’اس لمحے مجھے اندازہ ہوا کہ مجھے اس ٹیکنالوجی پر مکمل مہارت حاصل کرنی ہے۔‘
یہ الفاظ آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی سابا الیوا کے ہیں، جنہوں نے جون 2026 میں جنوبی چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر ڈونگ گوان میں منعقدہ ایک تربیتی پروگرام کے دوران پہلی بار مصنوعی ذہانت کے ذریعے فوٹو ایڈیٹنگ کا تجربہ کیا۔
سابا الیوا ان 51 خواتین میں شامل تھیں جو 10 مختلف ممالک سے چین آئی تھیں۔ یہ تربیتی پروگرام بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی خواتین کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے تاکہ وہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈیجیٹل تجارتی مہارتوں اور تکنیکی خودمختاری میں برتری حاصل کر سکیں۔
ان خواتین کا یہ تجربہ چین کی ان مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے جن کا مقصد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو خواتین کے لیے عملی مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔
اس نقطہ نظر کی تائید چینی صدر شی جن پنگ کی اہلیہ اور لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کی ترویج کے لیے یونیسکو کی خصوصی سفیر ‘پینگ لی یوان’ نے بھی کی ہے۔
جمعہ کے روز یونیسکو کی جانب سے خواتین و لڑکیوں کی تعلیم کے عالمی اعزاز کی تقریب سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے پینگ لی یوان نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ خواتین کے لیے فنی تعلیم و تربیت کو مضبوط بنائیں اور ڈیجیٹل و خودکار (انٹیلی جنس) تعلیم کا دائرہ وسیع کریں تاکہ وہ ان جدید ٹیکنالوجیز کے فائدے حاصل کر سکیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ چین نے تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے مصنوعی ذہانت کا بہترین استعمال کیا ہے جس سے تعلیمی میدان میں صنف کی تفریق ختم کرنے اور خواتین کی ہمہ جہت ترقی میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کا یہ تجربہ دنیا میں جنوب کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مشعل راہ ہے۔
خواتین کو تکنیکی طور پر بااختیار بنانے کی یہ طلب انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
‘انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن’ کی ایک تحقیق کے مطابق، اگر افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں ای کامرس کی مارکیٹوں میں خواتین کی شمولیت میں اضافہ ہو تو 2025 سے 2030 کے درمیان 300 ارب ڈالر سے زائد کی اضافی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔
چین اپنی قومی سطح کی ڈیجیٹل خواندگی اور دیہی ترقی کی سکیموں کے ذریعے خواتین کی تکنیکی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، جس میں تربیتی پروگرام اور خواتین کے زیرِ انتظام چلنے والے ای کامرس کاروباروں کی سرپرستی شامل ہے۔
سال 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، 14,147 خواتین نے AI ٹرینر کے طور پر پیشہ ورانہ مہارت کے سرٹیفکیٹ حاصل کیے، جو اس سال حاصل کیے گئے کل سرٹیفکیٹس کا 42.3 فیصد بنتا ہے۔
اس کے علاوہ، چین کے انٹرنیٹ سیکٹر میں نصف سے زائد کاروباری رہنما خواتین ہیں، جبکہ ڈیجیٹل تجارت، ای کامرس اور لائیو سٹریمنگ جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں کام کرنے والے افراد میں ایک تہائی تعداد خواتین کی ہے۔
چین ان تجربوں کو بین الاقوامی سطح پر بھی منتقل کر رہا ہے۔
جولائی 2025 میں قائم کیا جانے والا ’گلوبل ایکسچینج اینڈ کوآپریشن سینٹر فار ڈیجیٹل ایمپاورمنٹ آف ویمن‘ انہی اہداف کا عکاس ہے جن کا اظہار صدر شی جن پنگ نے 2024 کی شنگھائی تعاون تنظیم کے ویمن فورم کو بھیجے گئے تہنیتی پیغام میں کیا تھا۔ صدر شی نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ چین تمام فریقین کے ساتھ مل کر سائنسی و تکنیکی جدت طرازی اور ڈیجیٹل بااختیاری کے ذریعے خواتین کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔
مہارتوں کی تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ، چین شمولیت پر مبنی ڈیجیٹل حکمرانی کی بھی وکالت کرتا ہے۔
اپنے ‘بیلٹ اینڈ روڈ فورم’ کے تیسرے اجلاس میں چین نے ‘گلوبل AI گورننس انیشی ایٹو’ کے تحت مصنوعی ذہانت کی پیشرفت میں صنف کی تفریق اور تعصب کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’مصنوعی ذہانت کی صلاحیت سازی میں بین الاقوامی تعاون کے فروغ‘ کی منظور شدہ قرار داد میں بھی چین نے ڈیجیٹل شمولیت اور جنس کی مساوات پر زور دیا تھا۔
جیسا کہ پینگ لی یوان نے اپنے خطاب میں کہا ’لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم امید کے بیج بوتی ہے، خوابوں کی آبیاری کرتی ہے اور مسرتوں کا سامان لاتی ہے۔‘
چین عملی مہارتوں کی تربیت اور بین الاقوامی تعاون کو یکجا کر کے اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال کر سکیں، ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنیں اور جدید تکنیکی انقلاب کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔









