قاضی حسین احمد، سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان 179

ایک ہمالا جس کے قد سے پوری دنیا آشنا

ڈاکٹر میمونہ حمزہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قاضی صاحب چلے گئے، انّا للہ وانّا الیہ راجعون۔ کل من علیھا فان، ویبقی وجہ ربک ذی الجلال والاکرام۔ اس دل خراش خبر نے سب کو لرزا کر رکھ دیا۔ وہ مرد ِ مومن جن سے ایک باپ کی خوشبو محسوس ہوتی تھی، ہمیں یتیم کر گئے، بلکہ امت یتیم ہوگئی ہے۔

قاضی صاحب سے نہ معلوم کتنی پرانی شناسائی ہے، اتنا معلوم ہے کہ ہم نے اپنے والدین کو بہت محبت اور احترام سے یہ نام لیتے سنا، جہاد ِ کشمیر اور جہاد ِافغانستان کے دنوں میں ہر لحظہ متحرک دیکھا، اندرونی طور پر جماعت اسلامی کے کارکن میں تحرک پیدا کیا، کاروان ِ دعوت و محبت سے پورے پاکستان میں جماعت اسلامی کا مشن پہنچایا، ان کے لہجے میں دین کے دشمنوں کے لئے کاٹ تھی اور مسلمانوں اور تمام امت کے لئے محبت!!

ان کی محبت اتنی دلپزیر تھی کہ آج سے تقریباً تئیس برس قبل جب میں نے اپنے بیٹے سے پوچھا، (بالکل ایسے ہی جیسے مائیں محبت کے ثبوت کے لئے پوچھتی ہیں) کہ محمد کس کا بیٹا ہے؟ (تو اس کے بے ساختہ جواب نے مجھے حیران کر دیا) ”قاضی کا“۔میں جب کشمیر کے ترانوں کی ویڈیو چلاتی تو وہ ریوائنڈ کروا کر نعرے سنتا۔ مظفر آباد، اسلام آباد اور لاہور کی جہاد کانفرنسز، ریلیاں اور مظاہرے، اور دعوتی اور تربیتی پروگراموں سے خطاب، کارکنوں کو ہدایات، قاضی صاحب ایک شعلہء جوالا تھے۔

قاضی صاحب نوے کی دہائی میں برطانیہ کے شہر برمنگھم میں کشمیر کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے تھے، وہ دل کے آپریشن کے بعد پہلی مرتبہ برطانیہ آئے تھے، اناؤنسر نے قاضی صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اپنی صحت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اہل ِ کشمیر کی محبت میں اتنا سفر کر کے آئے ہیں، قاضی صاحب روسٹرم پر آئے تو انہوں نے مسکرا کر کہا: الحمد للہ میں بالکل ٹھیک ہوں، دوست بھی مطمئن رہیں، اور صف ِ دشمناں کو بھی خبر رہے کہ میں صحت مند ہوں۔ اور ان کے اس انداز سے ساری محفل کشت زعفران بن گئی۔

پاکستان میں 1993ء کے انتخابات میں اسلامک فرنٹ کے نام سے جماعت نے حصّہ لیا، عوامی ہونے کی کوشش میں ایک ناکام تجربہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف جماعت اسلامی سے کافی ارکان بد دل ہوئے اور تحریک ِ اسلامی کے نام پر ایک الگ جماعت بنا لی گئی، وہیں وہ وقت قاضی حسین احمدؒ صاحب کے لئے بھی بہت امتحان اور آزمائش کا تھا، کتنے ہی ساتھی ان پر عدم اعتماد کرکے الگ ہو گئے تھے،

کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی جیسے شہروں میں گھروں کے گھر اور خاندانوں کے خاندان اس انتشار کا شکار ہو گئے، اور بہت سی جگہوں پر بات فکری اختلاف سے بڑھ کر عدم اعتماد اور خیانت کے دعوے تک پہنچ گئی۔اور الزام تراشیوں کے طوفان کا گرد و غبار بیٹھا تو ان میں سے کئی ساتھیوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، پھر جماعت میں دوبارہ شمولیت تو نہ ہو سکی مگر تعلقات کافی حد تک معمول پر آگئے،

میاں طفیل محمد صاحب انتہائی بڑھاپے میں اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر قاضی صاحب تک پہنچے اور محبت کا اظہار کیا، نعیم صدیقی صاحب علیل ہوئے تو قاضی صاحب انہیں خود منصورہ واپس لے کر آئے، اور ابتدائی زمانے کی کدورت کافی حد تک دھل گئی۔ اس سارے پراپیگنڈے میں یہ بات بہت صاف ہو کر ظاہر ہو گئی کہ قاضی صاحب کے دامن پر خیانت کا کوئی ادنی سا داغ بھی نہ تھا، اس تجربے کو سیاسی غلطی ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ اگست 1993 میں جب میں طویل قیام کے بعد برطانیہ سے واپس آئی تو حالات انتہائی کشیدہ تھے، راولپنڈی کے جلسہ عام میں ایک خاتون نے سٹیج پر قاضی صاحب سے بد زبانی کی تھی، اور ان کی تقریر میں رکاوٹ پیدا کی، مگر قاضی صاحب نے گالیوں کا جواب نرمی اور دلیل سے دیا تھا، کمزوریوں کا اعتراف کر لیا تھا، اور نہ صرف ان کے کردار کی جیت ہوئی،بلکہ انتشار چاہنے والوں کا منصوبہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔

آئی ایٹ اسلام آباد میں مسجد ”الفرقان“ ہمارے گھر کے قریب ہی واقع تھی، رمضان المبارک میں تراویح کے لئے ہم سب جاتے، ایک دن خبر ملی کہ قاضی صاحب آرہے ہیں، میرا بیٹا ابراہیم (کلاس دوم کا طالب علم) بڑی خوشی سے بولا کہ: میں تو قاضی صاحب کے ساتھ نماز پڑھوں گا۔ اس نے جس قدر شوق سے کہا، میں اس کا دل نہ توڑ سکی، ورنہ اسے بتاتی کہ اتنے اکابرین کے درمیان ایک بچے کی خواہش تو شاید پروٹوکول کے تقاضوں کے بوجھ میں دب جائے،

تراویح ختم ہوئی تو معلوم ہوا کہ موصوف نے قاضی صاحب کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا کی ہے، اور صرف وہی نہیں بلکہ اس سے بڑے بیٹے احمد صاحب کو بھی قاضی صاحب نے اپنی دوسری جانب کھڑا کر لیا تھا، واپسی پر جب تک قاضی صاحب کی گاڑی نہ آئی ہم بھی وہیں کھڑے رہے اور قاضی صاحب ہمارے گھرانے کو محبت سے دیکھتے رہے۔

قاضی صاحب کا آخری اجتماعِ عام منعقدہ لاہور (شاید نومبر2009ء)میں آخری خطاب میں قاضی صاحب خود بھی دمِ رخصت آبدیدہ ہو گئے، اور ہم نے بھیگی آنکھوں سے خطاب سنا، اس روز واقعی لگتا تھا، شاید اب جنت ہی میں ملاقات ہو گی، (اللہ تعالی ہماری آرزو قبول فرمائے،آمین)

میں نے دو مرتبہ قاضی صاحب کو خواب میں دیکھا، اپنی سہیلی کو سنایا تو اس نے کہا، آپ اپنی کتابیں قاضی صاحب کو بھیجیں، ابھی کتابیں بھی ارسال نہ کی تھیں کہ ایک روز ایک میٹنگ میں ان کی بہو شیما کو دیکھ کر مجھے اچانک خیال آیا کہ قاضی صاحب سے اپنی ترجمہ کردہ کتاب کا دیباچہ لکھواؤں، شیما سے قاضی صاحب کا نمبر مانگا تو انہوں نے نہایت خوشی سے بتایا کہ قاضی صاحب سب فون خود سنتے ہیں، بس اسی سے حوصلہ ملا اور اگلے دن میں نے انہیں فون کر دیا، دیباچہ لکھنے کی فرمائش بھی، جو انہوں نے بہت آسانی اور خوشی سے مان لی، اور کہا مسودہ بھجوا دیں۔

انہوں نے عربی سے تراجم کرنے پر میری بہت حوصلہ افزائی بھی کی اور جب میں نے انہیں بہت مان سے کہا کہ: قاضی صاحب، مجھے دعا دیں۔ تو انہوں نے مجھے دعا بھی دی۔ میں نے انہیں ”صرف پانچ منٹ“ کا مسودہ بجھوا دیا، ایک آدھ مرتبہ کنفرم کرنے کے لئے فون کیا، اور پھر ان کے مدد گار کا فون آیا، کہ آپ اپنی تحریر وصول کرلیں۔

قاضی صاحب نے انتہائی مصروفیت کے باوجود پورا مسودہ پڑھ کرتقریظ لکھی، (حالانکہ اکثر لوگ بعض حصّوں ہی کے مطالعے کو کافی سمجھتے ہیں) اور ان کا ایک ایک لفظ امت کے غم میں ڈوبا ہوا تھا، اور یہ محض اتفاق تھا یا تدبیر کے انہوں نے ”16 دسمبر 2011“ یوم سقوطِ ڈھاکہ پر اسے لکھ کر اس کے درد کو کئی گنا بڑھا دیا۔

قاضی صاحب کا دل امت مسلمہ کے لئے دھڑکتا تھا، ہمارے ایک ماموں جو اسلامک فرنٹ کے دنوں میں قاضی صاحب کے کافی مخالف ہو گئے تھے، کچھ برس بعد ان سے ملاقات ہوئی تو بولے: میں قاضی صاحب کے پیچھے جمعہ پڑھنے کے لئے منصورہ مسجد جاتا ہوں، (حالانکہ وہ گھٹنوں کے عارضے میں مبتلا تھے)، میں نے حیرت سے اس تبدیلی کی جانب دیکھا، کہنے لگے: قاضی صاحب کی دو صفتیں بہت نمایاں ہیں، ایک قرآن کو محبت سے پڑھنا، اور دوسرا، امتِ مسلمہ کا درد۔ (اور کمزوریاں کس میں نہیں ہوتیں، حدیث کے مطابق: کل بنی آدم خطاؤن، وخیر الخطائین التوابون۔ (الترمذی، ابن ِ ماجہ) سب ابن ِ آدم خطا کار ہیں، اور سب سے اچھے خطا کار توبہ کرنے والے ہیں)۔

سابقہ ناظمہ اعلی اسلامی جمیعت طالبات پاکستان مرحومہ بدر النساء صاحبہ جن کا جمیعت سے اخراج کیا گیا تھا، قاضی صاحب کا بہت محبت سے تذکرہ کرتی تھیں کہ ان کے گھر سے ہمیشہ انہیں محبت ہی ملی، بلکہ اپنی بیٹیوں کی تربیت بھی قاضی صاحب نے ان کے سپرد کی۔

قاضی صاحب جب امیر جماعت نہ بھی رہے تو انہوں نے بھرپور اجتماعی زندگی گزاری اور پاکستان اور اہل ِ پاکستان کے لئے مثبت سوچتے رہے، انہوں نے بلا جماعتی تخصیص تھنک ٹینک بنایا اور تعمیر ِ پاکستان میں اپنا کردار ادا کیا۔

میں نے سید اسعد گیلانی کے فرزند فاروق اسعد گیلانی کے جنازے پر انہیں دیکھا، جن کی بھرپور جوانی میں اچانک وفات ہو گئی تھی، اور میت کے پاس بیٹھی خواتین میں ان کی والدہ، بیوی اور تین بیٹیاں تھیں، سب کا غم سے برا حال تھا، قاضی صاحب میت اٹھانے خود آگے بڑھے اوربہت محبت سے کہا:
ہم اپنے بھائی کی میت اٹھانے لگے ہیں، بے صبری کا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکلے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی، (کل نفسٍ ذائقۃ الموت، وانّما توفّون اجورکم یوم القیامۃ، فمن زحزح عن النّار وادخل الجنّۃ فقد فاز، وما الحیاۃ الدّنیا الّا متاع الغرور) (آل عمران۔185) (آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو، کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے، رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔)اور واقعی زندگی کی بے ثباتی کا ایسا نقشہ کھینچا کہ صبر آنے لگا۔

قاضی صاحب کو اللہ تعالی نے چلتے پھرتے ہی اٹھا لیا، وہ آخر تک ایک ذمہ دار مسلمان کی مانند جئے، بقول علامہ اقبال:
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں، میں اسی لئے نمازی

میں ان کی وفات پر ان کے گھر حیات آباد گئی، تو کئی چیزیں نگاہوں میں کھب گئیں، ایک بڑا سا گھڑیال جو کسی قدِ آدم ڈائس کے برابر تھا، اور ڈرائنگ روم میں نمایاں طور پر رکھا تھا، نہ صرف قاضی صاحب کی زندگی میں وقت کی اہمیت اور اس کی پابندی کا گواہ تھا، بلکہ آنے والوں کے لئے بھی گھڑی کی ٹک ٹک میں وقت کے سود و زیاں کا پیغام لئے ہوئے تھا۔ ان کی بیٹی سمیحہ راحیل نے بتایا کہ وہ بیرون ِ ملک (شاید تعلیم کی غرض سے گئے تو) وہاں سے واحد تحفہ لائے تھے۔

دو سری اہم چیز ڈرائینگ روم میں کتابوں کی الماری تھی، جس میں موجود کتابیں ان کے اعلی ذوق اور زندگی کے رخ کی گواہ تھیں، خوبصورت قرآن مجید کے نسخے، عربی، فارسی، پشتو کتابیں، بلکہ افغان لیڈر گل بدین حکمت یار کی سرِ ورق تصویر والی کتاب (نام یاد نہیں) اس الماری کے علاوہ ان کے سونے کے کمرے میں بھی موجود تھی، ایک چھوٹی لائبریری ان کے سونے کے کمرے میں بھی تھی، ان کی کتابوں سے محبت، اور تعلق کا جیتا جاگتا ثبوت۔ اور وہ شخص جس کے ہر خطاب میں کلام ِ اقبال کا خوبصورت انتخاب ہو اس کی لائبریری کلام اقبال سے محروم کیسے ہو سکتی ہے۔

قاضی صاحب کے گھر کی سجاوٹ بھی قرآنی آیات کی کیلی گرافی پر مشتمل تھی، جس میں سب سے نمایاں، آیت الکرسی تھی، اس بڑھ کر اور تذکیر کیا ہو سکتی ہے کہ بندہ اپنے رب کو پہچان لے۔

آج جو شخص منوں مٹی تلے سو رہا ہے، اس سے ملنے والے اسے کہاں بھول پائیں گے، کہ اس نے اسلام کو دلوں میں مضبوط بنایا تھا، امت ِ مسلمہ کے دلوں کو آپس میں جوڑنے اور فرقہ وارنہ اختلافات دور کرنے کے لئے وہ ایک ایک دروازے پر دستک دیتا تھا، جو پاکستان کو صاف شفاف اور دیانت دار قیادت دینے کے لئے رات دن ایک کرتا تھا، جس کی نگاہ صرف پاکستان نہیں، پوری دنیا کے مسلمانوں پر تھی، اور اس کا دل سب کے لئے کھلا ہوا تھا، اور اس کا چہرہ ان سب کے ذکر سے کھل اٹھتا تھا، سینے سے ایک آہ اٹھتی ہے:
کہاں سے لاؤ گے ایسا راہبر لوگو
تمہیں خبر ہے کہ یہ کون مر گیا لوگو

قاضی صاحب چلے گئے مگر ان کا پیغام زندہ ہے، یہ وہی پیغام ہے جس کی آواز سید ابو الاعلی مودودیؒ نے لگائی تھی، قاضی صاحب کا بھی اس کو طاقت پہنچانے میں بڑا حصّہ ہے۔ اللہ تعالی ان کی معفرت فرمائے اور انکے درجات بلند کرے آمین۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں