاد کیجیے، یہ سادگی کا زمانہ تھا۔ انگریزی لباس تب بھی عام تھا لیکن عام طور پر شلوار قمیص سے کام چل جاتا تھا۔ حکیم صاحب کا کہنا تھا کہ اچھا لباس پہنو لیکن کلف لگے کڑکڑاتے ہوئے کپڑے عام غریب لوگوں تک پہنچنے کا راستہ روک دیں گے۔ صرف آپ کا راستہ بند نہیں ہو گا بلکہ آپ کی دعوت کا راستہ بھی بند ہو جائے گا۔

ستر اور اسی کی دہائیوں کی بات بہت پرانی ہو چکی۔ اب دنیا بدل چکی ہے۔ لباس اور چال ڈھال ہی نہیں گفتگو کے انداز بھی بدل چکے ہیں لیکن کیا تبلیغ کی حکمت بھی بدل چکی ہے؟

اقبال نے کہا تھا:

زمانے کے انداز بدلے گئے

نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے

بس، یہی بنیادی بات ہے۔ زمانے کا چلن بدلتا ہے تو اس کے مظاہر بھی بدل جاتے ہیں لیکن بنیادی اصول نہیں بدلتے۔ توسیع دعوت کی حکمت بدل سکتی ہے، دین مبین کے ضابطے کبھی تبدیل نہیں ہو سکتے۔ اس بات کا مطلب کیا ہے؟ اسی سوال پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دنیا بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں داخل ہوئی تو اس کے ساتھ بہت کچھ اور بھی بدلا۔ نظریاتی اعتبار سے ہم جس گروہ سے بھی تعلق رکھتے ہوں، ہم لوگوں نے وسائل سے بھی بڑھ کر اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دی ہے۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ ہماری اولادیں جدید ترین تعلیم کے ان تمام لوازم سے آراستہ ہو جائیں جو مادی ترقی کے لیے نا گزیر ہیں۔

حکیم عبد العزیز ہاشمی کے زمانے میں ہمارے یہاں دو چار کانونٹ اسکول، برن ہال قسم کے تعلیمی ادارے اور چند کیڈیٹ کالج وغیرہ ہوا کرتے تھے، اب چھوٹے بڑے شہروں میں جدید بلکہ مغربی تعلیمی اداروں کا جال بچھ گیا ہے اور وسائل رکھنے اور بعض صورتوں میں کم وسائل رکھنے والے لوگوں کے بچے بھی ان ہی تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں۔ اس تبدیلی نے پورے کا پورا ماحول بدل ڈالا ہے۔ یہی کم نہیں تھا لیکن ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے اس کی رفتار کو راکٹ کی رفتار بنا دیا جس کے نتیجے میں ستر اور اسی کی دہائی پتھر کے زمانے کی بات لگتی ہے۔ ہمارے بچوں یا جنریشن زی اور ہمارے طرز زندگی اور انداز فکر میں زمین آسمان کا فرق واقع ہو گیا ہے۔ اس فرق کے باوجود ایک چیز ایسی ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

پاکستانی معاشرے کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ یہ ترقی پسند ہے۔ اس نے شدت پسند رویوں سے ہمیشہ دوری اختیار کی ہے اور اعتدال پر مبنی ترقی پسندی کو اختیار کیا ہے۔ یہ پاکستانی سماج کے مزاج کا جوہر ہے جس کی آبیاری اقبال جیسی عظیم ہستی کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ ہمارے اس مزاج کی تشکیل کی ابتدا سر سید سے ہوئی لیکن سر سید کے ذکر سے بدکنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے تجدد کو مسترد کرنے کے باوجود یہ ضرور سمجھنا چاہیے کہ انھوں جہالت، غربت اور بے بسی کے گڑھے میں گرے ہوئے مسلمانوں کو تعلیم کی نعمت عطا کی۔ یوں انھیں آگے بڑھنے کا راستہ ملا۔

سر سید سے جو خطائیں ہوئی تھیں، اقبال نے ان کی اصلاح کر کے مسلمانوں کو ترقی اور اعتدال کے راستے پر لا کھڑا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد سید ابوالاعلی مودودی نے فکری اعتدال کی اسی تحریک کو بام عروج پر پہنچا دیا۔

مولانا مودودی کے سامنے دو بڑے چیلنج تھے۔ مغربی تہذیب کی بے اعتدالی اور ملائیت کا جمود۔ مولانا مودودی نے ان دو انتہاؤں کے درمیان بڑی حکمت سے اعتدال کی راہ نکالی۔ ان کی تحریک ترقی پسندی کی اسی تحریک کا تسلسل تھا جس کی بنا اقبال نے ڈالی تھی۔ یہی اس تحریک کی سب سے بڑی خوبی تھی کہ اپنے عہد کے جدید ترین لوگ ( وضع قطع کے اعتبار سے بھی ) عملی طور پر بہترین مسلمان تھے۔ ڈاکٹر کمال اس کی ایک سامنے کی مثال ہیں جو اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ ہی نہیں رہے، جماعت اسلامی کے ذمے دار بھی بنے لیکن وہ ملائیت سے بالکل دور رہے۔

پاکستانی سماج اسی انداز فکر کی سچی تصویر ہے۔ پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اقبال کے تصور کے عین مطابق اپنے بچوں کو جدید ترین تعلیم دلائی لیکن اپنی ذاتی محنت سے انھیں مسلمان بنانے کی کوشش بھی کی۔

میں الٹرا ماڈرن تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والی بے شمار بچیوں کو جانتا ہوں جو مغربی لباس پہنتی ہیں، بعض اوقات ڈوپٹے سے بھی بے نیاز ہوتی ہیں لیکن نماز کی پابند ہیں۔ کیا یہ بچیاں ہمارے سماج اٹوٹ انگ ہیں یا انھیں مکھن میں سے بال کی طرح نکال باہر کرنا چاہیے؟

مسلمانوں، خاص طور پر پاکستانی سماج اور اس میں بھی اسلامی تحریک کے ساتھ ایک غیر معمولی حادثہ رونما ہوا ہے۔ حادثہ یہ ہوا کہ دنیا آگے بڑھ گئی۔ ہمارے بچے ہم سے بھی آگے بڑھ گئے اور ان کے اس سفر میں ہماری نسل نے ان کی پوری معاونت کی لیکن ہم جہاں کھڑے تھے، وہیں کھڑے رہے۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کا محاورہ ہم پر صادق آتا ہے۔

اب ہمارا سامنا اس نسل سے ہے جسے ہم نے اپنا خون پسینہ صرف کر کے پیدا کیا ہے لیکن اب ہم اسے سینے سے لگانے پر تیار نہیں ہیں۔ ان بچوں کو دنیا کی سمجھ ہے۔ اگرچہ ہم تسلیم نہیں کرتے لیکن ان کا مطالعہ بھی ہے۔ ایسے لوگوں سے ڈیل کرنے کے لیے ہم وہ طور طریقے اختیار کرنا چاہتے ہیں جو سرد جنگ کے سب سے بڑے حادثے افغان جہاد کے دوران متعارف ہوئے۔

اس حادثے کا سب سے بڑا تحفہ علمی جمود اور عملی شدت پسندی ہے۔ بدقسمتی سے اس زمانے میں سید مودودی کا انداز فکر کہیں پیچھے رہ گیا اور دیوبندیت آگے بڑھ گئی۔ میں ایسے بہت سے نوجوانوں کو جانتا ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ آج جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی میں کوئی فرق نہیں رہا۔ وہ ایسا کیوں سوچتے ہیں؟ اس کی وجہ ایک ہی ہے۔ مذہبی جمود یا ایک قسم کی شدت پسندی۔

جمعیت علمائے اسلام کا مسئلہ وہ نہیں جو جماعت اسلامی کا ہے۔ ان کے بزرگوں کو جو بات پسند نہ آئے وہ فتویٰ دے کر اسے راہ سے ہٹا دیتے ہیں۔ مولانا مودودی کا مزاج ایسا نہیں تھا لیکن ان کی پیروی کا دعویٰ کرنے والوں میں اب اس کے آثار نمایاں ہیں۔ اسی لیے آج وہ مباحث جنم لے رہے ہیں، مولانا مودودی کے دور میں جن کی گنجائش نہیں تھی۔

سیدھی سی بات ہے، مولانا مودودی نے مولانا منظور نعمانی اور ان جیسی رائے رکھنے والے بزرگوں کی بات مانی ہوتی تو جماعت اسلامی کو میاں طفیل محمد جیسا شخص نہ ملتا جسے اخلاص اور قربانی کا مثالی نمونہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ حکمت کا یہی اسلوب آج کی ضرورت ہے۔

حکیم عبد العزیز ہاشمی صاحب کو پھر یاد کیجیے۔ ان کی گفتگو کا تقاضا ہے جیسا دیس ویسا بھیس۔ آپ کی اجتماعیت میں آنے کے خواہش مند جدید وضع قطع ضرور رکھتے ہیں لیکن وہ نہ شتر بے مہار ہیں اور نہ ان کے مغربی لباس برہنگی کا آئینہ ہیں۔ بس، یہ بدلے ہوئے وقت کے مظاہر ہیں۔ لوگوں کے قریب جانا ہے یا انھیں قریب کرنا ہے تو وضع قطع اور بود و باش کا طالبانی انداز فکر نہیں چلے گا بلکہ دین کے بنیادی اصولوں کو بہر صورت برقرار رکھتے ہوئے ترقی پسندانہ طور طریقے اختیار کرنے پڑیں گے جس کے فکری رجحان کی بنیاد اقبال نے ڈالی اور جس کی سید ابوالاعلی مودودی نے اپنے خون سے آب یاری کی۔

حرف آخر یہ کہ نئی نسل کو مخاطب کرنے کے لیے حکیم عبد العزیز ہاشمی کی نصحیت کو اختیار کر لینے کا مطلب اسلام کو سیکیولر بنا دینا نہیں بلکہ یہ اپنی بات تخلیقی انداز میں نئے لوگوں تک پہنچانے کی ایک حکمت ہے۔ یہ سادگی کا وہ اسلوب ہے جو اکیسویں صدی میں پروان چڑھ رہا ہے۔ یہ اسلوب نیا ضرور ہے لیکن حکمت وہی پرانی ہے۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔