خزاں رسیدگی اور عورت 158

بہار ہو یا خزاں، ہمیشہ استعارہ عورت ہی کیوں؟

رقیہ اکبرچودھری۔۔۔۔۔۔
آج خزاں کی آمد پر ایک تحریر پڑھتے ہوئے ایک لائن نے گویا میرے قدم روک لئے۔۔
میں ٹھٹھک کر وہیں رک گئی یقین مانئے آگے کی تحریر نہیں پڑھ سکی ،پڑھی ہی نہیں گئی لکھا تھا۔۔

“کہیں درخت کسی اجڑی سہاگن سا سوگ مناتے نظر آئے”

میں سوچنے لگی کہ اجڑے موسم کی بات ہو یا اجڑی سونی گلیوں کی ، خزاں رسیدگی پہ گفتگو کی جائے یا بہار میں کھلتے پھولوں کی ،ہمیشہ استعارہ عورت ہی کیوں۔۔؟

کیا مرد نہیں اجڑتے۔۔۔
کیا ان کے گھر نہیں ٹوٹتے۔۔
کیا بیویوں کے دنیا سے چلے جانے پہ ان کے دل نہیں دکھتے۔۔۔
یا محبوبہ کی بےوفائی پہ وہ بن باس نہیں لیتے۔۔۔
جوگی نہیں بنتے۔۔۔
کیا وجہ ہے ہمیں ان کا دردنظر کیوں نہیں آتا۔۔۔۔۔۔؟

خزاں کے پیلے زرد ،چرمراتے پتے دیکھ کر عورت ہی کا اجڑنا کیوں ذہن میں آتا ہے مرد کے چہرے کی پیلاہٹ ، کسی بہت اپنے کے چلے جانے سے دل کا درد ہمیں محسوس نہیں ہوتا یا ہم رقم ہی نہیں کرنا چاہتے۔۔؟؟

مرد بھی روتے ہیں۔ مانا کہ ان کے آنسو تکیہ نہیں بھگوتے ، دل کی زمین تو گیلی بھربھری مٹی کی مانند ہو جاتی ہے تو اس پہ کیوں نہیں لکھتے۔۔۔؟

یا اگر وہ خوش ہوں تو بہاروں میں پھولوں کا کھلنا ان سے منسوب کیوں نہیں کیا جاتا۔۔۔
یہ ہمیشہ کنواری کنیا ہی کیوں ادھ کھلے پھولوں کا استعارہ بنتی ہے۔۔۔مسیں بھگوتا پندرہ سولہ سال کے لڑکا کیوں نہیں۔۔؟
حالانکہ لفظ پھول تو ہے بھی مذکر۔۔۔

یہ خوشی کے ساتوں رنگ ، دھنک جیسے صرف نئی نویلی دلہن کے چہرے پہ ہی کیوں نظر آتے ہیں دلہے کے چہرے پہ کیا رات کی سرمستی و خوشی کا رنگ نہیں جھلکتا۔۔۔۔؟
اگر جھلکتا ہے تو لکھا کیوں نہیں جاتا۔۔۔۔

خوشی ،درد ،دکھ ،اجڑنا ،بسنا ،ہنسنا ،رونا جیسے استعارے عورتوں کے نام اور۔۔۔۔

پہاڑوں جیسا سنگلاخ۔۔۔۔
پتھر جیسا سخت دل۔۔۔۔۔
اور
بے وفائی کا استعارہ مرد ۔۔۔۔

ایسا کیوں ہے؟؟
آپ کا کیا خیال ہے؟
کیا یہ سب اس لئے کہ مرد اپنے جذبات پر قابو رکھ لیتا ہے اپنا درد ،دکھ اور خوشی لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتا یا۔۔۔

مرد اتنا دکھی کبھی ہوتا ہی نہیں۔۔۔؟
مرد کیلئے سب بھلا کر آگے بڑھنا بہت آسان ہوتا ہے اور عورت وہیں رک جاتی ہے یا بزور روک دی جاتی ہے۔۔۔؟
اپنے رائے دیجئے پلیز۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں