17 دن تک،جنگل میں گم ہوجانے والی خاتون

17 دن تک،جنگل میں گم ہوجانے والی خاتون کی حیرت انگیز کہانی

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ان کے بچنے کی وجہ ان کا حوصلہ نہ ہارنا تھا اور وہ خود کو یقین دلاتی رہیں کہ وہ اس مشکل سے نکل آئیں گی۔

ایڈم فاریسٹ۔۔۔۔۔۔
امریکی ریاست ہوائی کے جنگلات میں 17 روز تک گمشدہ رہنے کے بعد صحیح سلامت ملنے والی امینڈا ایلر کا کہنا ہے کہ ان کے بچنے کی وجہ ان کا حوصلہ نہ ہارنا تھا اور وہ خود کو یقین دلاتی رہیں کہ وہ اس مشکل سے نکل آئیں گی۔

35 سالہ فیزیکل تھراپسٹ اور یوگا انسٹرکٹر امینڈا ایلر گمشدہ ہونے سے پہلے آخری دفہ 8 مئی کو ہوائی کے جزیرے ماوی میں مکاو فارسٹ رزرو میں ہائک پر نکلتے دکھائی دی تھیں۔

ان کو گمشدہ قرار دینے کے کچھ ہی دیر بعد پولیس کو ان کی سفید ٹویوٹا پارکنگ ایریا میں کھڑی ملی۔ ان کا فون اور بیگ اس میں موجود تھا۔

تجربہ کار ہائکروں سمیت سینکڑوں لوگوں ان کی تلاش کو نکلے، جبکہ ان کے والدین کی جانب سے ان کو ڈھونڈنےوالے کو 10 ہزار ڈالر کا انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا جو ان کے ملنے سے کچھ گھنٹوں پہلے ہی بڑھا کر 50 ہزار ڈالر کردیا گیا تھا۔

ایلر جمعے کی شام کو ماکاواو کے گھنے جنگلات سے 17 دنوں کی تلاش کے بعد زخمی حالت میں ملیں جب ایک ہیلی کاپٹر ٹیم نے انہیں ایک گہرے چشمے کے نزدیک کھڑی ہاتھ ہلاتے دیکھا۔

ان کی تلاش میں شامل دوستوں اور رضاکاروں کا کہنا تھا کہ وہ جنگل میں اپنے جوتے کھو چکی تھیں اور سن برن کا شکار تھیں مگر اور زیادہ چوٹیں نہیں تھیں۔

ان کے دوست کریس برکسٹ نے اے بی سی نیوز کو بتایا: ’وہ ہوش میں تھیں۔ انہیں اپنے والد کا نمبر یاد تھا، انہیں پتہ تھا کہ وہ کون ہیں، کہاں ہیں اور کتنی دیر تک جنگل میں تھیں۔‘

ایلر کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا گیا اور ماوی میموریل ہسپتال لے جایا گیا۔ انہوں نے اپنے والد کو فون کرکے اطلاع بھی دی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، امینڈا ایلر نے اخبار نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ گمشدگی کے دوران وہ ہار نہ ماننے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے خود سے کہا کہ ان کے لیے صرف ایک ہی راستہ باقی بچا تھا، زندگی یا موت۔

ایلر نے کہا: ’مجھے محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی آواز مجھے کہہ رہی ہو کہ ’اگر تم جینا چاہتی ہو تو چلتی رہو۔‘ جب بھی میں اپنے اِلہام کے خلاف کسی شک کا شکار ہو کر کسی اور سمت مڑہتی تو مجھے کوئی طاقت روک لیتی۔ درخت کی کوئی شاخ مجھ پر گر جاتی، مجھے ٹھوکر لگ جاتی یا میں خود پھسل جاتی۔ پھر میں خود سے کہتی ’ٹھیک ہے، مجھے اسی راستے پر ہی جانا چاہیے۔‘‘

ایلر کے مطابق وہ ایک شارٹ ٹریل پر چہل قدمی کے لیے جانا چاہتی تھیں اور راستے سے کچھ دور آرام کرنے کی غرض سے رکیں، لیکن واپس آتے ہوئے راستہ بھول گئیں۔

انہوں نے کہا: ’میں اسی راستے سے واپس جانا چاہتی تھی جس سے میں آئی تھی لیکن میرا دل مجھے کسی اور سمت ہے لیے جا رہا تھا ۔ تو میں نے طے کیا کہ میری کار اس طرف موجود ہے اور مجھے وہاں تک چلتے رہنا چاہیے۔‘

وہ گاڑی تک واپس جانے کی کوشش کرتی رہیں مگر جنگل میں مزید اندر جاتی گئیں۔

ایلر کی دوست کیٹی کے مطابق وہ اس دوران ایک ڈھلان سے گر پڑیں جس سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور گھٹنے کے قریب بھی زخم آئے۔

ایلر نے کہا کہ گرنے کے بعد ان کے لیے چلنا مشکل ہو رہا تھا اور کچھ کھانے کو ڈھونڈنے میں بھی مشکل پیش آئی۔ ’میں کافی کمزور ہو رہی تھی اور مجھے لگ رہا تھا شاید میں زندہ نہیں بچ پاوں گی۔‘

آخر کار 17 دن بعد انہوں نے ایک ہیلی کاپٹر دیکھا، جو انہیں تلاش کرنے کے لیے ہی بھیجا گیا تھا۔ ’میں نے اوپر دیکھا تو وہ میرے سر کے عین اوپر پرواز کر رہا تھا۔ میں اتنی خوش تھی کہ میں رونا شروع کر دیا۔‘

اخبار ہونولولو سٹار ایڈورٹائزر اور ماوی پولیس کے ترجمان لیفٹینٹ گریک اوکاموٹو کے مطابق، ایلر کے دوست ہاوئیر کانٹلوپس کرس برکوئسٹ اور ٹروے ہیلمر کے ہمراہ انہیں ہیلی کاپٹر سے ڈھونڈ رہے تھے۔

کانٹلوپس نے بتایا: ’ایلر دو ابشاروں کے درمیان ایک گھاٹی میں موجود تھیں۔ وہ ہماری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا رہی تھیں۔ یہ ہمارے لیے نا قابل یقین تھا۔ اتنے دن کے بعد انہیں پہلی بار دیکھنا ہمارے لیے خوشی سے خالی نہیں تھا۔ وہ جس علاقے میں تھیں وہاں گھنے پودوں کی بہتات تھی، ایسے میں ان کا ہمیں نظر آجانا ایک معجزے سے کم نہیں۔‘

ایلر کی والدہ جولیا ایلر نے کہا: ’وہ پانی کی آبشاروں کے قریب رہنے کی وجہ سے زندہ رہی وہ وہاں موجود رس بھرے پھل اور جنگلی امرود کھا کے بھوک مٹاتی رہی۔ حتی کہ اس نے ایک دو پتنگے بھی کھا لیے۔ انہوں نے جھینگے پکڑنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ ان کا وزن کافی کم ہو چکا ہے۔ لیکن وہ زندہ ہے۔ ان کی جانب سے ٹھیک موقع پر ٹھیک اقدامات لیے گئے جن کی بدولت وہ زندہ رہ سکی اور ہمیں انہیں ڈھونڈنے کا موقع مل سکا۔‘

جولیا نے مزید کہا :’امینڈا کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے۔ ان کے ٹخنوں پر خراشیں آئی ہیں اور ان کی جلد دھوپ سے جل چکی ہے۔ لیکن ان کے حوصلے بلند ہیں اور یہ تمام زخم قابل علاج ہیں۔‘
(بشکریہ انڈی پینڈنٹ اردو)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں