ڈاکٹرعاصم اللہ بخش، کالم نگار 146

اسمبلی کا ایک اجلاس نہ ہوا اور پاکستان ٹوٹ گیا

ڈاکٹرعاصم اللہ بخش۔۔۔۔۔
اگر آپ اپنی مصروفیات سے کچھ وقت نکال پائیں تو برطانوی دارالعوام میں بریگزٹ پر جاری تند و تیز بحث اور اپوزیشن و حکومتی ممبران کے مابین گرما گرمی ضرور دیکھیں۔

برطانیہ ایک مستند اور قدیم جمہوریت ہے۔ معاملات نمٹانے کے ضابطے آزمودہ اور طے شدہ ہیں، پھر بھی درجہ حرارت اس قدر زیادہ ہے کہ توتکار کی نوبت ہے۔ برطانوی معاشرے کا روایتی رکھ رکھاؤ قطعی مفقود ہے۔ تاہم اس صورتحال سے کسی کو پریشانی نہیں۔

دراصل، جمہوریت جو سب سے مثبت کام کرتی ہے وہ یہی ہے کہ اختلاف رائے کو ملک کے کونوں کھدروں سے نکال کر ایک کمرے میں، ایک چھت تلے لے آتی ہے۔ اب کر لے جس نے جو بات کرنا ہے، کہہ لے جو کہہ سکتا ہے۔ کوئی روک ٹوک نہیں، کیونکہ اس سب کے بعد یہاں سے کوئی نہ کوئی سمجھوتہ ہی برآمد ہو گا اور گلشن کا کاروبار پھر سے چلنے لگے گا۔

تاہم اگر پارلیمان نہ ہو یا وہاں زباں بندی کا چلن فروغ پانے لگے تو پھر اختلاف رائے اس ایک کمرے سے نکل کر دور دراز پھیل جائے گا ، اس طرح بکھر جائے گا کہ اسے سمیٹنا مشکل ہو گا۔ ملک پارلیمان میں کی گئی گفتگو سے کبھی نہیں ٹوٹتے، بلکہ مزید مضبوط ہوتے ہیں کیونکہ اس کا نتیجہ انتشار کے بجائے کسی معاہدہ یا سمجھوتہ کی صورت اتفاق رائے بن کر سامنے آتا ہے۔

دوسری جانب۔۔۔ جب یہی باتیں سڑکوں پر کی جاتی ہیں تو وہ انتشار کا باعث بنتی ہیں کیونکہ اب ایسی بات کرنے والوں کی تعداد 342 کے ایوان میں 20 یا 25 بندوں سے بڑھ کر سینکڑوں ہزاروں تک جا پہنچتی ہے، جذبات انگیخت ہوتے ہیں اور پھر جلد یا بدیر ریاست سے ٹکراؤ کی صورت کوئی سانحہ یا المیہ رونما ہو کر رہتا ہے۔

شاید اسی لیے اسمبلی میں کی جانی والی تقاریر پر قانونی کاروائی سے تحفظ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ ملکی سلامتی و یکجہتی کے لیے وہ کام کرتی ہیں جو آپ ارب ہا ڈالر خرچ کر بھی نہیں کرسکتے۔

جب کبھی سوچتا ہوں، اگرتلہ سازش سچ ہی سہی، چھ نکات کا ضرر اپنی جگہ، مکتی باہنی اور بھارت کے ارادے بھی ایک حقیقت لیکن صرف اگر اسمبلی کا اجلاس بروقت بلا لیا جاتا تو کیا پھر بھی ملک ٹوٹ جاتا؟ مجھے ہر بار اس کا جواب نفی میں ہی ملتا ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیے، ہم نے صرف ایک اسمبلی اجلاس کی قیمت آدھا ملک گنوا کر چکائی۔

پارلیمان داخلی استحکام کے لیے ملک کی اولین اور اہم ترین دفاعی لائن ہے۔ اگر یہاں تلخ تقاریر ہوتی ہیں تو ہمیں خدا کا شکر کرنا چاہیے کہ یہ سب گلی کوچوں کی بجائے پارلیمان میں ہورہا ہے۔ جب تک یہ ایسے ہی جاری رہے گا اس ملک کے داخلی استحکام پر کبھی کوئی آنچ نہیں آئے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں