کرکوک،عراق میں مسلمان خواتین قبرستان میں 252

رب العالمین کے محبوب کی مرحوم امت کا آخری مرثیہ

مدثر محمود سالار۔۔۔۔۔۔۔۔
امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نوحہ لکھنے کے لیے قلم اور ورق کی حاجت ہے مگر قلم کو ڈبونے کے لیے خون ناپید ہے۔ گو لکھنے کے لیے سیاہی بھی استعمال ہوسکتی ہے مگر ڈیڑھ ارب چہروں پر ملتے ملتے اب سیاہی بھی ختم ہوگئی ہے۔

بھلا ہو امتِ عیسیٰ و موسیٰ کا جس نے لمس سے لکھنے والے کی بورڈ ایجاد کردیے ورنہ بٹن والے کی بورڈ بھی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی غیرت جگانے سے قاصر تھے۔ امت کو اب اس بات کی بالکل پرواہ نہیں ہے کہ کی بورڈ سے اس امت کا نوحہ لکھا جائے یا بصری مناظر پر مشتمل نوحہ تیار کیا جائے۔

حرص و ہوس نے اس قوم کو اپنے جال میں ایسا جکڑ لیا ہے کہ یہود و نصاری بھی اس قوم کے سامنے ہیچ ہیں۔ پیسے اور جسم کی ہوس سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ شراب پی کر بہکنے والے حیران ہیں کہ قرآن و سنت کے حاملین بغیر مے نوشی کیسے انسانیت کے جامے سے باہر آگئے۔

قصائی اپنے آباء و اجداد سے شرمندہ ہیں کیونکہ امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نے کم سن بچوں کو ذبح کرکے جس مہارت کا ثبوت دیا ہے وہ مہارت قصائی کے پاس بھی نہیں ملتی۔ اس امت کو اس کے زعماء نے بہکا دیا ہے۔ ان منبر نشین لیڈروں نے اس قوم کو بے حیائی پر یہ کہہ کر ابھارا کہ تم امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہو تم پہ خدائے لا شریک کا عذاب نہیں آئے گا۔ جس قوم سے انسانیت ختم ہوجائے اسے مزید کس عذاب کا انتظار ہے؟

ظلم کو سہارا دے کر عروج پر پہنچانے والے ظلم کے خلاف کب کھڑے ہوسکتے ہیں؟ استحصال کا نظام جس قوم کی بنیاد میں شامل ہو وہ قوم عدل و انصاف سے کنارہ کش رہتی ہے۔ جس قوم کا فرد محافظ بن کر اپنی ہی ملت کے بیٹوں اور بیٹیوں کے جسموں کے چیتھڑے گلیوں چوراہوں میں پھینکتا ہو اسے کسی بیرونی جابر و غاصب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

تاریخ لکھنے والوں نے ابتدا سے ہی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس امت کو بطور ہیرو دنیا کے سامنے پیش کیا ، جب کہ حقیقت میں اس امت نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے رحلت فرمانے کے بعد آہستہ آہستہ خود کو بنی اسرائیل کی طرز پر ڈھال لیا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ بنی اسرائیل کو سمجھانے کے لیے تو مسلسل انبیاء آتے رہے مگر اس ملت کے لیے نبوت کا دروازہ تاحشر بند کردیا گیا۔ جائو جو مرضی کرو یا قرآن و سنت کی پیروی اختیار کرلو یا گمراہی کے گڑھوں میں کود جائو۔

اس امت نے اس قرآن کو ہلکا سمجھ کر نظر انداز کیا جو پہاڑوں پر اترتا تو پہاڑ اس کی ذمہ داری لینے سے قاصر تھے۔

کہاں بنی اسرائیل کا چالیس سال بھٹکنا اور کہاں امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان کہ چودہ سو سال سے ذلت کی شکار ہے۔ اس امت نے حرمتِ کعبہ کی لاج نہیں رکھی ، اس امت نے انسانی جان کی لاج نہیں رکھی، اس قوم کو بچوں، عورتوں اور ضعیفوں پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے جو لطف ملتا ہے وہ بنی اسرائیل کو انکارِ خدا میں بھی نہیں ملتا تھا۔

فرقہ بندی و گروہ بندی سے فرصت ملتی تو اس قوم کو انسان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا۔ انسان کو چیونٹی سے کم تر سمجھنے والی یہ امت چار پانچ سال کے بچوں کو تڑپا تڑپا کر مارتی ہے اور ڈیڑھ ارب وحشی خاموشی سے تکتے ہیں۔ ڈیڑھ ارب وحشیوں میں ایک صد بھی ایسے نہیں جو معصوم بچوں کے قاتلوں کو عبرت کا نشان بناسکیں۔

مصلحت و جانبداری سے لبریز یہ امت تاریخ میں اپنا نام بے حس انسانوں کے ریوڑ کی حیثیت سے لکھوا رہی ہے۔ اس امت میں خیر کا نشان کہاں باقی رہا ہے؟ عربی نے عربی کو نشانہ بنارکھا، ترکوں نے کردوں کو تہہ تیغ کیا ہوا، پاکستانیوں نے بنگالیوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کررکھا ہے۔ کیا عربی کیا عجمی ہر شخص ظلم و بربریت کا ورلڈ ریکارڈ بنانے کی تگ و دو کررہا۔

اس امت کا نوحہ لکھا جائے یا ہجو کی جائے؟ یہ قوم اب اس بات کی مستحق بھی نہیں لگتی کہ اسے جھنجوڑا جائے، اسے جگایا جائے۔ جس قوم سے خالقِ کائنات نے رحمت و کرم کا ہاتھ اٹھالیا ہو اسے مزید کس بدبختی کی حاجت رہی؟ ظلم و شقاوت سے معمور یہ امت عزت کی دستار سے محروم ہے۔ اس قوم کا مرثیہ آسمانوں پر گایا جارہا ہے۔ رب العالمین کے محبوب کی مرحوم امت کا مرثیہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رب العالمین کے محبوب کی مرحوم امت کا آخری مرثیہ” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں