خاکِ فارس کا مسافر، قسط 38 (آخری قسط)

·

امام علی بن موسیٰ الرضا کے مزار کی زیارت سے فارغ ہوا تو مسجد گوہرشاد کی طرف نکل آیا۔ وہاں پہنچنے کے لیے میں ایک ایسے باریک سے راستے سے مسجد کے احاطے میں داخل ہوا جسے شاید اب بہت کم لوگ جانتے ہوں۔ آج تو امام رضا کے وسیع و عریض احاطے کی توسیع نے اس راستے کو اپنے اندر یوں چھپا لیا ہے جیسے کسی پرانی کتاب کا حاشیہ نئی جلد کے نیچے دب جائے۔

اذان ہوچکی تھی۔ میں نے مسجد میں داخل ہوکر اپنی جگہ تلاش کی اور جوتے اپنے سامنے، صف کے کنارے پر رکھ دیے۔ دائیں طرف دو تین نمازی پہلے سے کھڑے تھے۔ میں نے دو رکعت نفل کی نیت باندھی ہی تھی کہ اچانک میرے دائیں جانب کھڑے تقریباً پندرہ سالہ ایک ایرانی نوجوان نے میرے جوتوں کو ایک ٹھوکر رسید کردی۔میرے دونوں بوٹ صف کے کنارے سے پھسلتے ہوئے دیوار سے جا ٹکرائے۔میں نے نفل مکمل کیے۔ نماز ختم کی، اٹھا، جوتے واپس لا کر  حسبِ سابق اپنے سامنے رکھ دیے۔ مگر اس مختصر سے واقعے نے میرے ذہن میں ایک سوال ضرور کھڑا کردیا:

آخر میرے جوتوں نے اس نوجوان کا کیا بگاڑا تھا؟میں نے کوئی جواب نہ پایا۔ اقامت شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت تھا۔ اس دوران میں نے ذرا غور سے اردگرد دیکھا تو ایک اور بات میرے سامنے آئی۔ لوگ مسجد میں داخل ہورہے تھے اور تقریباً ہر شخص کے ہاتھ میں، بغل میں یا ساتھ ایک کپڑے کی تھیلی تھی۔ ان تھیلیوں میں ان کے جوتے بڑے سلیقے سے محفوظ تھے۔ تب مجھے خیال آیا کہ شاید اصل قصہ جوتوں کا نہیں، جوتوں کے آداب کا ہے۔

پاکستان میں تو مسجد کے دروازے پر جوتے اتار کر انہیں اپنے سامنے یا صف کے کنارے رکھ دینا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ شاذ ہی کوئی شخص اس پر اعتراض کرتا ہے۔ یہاں شاید معاملہ مختلف تھا۔ ایرانی نمازی اپنے جوتوں کو تھیلی میں رکھ کر مسجد کے اندر لاتے تھے اور میں، پاکستانی عادت کے مطابق، انہیں بے تکلف اپنے سامنے رکھ کر نماز پڑھنے کھڑا ہوگیا تھا۔سو، ممکن ہے اس نوجوان کی ٹھوکر دراصل ایک خاموش قسم کی  تنبیہ تھی:

بھائی صاحب! جوتے سامنے رکھنا آداب کے خلاف ہیں۔ !‘ لیکن اُس نے یہ’ تنبیہ زبان سے نہیں کی بلکہ اپنی ٹھوکر سے کی۔

لیکن میرے ذہن میں ایک دوسرا خیال بھی آیا۔میں نے دیکھا تھا کہ وہ نوجوان مجھے ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہوئے بھی دیکھ رہا تھا۔ ایران میں شیعہ طریقۂ نماز کے مطابق ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھی جاتی ہے، جبکہ میں اپنے فِقہی طریقے کے مطابق ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ مجھے گمان ہوا کہ شاید میرے نماز پڑھنے کے انداز نے بھی اس نوجوان کے مذہبی تعصب کو ابھار دیا ہو۔ ممکن ہے جوتوں کی طرف جانے والی اس کی ٹھوکر کا راستہ پہلے ہی اس کے ذہن میں بن چکا ہو اور میرے بندھے ہوئے ہاتھوں نے اسے آخری مہمیز دے دی ہو۔ البتہ یہ صرف میرا گمان تھا؛ نوجوان نے نہ کوئی وضاحت کی، نہ میں نے اس سے کوئی مناظرہ کیا۔ سفر میں ہر واقعے کی باقاعدہ تفتیش شروع کردی جائے تو آدمی سیاحت سے زیادہ تفتیشی افسر بن جاتا ہے۔

میں نے اس کے فعل کو نظرانداز کردیا۔آخر ایک پندرہ سالہ نوجوان ہی تو تھا۔ سفر میں بعض اوقات انسان کو دوسروں کی حرکتوں سے زیادہ اپنے دل کے سکون کی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ میں نے اپنے جوتے سنبھالے، اپنی صف سنبھالی اور نماز کی طرف متوجہ ہوگیا۔ مغرب کا وقت تھا۔ میں نے مغرب اور عشاء، یعنی مغربَین، امام کے ساتھ ادا کیں۔

یہ جمعرات کا دن تھا۔ مغرب اور عشاء کی نماز امام کے ساتھ ادا کرنے کے بعد میں واپس اپنے کمرے میں آیا اور تھکن کے باعث سوگیا۔ اگلا دن جمعہ تھا، مگر اس روز میں پورا دن مسجد نہیں گیا۔ جمعے کی نماز سمیت اپنی نمازیں میں نے اپنے کمرے ہی میں ادا کیں۔اس کی وجہ محض تھکن یا سفر کی اکتاہٹ نہیں تھی۔ مزارِ امام رضا پر میں نے جو عجیب و غریب مذہبی رسوم اور بعض ایسے مناظر دیکھے تھے جو میرے لیے اجنبی اور ناگوار تھے، وہ بھی میرے ذہن میں تازہ تھے۔ اس پر مسجدِ گوہرشاد میں اس نوجوان کا میرے ساتھ کرخت اور نامناسب رویہ بھی ایک ناخوش گوار تجربے کے طور پر میرے ذہن میں بیٹھ گیا تھا۔چنانچہ میں نے سوچا کہ ایک دن مسجد سے فاصلے پر رہ کر اپنے کمرے ہی میں عبادت کرلینا بہتر ہے۔ سفر میں بعض اوقات انسان کو صرف راستوں اور شہروں سے نہیں، اپنے اندر پیدا ہونے والی کیفیات سے بھی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔

اس روز میں نے مشہد کی گہماگہمی سے خود کو الگ رکھا۔ باہر حرم کے گرد زائرین کا ہجوم ہوگا، بازار اپنی معمول کی رونق سے آباد ہوگا، اور مسجد گوہرشاد کے صحن میں نماز کے لیے لوگ آتے جاتے ہوں گے؛ مگر میں اپنے کمرے میں خاموش بیٹھا تھا۔ یوں میرے سفرِ ایران کا یہ آخری دن ایک عجیب سی خاموشی میں گزرا—ایسی خاموشی جس میں گزشتہ کئی دنوں کے مشاہدات، خوش گوار یادیں اور کچھ تلخ تجربات سب ایک ساتھ ذہن میں گردش کرتے رہے۔اس آخری واقعے پر سوچتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ سفرنامہ صرف خوب صورت مناظر، تاریخی عمارتوں، مقاماتِ مقدسہ اور یادگار ملاقاتوں کا نام نہیں۔ سفر آدمی کو دوسروں کے معمولات کے ساتھ اپنے معمولات کا موازنہ بھی سکھاتا ہے۔

ایک ہی مسجد میں ہم سب نماز پڑھ سکتے ہیں، مگر جوتے رکھنے کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے۔ ایک ہی قبلے کی طرف رخ ہوسکتا ہے، مگر ہاتھ باندھنے یا چھوڑنے کا انداز مختلف ہوسکتا ہے۔ اور کبھی کبھی انہی معمولی اختلافات کے درمیان انسان کے اندر موجود تعصب بھی جھلک جاتا ہے۔لیکن سفر کی اصل خوب صورتی شاید یہی ہے کہ آدمی کسی اجنبی کے ایک عجیب رویے کو پوری قوم کا مزاج قرار نہ دے، کسی ایک واقعے کو پوری تہذیب کا نمائندہ نہ بنائے، اور اپنے جوتوں کو ٹھوکر لگنے کے بعد بھی اپنے دل کو ٹھوکر سے بچا لے۔

خاکِ فارس کا مسافر اب واپس لوٹ رہا تھا۔ راستے بہت پیچھے رہ گئے تھے، مگر ان راستوں پر بکھری ہوئی یادیں ساتھ تھیں۔ کچھ یادیں خوشبو کی طرح، کچھ تصویروں کی طرح، کچھ سوالوں کی طرح، اور کچھ—ایک ایرانی نوجوان کی اس عجیب و غریب ٹھوکر کی طرح—ایسی کہ آدمی برسوں بعد بھی مسکرا کر کہہ سکے:

"صاحب! جوتے میرے تھے، مگر قصہ پورے سفر کا بن گیا۔”

اگلے دن میرا رخ حرمِ امام رضا کے سامنے واقع اُس مشہور بازار کی طرف ہوا جسے بازارِ امام رضا کہا جاتا ہے۔ مشہد میں اگر حرم روحانی کشش کا مرکز ہے تو اس کے سامنے پھیلا ہوا یہ بازار گویا اسی روحانی شہر کا ایک تجارتی چہرہ ہے؛ جہاں زائرین عبادت کے بعد خریداری میں مصروف نظر آتے ہیں اور بازار کی اپنی ایک الگ دنیا آباد رہتی ہے۔ یہ  دو منزلہ، چھتہ دار اور خاصا طویل بازار ہے، جسے آخری شاہِ ایران محمد رضا پہلوی نے 1976ء میں تعمیر کروایا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ بازار کی اصل عمارت تقریباً 960 میٹر لمبی اور 33 میٹر چوڑی ہے، جبکہ اس کے دو متوازی مسقف دالانوں اور دونوں منزلوں کو ملا کر اس کی مجموعی پیمائش تقریباً تین کلومیٹر بنتی ہے۔ بازار ایک طرف میدانِ بیت المقدس اور دوسری طرف میدانِ  شہریور تک پھیلا ہوا ہے۔

یہ بازار صرف خرید و فروخت کی جگہ نہیں بلکہ مشہد آنے والے زائرین کے لیے ایران کی روایتی مصنوعات اور سوغاتوں کی ایک چھوٹی سی دنیا ہے۔ یہاں سب سے نمایاں چیز زعفران تھی، جس کی دکانیں جگہ جگہ نظر آتی تھیں۔ اس کے علاوہ انگشتریاں، خصوصاً عقیق اور فیروزے کی انگوٹھیاں، عطر، پوشاک، تحائف، مسالہ جات، تانبے اور شیشے کے برتن اور دوسری روایتی اشیا بھی بکثرت دستیاب تھیں۔

بازار کی چھت کے نیچے چلتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے مشہد کے زائرین کی آدھی یادیں یہاں خریدی جارہی ہوں اور باقی آدھی دکانداروں کی آوازوں، زعفران کی خوشبو اور تانبے کے برتنوں کی چمک میں پہلے ہی محفوظ ہوچکی ہوں۔ بازارِ امام رضا میں کھانے پینے کا بھی خوب انتظام تھا۔ متعدد ریستوران موجود تھے، جہاں زائرین خریداری کے دوران اپنی بھوک کا علاج کرسکتے تھے۔ چنانچہ میں نے بھی بازار کی سیر کے بعد ایک ریستوران کا رخ کیا اور وہیں دوپہر کا کھانا کھایا۔ اس کے بعد اگلا کھانا دو دن بعد  مجھے کوئٹہ پہنچ کر ہی نصیب ہوا۔ اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

مجھے ایسے بازار ہمیشہ دلچسپ لگتے ہیں۔ یہاں صرف اشیا فروخت نہیں ہوتیں، لوگوں کی یادیں بھیpack ہوکر گھروں کو جاتی ہیں۔ کوئی ماں کے لیے تحفہ لے جاتا ہے، کوئی دوست کے لیے، کوئی بچوں کے لیے اور کوئی اپنے لیے یہ اطمینان کہ "میں ایران آیا تھا اور خالی ہاتھ واپس نہیں گیا!”

کبھی کبھی کسی شہر کو سمجھنے کے لیے اس کی بڑی عمارتیں اور تاریخی مقامات کافی نہیں ہوتے؛ اس کے بازاروں میں گھومنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ وہاں شہر اپنے لوگوں، ان کی خریداری، ان کے ذوق اور ان کی روزمرہ زندگی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ اور مشہد میں حرم کے سائے تلے آباد بازارِ امام رضا بھی میرے لیے ایران کے اسی زندہ اور متحرک چہرے کی ایک جھلک تھا۔

بازارِ امام رضا کی سیر کے بعد کھانا کھایا اور چند تحائف بھی خرید لیے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر مجھے کیا خبر تھی کہ میری جیب میں پڑی ایرانی ریالوں کی ریل پیل اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے!ایرانی کرنسی کے نوٹوں کا حجم اور تھدیوں کی کثرت ایسی تھی کہ آدمی رقم کو دیکھ کر خود کو خاصا خوش حال سمجھنے لگتا تھا۔ جیب میں نوٹوں کی تھدیاں ہوں تو خرچ کرتے ہوئے بھی دل پر وہ بوجھ محسوس نہیں ہوتا جو پاکستانی روپے کے چند نوٹ خرچ کرتے وقت محسوس ہوتا ہے۔ مجھے بھی یہی دھوکا لگا رہا۔ نوٹ اتنے تھے کہ مجھے اندازہ ہی نہ ہوسکا کہ اصل میں رقم کتنی باقی رہ گئی ہے۔

اگلے دن  بروز ِ ہفتہ ، مجھے بس کے ذریعے مشہد سے زاہدان روانہ ہونا تھا۔ چنانچہ مشہد میں بس کا ٹکٹ خریدا۔ ٹکٹ خریدنے کے بعد جب میں نے اپنی جیب ٹٹولی اور باقی ماندہ رقم کا جائزہ لیا تو اچانک مجھ پر انکشاف ہوا کہ ایرانی ریالوں کی جو آخری تھدی میرے پاس بچی تھی، وہ بھی ختم ہوچکی ہے۔اب جو کچھ تھا، وہ تقریباً کچھ بھی نہیں تھا۔یہ احساس اُس وقت ہوا جب واپسی کا سفر ابھی خاصا باقی تھا۔

میں نے دل ہی دل میں شاید خود کو تسلی دی ہوگی کہ "چلیں، زاہدان تک تو پہنچ ہی جائیں گے۔” لیکن مسئلہ یہ تھا کہ زاہدان تک پہنچنے کے لیے صرف بس کا ٹکٹ کافی نہیں تھا؛ راستے میں بھوک بھی لگنی تھی اور پیاس بھی۔مگر اب میرے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔چنانچہ مشہد سے زاہدان تک کا وہ سفر میں نے تقریباً فاقے کی حالت میں طے کیا۔ بس جہاں کھانے پینے اور نماز کے لیے رکتی، وہاں مسافر دسترخوانوں پر بیٹھ جاتے، کھانا کھاتے، چائے پیتے اور تازہ دم ہوکر دوبارہ بس میں سوار ہو جاتے۔ میں بھی وہیں موجود ہوتا، مگر میری حیثیت کچھ ایسی تھی جیسے کسی دعوت میں آدمی صرف مہمانوں کو کھاتا ہوا دیکھنے آیا ہو۔ بس کے کسی اسٹاپ پر جب دسترخوان پر کھانے کے بعد روٹی کے کچھ ٹکڑے بچ جاتے تو میں چپکے سے وہ ٹکڑے اٹھا لیتا۔ پھر کسی ایک کونے میں چلا جاتا اور خاموشی سے انہیں کھا لیتا۔نہ کسی سے مانگا، نہ کسی کو بتایا۔بس یہی کوشش ہوتی کہ پیٹ کی آگ بھی بجھ جائے اور عزتِ نفس بھی سلامت رہے۔

یہ سفر میرے لیے اس اعتبار سے بھی عجیب تھا کہ چند دن پہلے تک میں ایران کے مختلف شہروں میں گھوم رہا تھا، بازار دیکھ رہا تھا، تاریخی مقامات کی سیر کررہا تھا، کھانے کھارہا تھا اور تحائف خرید رہا تھا، اور اب وہی مسافر بس کے کسی اسٹاپ پر بچی ہوئی روٹی کے ٹکڑوں سے اپنی بھوک مٹا رہا تھا۔لیکن اصل امتحان ابھی باقی تھا۔ زاہدان پہنچنے کے بعد مجھے تفتان کی طرف آنا تھا اور وہاں سے بس کے ذریعے کوئٹہ پہنچنا تھا۔ میرے پاس تفتان سے کوئٹہ تک بس کا کرایہ ادا کرنے کے لیے بھی بمشکل رقم تھی۔ کھانے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔

جولائی 2011ء میں تفتان سے کوئٹہ کا بس کا کرایہ 250 روپے تھا۔ میں نے بس والے سے کچھ رعایت کی درخواست کی۔ آخرکار میں نے اسے 230 روپے دیے اور یوں کرایے میں بیس روپے بچ گئے۔

اب میری پوری دولت کا خلاصہ یہ تھا:

20 روپے!

یہ بیس روپے بھی میں نے اپنے لیے نہیں رکھے تھے۔ یہ کوئٹہ پہنچ کر گھر تک جانے والے رکشے کے لیے محفوظ تھے۔ یعنی میری جیب میں موجود آخری بیس روپے بھی پہلے ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرچکے تھے۔آخرکار اگلے دن فجر کے وقت بس نے مجھے کوئٹہ کے ہزارگَنجی بس اڈے پر اتار دیا۔

ایران کا سفر تو ختم ہوگیا تھا، لیکن ابھی ایک چھوٹا سا آخری مرحلہ باقی تھا: گھر پہنچنا۔میں نے رکشہ لیا۔ کرایہ 25 روپے تھا، جبکہ میری جیب میں صرف 20 روپے تھے۔ سو، گھر پہنچ کر باقی پانچ روپے گھر سے لیے اور رکشے والے کو ادا کیے۔اور یوں ایران کا میرا بارہ روزہ سفر ایک ایسی کیفیت میں اختتام پذیر ہوا جس کا شاید میں نے مشہد، تہران یا ایران کے کسی بھی شہر میں تصور نہیں کیا تھا۔ایک طرف ایران کے چھ شہر تھے، بارہ دن کی سیاحت تھی، ہزاروں یادیں تھیں، تاریخی مقامات تھے، حرمِ امام رضا تھا، بازار تھے، راستے تھے، اور دوسری طرف سفر کے اختتام پر جیب میں صرف بیس روپے اور پیٹ میں بچی ہوئی روٹی کے چند ٹکڑے!پورے سفر کا مالی حساب کیا تو معلوم ہوا کہ میں نے بارہ دن میں کل دس ہزار روپے خرچ کیے تھے اور ایران کے چھ شہروں کی سیاحت کی تھی۔یہ سفر 11 جولائی 2001 کو کوئٹہ کے نوا اڈے کے بس اسٹینڈ سے شروع ہوا اور 21 جولائی 2001 جو کوئٹہ کے ہزار گَنجی بازار کے  بس اسٹینڈ پر اختتام پذیر ہوا۔

اتنے کم پیسوں میں اتنا طویل سفر کیسے ہوگیا، اس کا ایک بڑا سبب یہی تھا کہ اُس وقت  ایرانی ریالوں کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ قدرے مستحکم تھا اور ایران پر صدر خاتمی کی حکومت تھی جو اصلاح پسند حکومت تھی اور امریکہ سے تعلقات بحالی کی طرف جارہے تھے۔

اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میرے مالی توازن کا اصل بگاڑ تو اسی وقت شروع ہوگیا تھا جب میں نے تہران سے مشہد جانے کے لیے ائیر ایران کا ٹکٹ خرید لیا تھا۔ اس ایک فیصلے نے میرے بجٹ پر وہ دباؤ ڈال دیا تھا جس کا پورا اثر سفر کے آخری مرحلے میں سامنے آیا۔اور شاید یہی سفر کا ایک سبق بھی تھا:جیب میں نوٹوں کی گڈیاں دیکھ کر خود کو امیر سمجھ لینا اور ان کی حقیقی قدر جانے بغیر خرچ کرتے رہنا، آخرکار آدمی کو نوکُندی کے کسی اندھیرے کونے میں بچی ہوئی روٹی کے ٹکڑے تلاش کرنے پر مجبور کرسکتا ہے!

خیر، میں گھر پہنچ گیا تھا۔ایران کا سفر ختم ہوچکا تھا، پیسے ختم ہوچکے تھے، ایرانی ریالوں کی گڈیاں قصۂ پارینہ  بن چکی تھیں، مگر بارہ دن میں دیکھے ہوئے چھ ایرانی شہر اور ان سے وابستہ سینکڑوں یادیں میرے پاس باقی تھیں۔اور شاید یہی کسی مسافر کا اصل سرمایہ ہوتا ہے۔پیسہ ختم ہوجاتا ہے، سفر ختم ہوجاتا ہے، مگر سفر کی کہانی ختم نہیں ہوتی۔ وہ آدمی کے ساتھ گھر واپس آتی ہے—اور پھر کبھی برسوں بعد بیٹھ کر وہی آدمی مسکرا کر کہتا ہے:

"ایران تو دس ہزار روپے میں گھوم آیا تھا، مگر واپسی پر بیس روپے نے میری پوری اوقات یاد دلا دی تھی!”

یہ سفرنامہ یہاں اختتام پذیر ہوتا ہے، مگر سفر شاید کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انسان واپس اپنے گھر آجاتا ہے، لیکن جو شہر، جو چہرے، جو راستے اور جو تجربات دل میں اتر جائیں، وہ پھر عمر بھر مسافر کو اپنے اندر لیے پھرتے ہیں۔ خاکِ فارس کا یہ مسافر بھی اب اپنے وطن لوٹ آیا ہے، مگر فارس کی خاک ابھی تک اس کے قدموں میں نہیں، یادوں میں لگی ہوئی ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں